وفاقی اصلاحاتی کمیٹی نے پنجاب میں کاروباری آسانی کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے اقدامات کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ وفاق کی تجویز کردہ سفارشات پر پنجاب پہلے ہی عمل کر چکا ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے وزیراعظم کے مشیر برائے انڈسٹری و پیداوار ہارون اختر کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی نے ملاقات کی۔ وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر احسان افضل خان بھی وفد میں شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں:جیپ ریلی میں سرکاری گاڑی کا استعمال، وزیر اعلیٰ مریم نواز کا سخت نوٹس، ڈی سی جھنگ عہدے سے فارغ
ملاقات میں کاروباری آسانی کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی کمیٹی نے پنجاب میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے وزیراعلیٰ کے اقدامات کی تعریف کی۔
پنجاب پہلے ہی یہ اقدامات کر چکا ہے
ہارون اختر نے کہا کہ پنجاب میں انڈسٹری اور بزنس کے فروغ کے لیے متاثر کن اقدامات کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کاروباری آسانی اور انڈسٹری کے فروغ کے لیے جو سفارشات لے کر وفاقی کمیٹی آئی ہے، پنجاب پہلے ہی ان پر عمل کر چکا ہے۔
مشیر برائے انڈسٹری و پیداوار نے کہا کہ پنجاب میں سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعت کاروں کی آسانی کے لیے بہت محنت کی گئی ہے۔ ان کے بقول پنجاب کے ہر پراجیکٹ میں مریم نواز شریف اور ان کی ٹیم کی محنت کی جھلک نظر آتی ہے۔
ڈیجیٹلائزیشن میں وفاق کو تکنیکی معاونت کی پیشکش
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کاروباری آسانی کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کے شعبے میں وفاق کو ٹیکنیکل معاونت کی پیشکش کی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انڈسٹریلائزیشن ہی تیز ترین ترقی کا واحد راستہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ روزگار بڑھانے کے لیے مقامی انڈسٹری کا فروغ بے حد ضروری ہے۔
مریم نواز شریف نے بتایا کہ پنجاب میں سکل ڈویلپمنٹ کو ایک ہی چھت تلے ری ویمپ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکٹر وائز سکل ڈویلپمنٹ ٹریننگ متعارف کرانے کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:پنجاب میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم میں اضافے پر برہمی، مریم نواز کی پولیس کو 4 ہفتوں کی مہلت
سرمایہ کاری کے فروغ کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہیں وزیراعظم شہباز شریف کے اخلاص اور ایس آئی ایف سی کی کاؤشوں پر پورا بھروسا ہے۔
نیا ٹیکس لگائے بغیر ریکارڈ وصولی
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب ٹیکس نیٹ بڑھا کر نیا ٹیکس عائد کیے بغیر واجبات کی وصولی کا ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔ ان کے مطابق زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر بزنس مین کے لیے آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔
مریم نواز شریف نے بتایا کہ پنجاب کی کلسٹر میپنگ مکمل کر لی گئی ہے اور صوبے کو کاٹیج انڈسٹری کا ہب بنایا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ’آسان کاروبار فنانس اسکیم‘کے ذریعے نوجوانوں کو اپنا روزگار شروع کرنے کی طرف مائل کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ پنجاب میں لائیوسٹاک کو فروغ دے کر میٹ ایکسپورٹ بڑھانے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔
اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
ملاقات میں وفاقی کمیٹی کو پنجاب میں کاروباری آسانیوں کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ کے مطابق ’آسان کاروبار فنانس سکیم‘ کے تحت پنجاب میں 70 ارب روپے کے بلاسود لون فراہم کیے گئے۔ اس اسکیم سے 1 لاکھ 12 ہزار بزنس کو مالی معاونت دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں ’ای بز‘کے ذریعے سنگل ونڈو اور ون پورٹل سسٹم کامیابی سے ہمکنار ہو چکا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے 28 ڈیپارٹمنٹس کی 437 سروسز مہیا کی جا رہی ہیں، جبکہ 210031 ایپلی کیشنز پر کارروائی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خواتین کو اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنا چاہیے، انہیں ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا، مریم نواز
بریفنگ کے مطابق طویل عریض ڈاکومینٹیشن کو چند ایک دستاویزات میں تبدیل کیا گیا ہے۔اسی طرح ’مریم کی دستک‘ کے ذریعے عوام کو اب تک 45 لاکھ ڈیجیٹل سروسز فراہم کی جا چکی ہیں۔
کاروباری آسانی کو کسی بھی معیشت میں سرمایہ کاری کی بنیادی شرط سمجھا جاتا ہے۔ اس کے تحت رجسٹریشن، لائسنسنگ اور منظوریوں کے عمل کو سادہ اور تیز بنانے پر زور دیا جاتا ہے۔
ایس آئی ایف سی وفاقی سطح پر سرمایہ کاری کے منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے قائم کیا گیا فورم ہے۔ وزیراعلیٰ نے ملاقات میں اس پر اعتماد کا اظہار کیا۔









