قومی رحمت للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی کے چیئرمین خورشید ندیم نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا مکہ معاہدہ مسلم دنیا کے اتحاد، مشترکہ دفاع اور باہمی تعاون کی جانب ایک اہم پیشرفت ہے۔
’وی نیوز‘ کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ یہ معاہدہ مسلم ممالک کے درمیان ایسا مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے کی کوشش ہے جو کسی دوسرے ملک کے لیے خطرہ بنے بغیر امن اور استحکام کو فروغ دے۔
مزید پڑھیں: مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، آپریشنل تفصیلات عوامی سطح پر شیئر نہیں ہوتیں: ترجمان پاک فوج
خورشید ندیم نے کہاکہ مکہ معاہدہ ایک صدی کے دوران مسلم ممالک کے درمیان سیاسی ہم آہنگی اور مشترکہ حکمت عملی کے قیام کی جانب ایک قابل ذکر قدم ہے۔ اس کے ذریعے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اپنی الگ قومی شناخت اور ریاستی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے حرمین شریفین کی مرکزیت کو سامنے رکھا ہے۔
ان کے بقول، پاکستان کے لیے اس پیشرفت کی اہمیت غیر معمولی ہے، کیونکہ اس سے ملک کے دفاعی، معاشی اور سفارتی تعلقات کو نئی جہت مل سکتی ہے۔ سعودی عرب اور ترکیہ جیسے اہم مسلم ممالک کے ساتھ مشترکہ لائحہ عمل پاکستان کے عالمی کردار اور جنوبی ایشیا میں اس کی نمائندگی کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
’مکہ معاہدہ علامہ اقبال کے تصورِ اتحاد کی عملی شکل‘
خورشید ندیم نے کہاکہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے اور دنیا میں قومی ریاستوں کے قیام کے بعد مسلم دنیا کو یہ سوال درپیش رہا کہ الگ الگ ریاستوں کی موجودگی میں باہمی اتحاد اور سیاسی تعاون کس طرح قائم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ علامہ اقبال نے اس مسئلے پر غور کرتے ہوئے لیگ آف نیشنز کی طرز پر مسلم ریاستوں کے درمیان ایک مشترکہ نظامِ تعاون کی ضرورت اجاگر کی تھی۔ اس تصور کے تحت ہر ریاست اپنی الگ حیثیت برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ اصولوں اور ضابطوں کے مطابق باہمی معاملات طے کر سکتی ہے۔
ان کے مطابق مکہ معاہدے کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ موجودہ عالمی نظام کو چیلنج کیے بغیر مسلم ممالک کے درمیان اتحاد اور مشترکہ دفاع کی بنیاد مضبوط کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ اور حرمین شریفین مسلم دنیا کی روحانی مرکزیت کی علامت ہیں۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے اپنے اپنے قومی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے اس مرکزیت کے ساتھ اپنے تعلق اور باہمی تعاون کو عملی صورت دینے کی کوشش کی ہے۔
پاکستان کے لیے دفاعی، سفارتی اور معاشی اہمیت
چیئرمین قومی رحمت للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی نے کہا کہ پاکستان کی بنیاد مسلم شناخت اور دو قومی نظریے پر رکھی گئی، اس لیے مسلم دنیا کے اہم ممالک کے ساتھ اس کا تعاون خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی اہمیت حرمین شریفین کی موجودگی اور ان کے متولی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ساتھ اس کے دیرینہ دوستانہ تعلقات کی وجہ سے بھی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور دفاعی شعبوں میں تعاون موجود ہے، جبکہ لاکھوں پاکستانی روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک میں مقیم ہیں۔
خورشید ندیم کے مطابق ترکیہ کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی بنیاد تاریخی، روحانی اور جذباتی روابط پر بھی قائم ہے، جن کا تعلق خلافت عثمانیہ کے دور سے جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ میں پاکستانیوں کے لیے پائے جانے والے احترام اور دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو بھی اس تناظر میں اہمیت حاصل ہے۔
ان کے بقول، جب سعودی عرب اور ترکیہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو یہ محض سفارتی تعلقات کی پیشرفت نہیں رہتی بلکہ اس سے پاکستان کے دفاعی اور معاشی امکانات کو بھی تقویت ملتی ہے۔ اس تعاون سے پاکستان کی عالمی حیثیت میں اضافہ اور بڑے بین الاقوامی معاملات میں اس کے کردار کے لیے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج اور دفاعی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی دفاعی قوت پہلے ہی اہم ہے اور تینوں ممالک کے درمیان تعاون اس کی بین الاقوامی حیثیت کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں دنیا اور آخرت کی بھلائی
خورشید ندیم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رشتہ معاشی اور دفاعی تعاون سے بڑھ کر روحانی وابستگی بھی رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے مختلف معاشی مشکلات کے دوران پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کے حوالے سے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ بڑی تعداد میں پاکستانی سعودی عرب میں روزگار حاصل کرتے ہیں اور وہاں سے ترسیلاتِ زر بھیجتے ہیں، جبکہ ہر سال لاکھوں پاکستانی مذہبی مقاصد کے لیے سعودی عرب کا سفر کرتے ہیں۔
ان کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں مادی فوائد کے ساتھ حرمین شریفین کی وجہ سے ایک منفرد روحانی پہلو بھی شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تعلقات میں مزید پیشرفت پاکستانی عوام کے لیے خوشی اور اطمینان کا باعث بنتی ہے۔
مکہ معاہدے کے خلاف پروپیگنڈا کیوں ہو رہا ہے؟
خورشید ندیم نے مکہ معاہدے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید اور مبینہ پروپیگنڈے کے بارے میں کہاکہ بعض قوتیں مسلم ممالک کے اتحاد اور تعاون کو اپنے مفادات کے لیے ناموافق سمجھتی ہیں، اس لیے وہ عوام میں ابہام اور الجھن پیدا کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کا مضبوط اور متحد ہونا بعض مخالف قوتوں کو پسند نہیں، خصوصاً اسرائیل کے لیے یہ صورت حال تشویش کا باعث ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے مسلم ممالک کے درمیان تصادم کو روکنے اور انہیں ایک دوسرے کے خلاف لڑنے سے بچانے کی کوشش کی ہے۔
خورشید ندیم نے کہا کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی اس کردار کو سمجھیں تو انہیں پاکستان کے اقدامات کو سراہنا چاہیے، کیونکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تمام متعلقہ ممالک کے مفاد میں ہیں۔
گوادر کی ترقی اور پاکستان کی بڑھتی اہمیت
چیئرمین اتھارٹی نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور گوادر بندرگاہ کی ترقی بھی بعض حلقوں کے لیے تشویش کا باعث ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق گوادر ایک گہرے پانیوں کی بندرگاہ ہے اور اس کی ترقی عالمی معاشی منظرنامے میں اہمیت رکھتی ہے۔ اس سے بحیرہ عرب اور خطے کے سمندری تجارتی راستوں سے وابستہ بعض معاشی مفادات متاثر ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض حلقے پاکستان کی پیش رفت کو مشکوک بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور علاقائی کردار کے حوالے سے بعض حلقوں میں حسد یا تشویش پیدا ہونا ممکن ہے، تاہم ان کے خیال میں مکہ معاہدے کو اس بنیاد پر متنازع بنانے کی کوئی معقول وجہ نہیں۔
خورشید ندیم نے کہا کہ دنیا میں مختلف ممالک اپنے مشترکہ مفادات کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی تنظیمیں قائم کرتے رہے ہیں۔ یورپی یونین، سارک، برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم اس نوعیت کے تعاون کی مثالیں ہیں، جن کے ذریعے ممالک اپنے مفادات کے مطابق مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں۔
ان کے مطابق مکہ معاہدہ بھی اسی نوعیت کی ایک پیش رفت ہے، جس کا مقصد مسلم ممالک کے درمیان اتحاد، معاشی استحکام، باہمی تعاون اور دفاعی اشتراک کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں دوسرے مسلم ممالک کی شمولیت کے لیے بھی گنجائش موجود ہے۔ جو ممالک اس کے مقاصد سے اتفاق کرتے ہیں، وہ اس تعاون کا حصہ بن سکتے ہیں۔ ان کے بقول، اس اقدام کو کسی مخصوص ملک کے خلاف سمجھنے کے بجائے اس کے ممکنہ مثبت اثرات کو دیکھنا چاہیے۔
سوشل میڈیا پر غلط معلومات کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟
سوشل میڈیا پر مکہ معاہدے کے خلاف مبینہ منفی مہم کے تدارک کے حوالے سے خورشید ندیم نے کہا کہ اس کا مؤثر جواب حقائق کی وضاحت، دلائل کی فراہمی اور شائستہ مکالمے کے ذریعے دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اصل صورت حال سے آگاہ کرنا، درست معلومات فراہم کرنا اور مخالف مؤقف کا دلیل کے ساتھ جواب دینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ایسے پروگراموں کا مقصد بھی یہی ہونا چاہیے کہ عوام کے سامنے حقائق رکھے جائیں اور انہیں معاملات کو سمجھنے کا موقع ملے۔
مزید پڑھیں: مکہ معاہدہ امن کے لیے دفاعی چھتری، سعودی وژن 2030 میں پاکستانیوں کے لیے بڑے مواقع ہیں، عبدالرحمان حیات
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر مکالمے اور متبادل بیانیے کے ذریعے غلط فہمیوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ ان کے خیال میں بے دلیل پروپیگنڈا زیادہ دیر قائم نہیں رہتا اور حقائق سامنے آنے کے بعد ایسی مہمات خود بخود کمزور پڑ سکتی ہیں۔










