وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں موجودہ حکومتی سیٹ اپ کی پہلی ترجیح دہشتگردی کا خاتمہ ہے اور صوبے میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی مکمل کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا، یہ کام ہفتوں یا مہینوں میں ہوجائے گا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ خفیہ اداروں کی کارکردگی بہترین ہے اور حکومت کو معلوم ہے کہ دہشتگردوں کی تعداد کتنی ہے اور وہ کن علاقوں میں موجود ہیں۔
مزید پڑھیں: عوام کو دہشتگردی سے نجات دلانا اور خیبرپختونخوا میں پائیدار امن قائم کرنا اولین مقصد ہے، امیر مقام
انہوں نے کہاکہ دہشتگردوں کی ایک تشکیل میں کم از کم 3 اور زیادہ سے زیادہ 15 افراد شامل ہوتے ہیں، جبکہ ان کی 70 فیصد تشکیلیں حساس علاقوں میں موجود ہیں۔
رانا ثنااللہ کے مطابق دہشتگرد ان علاقوں کی مقامی آبادیوں میں گھل مل گئے ہیں یا وہیں رہائش پذیر ہیں۔
انہوں نے کہاکہ متعلقہ علاقوں کے مکینوں سے کہا گیا ہے کہ دہشتگردوں کو اپنی آبادیوں سے نکال دیں، اور اگر وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے تو ایک طرف ہوجائیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے آپریشن کرسکیں۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ اگر ان دونوں میں سے کوئی بھی صورت ممکن نہ ہو تو پھر آپریشن کے دوران ضمنی جانی و مالی نقصان، یعنی کولیٹرل ڈیمج، کا خطرہ موجود ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ سہیل آفریدی کی حکومت لوگوں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرنے سے منع کرتی تھی۔
’دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تحریک انصاف سے بھی تعاون کی امید ہے‘
رانا ثنااللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں اب گورنر کی زیرصدارت حکومتی سیٹ اپ کام کررہا ہے، جس کی اولین ترجیح دہشتگردی کا خاتمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان تحریک انصاف سے بھی تعاون کی امید ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف آپریشن مکمل ہوجائے تو صوبے کے حالات دوبارہ معمول پر لائے جاسکتے ہیں۔
’محمود اچکزئی ہمارے بھائی ہیں، ان کا احترام کرتے ہیں‘
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی آئیں، وزیراعظم ہاؤس میں ان کے ساتھ ملاقات کی جائے گی اور معاملات پر بات چیت ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ محمود اچکزئی کا احترام کرتے ہیں، وہ ہمارے بھائی ہیں ماضی میں بڑا ساتھ دیا، لیکن وہ ضد کررہے ہیں اور اس سطح کی قیادت کو ایسا رویہ زیب نہیں دیتا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی دہشتگردوں سے مل گئی تھی، افغان رجیم کے ساتھ ریاست کے برعکس اپنی پالیسی چلائی، وفاقی وزرا
حفاظتی حراست سے متعلق ایک سوال کے جواب میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ حفاظتی حراست ایک الگ معاملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص مہمان کے طور پر آئے اور آپ اسے بٹھا لیں تو اسے حفاظتی حراست کے معنی میں نہیں لیا جاسکتا۔











