وفاقی حکومت کے 2 اہم وزرا نے ایک مرتبہ پھر دعوٰی کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبہ خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردوں سے مل چکی تھی اور ان کے خلاف کاروائیوں کی بجائے ان کے سہولتکار کا کردار ادا کر رہی تھی جس کی وجہ سے ہنگامی حالت نافذ کر کے گورنر راج لگانا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر راج مختصر مدت کے لیے نہیں، خیبرپختونخوا میں بیوروکریسی کی بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے اسلام آباد میں انٹرنیشنل میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے حتی الامکان کوشش کی کہ گورنر راج نہ لگانا پڑے لیکن پی ٹی آئی دہشتگردوں کے خلاف کاروائی کرنے پر آمادہ نہیں ہو رہی تھی۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس موقع پر سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم بہت پہلے بذات خود ایمرجنسی لگا سکتے تھے لیکن انہوں نے ا سے اجتناب کیا اور وفاق پوری کوشش کرتا رہا کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات کامیاب ہو جائیں لیکن وہ دہشتگردی کے خلاف کاروائیوں پر آمادہ نہیں تھے۔ انہوں نے کہا گورنر راج کے خاتمے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے اگرچہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ پی ٹی آئی صورتحال کو بہتر بنائے اور حکومت بحال ہو جائے لیکن لگتا نہیں کہ ایسا ہو۔
اس موقعے پر وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ریاست پاکستان کے برعکس افغان رجیم کے متعلق اپنی الگ حکمت عملی رکھتی تھیْ
انہوں نے کہا کہ نیشنل فننانس کمیشن (این ایف سی) سے 800 ارب روپے حاصل کرنے کے باوجود انہیں دہشتگردی کے خاتمے کے لئے استعمال نہیں کیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نہ تو آلات خرید کر دئیے اور نہ ہی کوئی سہولیات فراہم کیں۔
مزید پڑھیے: عوام کو دہشتگردی سے نجات دلانا اور خیبرپختونخوا میں پائیدار امن قائم کرنا اولین مقصد ہے، امیر مقام
انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں نان کسٹم گاڑیاں اور غیر رجسٹرڈ موٹورسائیکل نہ صرف صوبائی خزانے میں کمی کا باعث تھے بلکہ ان کی وجہ سے دہشتگردی کو بھی فروغ مل رہا تھا لیکن صوبائی حکومت نے اس طرف کوئی دھیان نہیں دیا اور وہ بجائے دہشتگردی کے خاتمے کے اپنی پوری توجہ سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز کئے ہوئے تھے۔
اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ صوبے کے دہشتگردی سے متاثرہ اضلاع میں تعمیر نو، ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے انتظامی ڈھانچہ قائم کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ قومی سلامتی، عوام کے تحفظ اور ریاستی استحکام کے لیے مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں سیاسی سرگرمیوں کو دہشتگردی کے خلاف جنگ پر ترجیح نہیں دی جانی چاہیے۔
اس موقع پر وفاقی وزرا نے بتایا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشتگردوں کا بنیادی ہدف بن چکی ہے اور گذشتہ کچھ عرصے میں دیسی ساختہ بموں (آئی ای ڈی) کے دھماکوں میں 30 فیصد اضافے کی نشاندہی کی گئی۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں امن کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک پیج پر ہیں، محسن نقوی
انہوں نے پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور خیبر پختونخوا پولیس کے اہلکاروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں متعدد اہلکار شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کی مدد اور سیکیورٹی اداروں کو مؤثر معاونت فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔














