روس اور یوکرین کا اولیشکی میں جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا، وائٹ ہاؤس

جمعہ 23 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے روس کے زیر تسلط شہر اولیشکی میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کو یقینی بنالیا ہے جو 29 اکتوبر سے شروع ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: روس یوکرین کے فضائی دفاع کو چکمہ دینے کے لیےکون سا نیا اور موثر حربہ اختیار کررہا ہے؟

جعمے کو وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے اولیشکی میں تمام فوجی کارروائیاں عارضی طور پر روکنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ انسانی امداد کو داخل ہونے دیا جا سکے اور ایک نامزد محفوظ راستے کے ذریعے شہریوں کے انخلاء کی تیاری کی جا سکے۔

بیان میں کہا گیا کہ میلانیا ٹرمپ کے مطابق اولیشکی کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور اولیشکی تباہی کے دہانے پر ایک فرنٹ لائن جنگی شہر ہے۔

میلانیا نے کہا کہ اولیشکی کی باقی آبادی بنیادی طور پر بزرگ رہائشیوں پر مشتمل ہے جنہیں فوری طور پر طبی امداد، ادویات، خوراک اور صاف پانی کی ضرورت ہے۔

خاتون اول نے کہا کہ جنگ بندی دونوں ممالک کی غیر فوجی ٹیموں کو رہائشیوں کے گھروں میں جا کر ان سے ملنے اور ان لوگوں کے لیے نقل و حمل کو مربوط کرنے کی اجازت دے گی جو روس یا یوکرین میں سے کسی ایک کی طرف انخلا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس عمل کو دستاویزی شکل دینے کے لیے ایک نامعلوم امریکی میڈیا ادارہ بھی ٹیموں کے ساتھ ہوگا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق دریائے دنیپرو کے پار خیرسون کے سامنے واقع 24 ہزار نفوس پر مشتمل یوکرینی شہر اولیشکی کی آبادی اب محض ایک ہزار 700 سے 2 ہزار رہ گئی ہے جن میں 50 بچے بھی شامل ہیں۔ کاخووکا ڈیم کی تباہی کے بعد شہر کا تقریباً 90 فیصد حصہ سیلاب کی زد میں آ گیا تھا۔

مزید پڑھیے: روس یوکرین جنگ اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے، صدر پیوٹن

بیان میں کہا گیا کہ میلانیا ٹرمپ اور ان کے نمائندے نے مقامی جنگ بندی کی شرائط کو طے کرنے کے لیے روسی اور یوکرینی قیادت کے ساتھ براہ راست کام کیا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق میلانیا ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جو رہائشی انخلا کرنا چاہتے ہیں انہیں مربوط مدد اور ان کی پسندیدہ منزل تک نقل و حمل کی سہولت ملے گی اور مجھے توقع ہے کہ کچھ روس جانا چاہیں گے اور کچھ یوکرین۔

واضح رہے کہ یہ مکمل جنگ بندی نہیں بلکہ صرف ایک شہر کے لیے مقامی اور عارضی جنگ بندی ہے۔ یہ معاہدہ صرف روس کے زیر کنٹرول شہر اولیشکی کے لیے کیا گیا ہے جو دریائے دنیپرو کے پار خیرسون کے سامنے واقع ہے اور فرنٹ لائن پر تباہی کے دہانے پر ہے۔

اولیشکی کی آبادی جنگ سے پہلے 24 ہزار تھی جو اب گھٹ کر صرف 1,700 سے 2,000 رہ گئی ہے جن میں زیادہ تر بزرگ اور تقریباً 50 بچے شامل ہیں۔ کاخووکا ڈیم کی تباہی کے بعد شہر کا 90 فیصد حصہ سیلاب کی زد میں آ چکا ہے۔ اس عارضی جنگ بندی کا مقصد صرف اس شہر میں انسانی امداد، خوراک، ادویات اور صاف پانی پہنچانا اور شہریوں کو محفوظ راستے سے انخلا کی سہولت دینا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 3 روزہ روس یوکرین جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے کا اعلان

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ فروری 2022 سے جاری ہے اور (مختلف رپورٹس کے مطابق) دونوں جانب کے 4 سے ساڑھے 5 لاکھ فوجی اور ہزاروں شہری ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ زخمیوں اور لاپتا افراد کو ملا کر یہ تعداد 17 سے 20 لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp