روس یوکرین جنگ اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے، صدر پیوٹن

اتوار 10 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اشارہ دیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ اپنے اختتام کے قریب پہنچ رہی ہے، جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر طویل مدتی امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے کسی تیسرے ملک میں ملاقات کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 3 روزہ روس یوکرین جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے کا اعلان

ماسکو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور حالات بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں یہ معاملہ اب اختتام کی طرف جا رہا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب روس اور یوکرین کے درمیان 3 روزہ جنگ بندی اور ایک ہزار قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق ہوا، جس سے امن مذاکرات کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔

روسی صدر نے یومِ فتح کی تقریب سے خطاب میں یوکرین میں لڑنے والے روسی فوجیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ روس ایک }منصفانہ مقصد{ کے لیے لڑ رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مغربی طاقتوں اور نیٹو کی پالیسیوں نے اس تنازع کو ہوا دی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک امن معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:روس یوکرین جنگ: پیوٹن کا 2 روزہ جنگ بندی کا اعلان

یوکرینی صدر زیلنسکی اس سے قبل پیوٹن سے براہِ راست ملاقات کی تجویز دے چکے ہیں، تاہم روسی صدر نے واضح کیا کہ ایسی ملاقات صرف اس صورت ممکن ہوگی جب پہلے ایک جامع اور دیرپا امن معاہدہ طے پا جائے۔

4 سال سے زائد عرصے سے جاری اس جنگ میں لاکھوں افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ یوکرین کے کئی علاقے تباہی کا شکار ہوئے۔ روس اس وقت یوکرین کے تقریباً پانچویں حصے پر کنٹرول رکھتا ہے، تاہم حالیہ مہینوں میں روسی پیش قدمی کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp