امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر اتوار کو ممکنہ فوجی حملے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے پاس کارروائی کرنے یا تہران کے ساتھ معاہدہ کرنے، دونوں راستے موجود ہیں۔ ان کے بیان کے بعد خطے میں جنگ کے دوبارہ شدت اختیار کرنے اور سفارتی کوششوں کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کو شاید ایران کے خلاف کارروائی مکمل کرنا پڑے، تاہم ایران کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ بھی ممکن ہے۔ ان کے بیان سے یہ واضح نہیں ہوا کہ حملے کا حتمی فیصلہ کیا جا چکا ہے یا مذاکرات کو مزید وقت دیا جائے گا۔
US President Donald Trump says the US is considering a possible attack on Iran as soon as Sunday, or could reach a deal.
Iranian President Masoud Pezeshkian blames the US for breaking down interim agreement talks.
🔴 Follow our LIVE coverage: https://t.co/wSBBI7kWBk pic.twitter.com/aTvLjb5Kmp
— Al Jazeera English (@AJEnglish) October 25, 2026
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا پر عبوری معاہدے سے متعلق مذاکرات ناکام بنانے کا الزام عائد کیا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے امریکی طرزِ عمل پر سخت تنقید کی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کو معاہدہ طے کرنے کی کوششیں جاری رکھنی چاہییں۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں جون میں امریکا اور ایران کے درمیان عبوری سمجھوتا طے پایا تھا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنا، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور وسیع تر معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کرنا تھا۔
ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے اسلام آباد میں بتایا کہ تہران پاکستان کے ذریعے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ایران نے امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کے بدلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز بھی دی تھی، تاہم واشنگٹن نے اس پر اتفاق نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے، ٹرمپ نے غیر ضروری جنگ شروع کی، اوباما
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران سفارتی رابطوں کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں، لیکن ٹرمپ کے تازہ بیان سے یہ واضح نہیں کہ آئندہ قدم فوجی کارروائی ہوگا یا مذاکرات کے ذریعے کسی سمجھوتے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔










