خواتین کو اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنا چاہیے، انہیں ترقی سے کوئی نہیں روک سکتا، مریم نواز

منگل 20 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنا چاہیے، دنیا کی کوئی طاقت انہیں کامیابی حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی۔

لاہور میں کینئرڈ ڈگری کالج برائے خواتین کے کانوکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ خواتین کو اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنا چاہیے، دنیا کی کوئی طاقت انہیں کامیابی حاصل کرنے سے نہیں روک سکتی، خواتین کو اپنی منزل حاصل کرنے کے لیے مردوں کے مقابلے میں زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، قابلیت اور کامیابی کا جنس سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب کی ترقی میں خواتین کا کردار ناقابلِ فراموش، یونیفارم صرف لباس نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے، مریم نواز

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ خواتین کے لیے کامیابی کا سفر آسان نہیں ہوتا، ان کے لیے جتنی مشکلات ہوتی ہیں، ان کے والدین کو بھی اسی معاشرے میں رہتے ہوئے مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین اپنی بیٹیوں کے معاملے میں فکرمند اور محتاط ہوتے ہیں، اور ایسا ہونا بھی چاہیے، تاہم وقت کے ساتھ والدین کو اپنی بیٹیوں پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں آگے بڑھنے کے مواقع دینے چاہئیں۔

مریم نواز نے کہا کہ تقریب میں خواتین کو ایک دوسرے کی کامیابی پر خوش ہوتے اور تالیاں بجاتے دیکھ کر انہیں اطمینان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح خواتین نے اپنے والدین اور ساتھی طالبات کی کامیابیوں کو سراہا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں اور اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں۔ انہیں ہر روز خود سے کہنا چاہیے کہ وہ یہ کام کر سکتی ہیں اور ضرور کامیاب ہوں گی۔ پوری دنیا ان کی کامیابی کا مشاہدہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ جب خواتین کو بااختیار ہونے کا احساس ہوتا ہے تو کوئی انہیں آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتا۔ خواتین کو اپنے مستقبل کے بارے میں بڑے خواب دیکھنے چاہئیں اور انہیں پورا کرنے کے لیے محنت کرنی چاہیے۔ اگر کسی لڑکی کے عزائم ہوں اور وہ زندگی میں آگے بڑھنا چاہے تو اسے منفی باتوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

مریم نواز نے کہا کہ معاشرے میں مرد کے زیادہ محنت کرنے اور آگے بڑھنے کی خواہش کو سراہا جاتا ہے، لیکن جب کوئی لڑکی یا خاتون اپنے لیے بڑے مقاصد طے کرتی ہے تو بعض لوگ اسے خود غرض قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسے دوسروں کی پروا نہیں۔ یہ رویہ درست نہیں، خواتین کو بھی اپنی زندگی میں کامیابی حاصل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا پورا حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کریں، ڈگری لیں اور پھر شادی کر لیں، لیکن انہیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ان کی زندگی کے مقاصد صرف انہی مراحل تک محدود ہیں۔ خواتین کو اپنی تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے مسلسل کوشش کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین کو ہراساں کرنے والوں کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ خواتین کے لیے ایسا ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جہاں وہ محفوظ طریقے سے تعلیم حاصل کر سکیں، ملازمت کر سکیں اور اپنی ذاتی و پیشہ ورانہ زندگی میں ترقی کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے امن و امان کی صورت حال بہتر بنانا ضروری ہے تاکہ والدین اپنی بیٹیوں کو پیشہ ورانہ ترقی، ذاتی نشوونما اور تفریحی سرگرمیوں کے لیے اعتماد کے ساتھ باہر بھیج سکیں۔

مریم نواز نے کہا کہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ خواتین، بچوں اور معاشرے کے تمام کمزور طبقات کے خلاف جرائم برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم ان کی ریڈ لائن ہیں اور وہ اس مؤقف پر پوری طرح قائم ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ پنجاب میں خواتین کو اسکوٹیاں چلاتے، ہیلمٹ پہنتے، رکشے چلاتے اور مختلف شعبوں میں کام کرتے دیکھ کر انہیں خوشی ہوتی ہے۔ خواتین کی عملی زندگی میں بڑھتی ہوئی شرکت اس بات کی علامت ہے کہ انہیں آگے بڑھنے کے مواقع مل رہے ہیں۔

مریم نواز نے خواتین پر زور دیا کہ وہ مشکلات سے گھبرانے کے بجائے اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کریں، محنت جاری رکھیں اور کسی کو انہیں یہ باور نہ کرانے دیں کہ وہ کامیاب نہیں ہو سکتیں۔

مریم نواز نے کہا کہ خواتین کی تعلیم، تحفظ اور خودمختاری حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں، خواتین کو اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنا چاہیے، مشکلات سے گھبرانے کے بجائے ایک ایک قدم آگے بڑھنا ہے، تعلیم بہترین ذریعہ ہے جو مالی پس منظر کی تفریق کم کرنے کے ساتھ خواتین کو خود اعتمادی اور اپنے حقوق کا شعور بھی دیتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ انہیں ایسا محفوظ ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ تعلیم، پیشہ ورانہ ترقی اور تفریحی سرگرمیوں کے لیے بلاخوف گھر سے باہر جا سکیں۔ والدین کو اپنی بیٹیوں کو باہر بھیجتے ہوئے یہ خدشہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین، بچوں اور معاشرے کے کمزور طبقات کے خلاف جرائم برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ خواتین کے خلاف جرائم ان کی ریڈ لائن ہیں۔ اگر کسی بچی کے ساتھ زیادتی، ہراسانی یا کسی اور نوعیت کا جرم پیش آئے تو وہ اس وقت تک سکون سے نہیں بیٹھتیں جب تک ملزم کے خلاف کارروائی نہ ہو۔ کسی سڑک، بازار یا کام کی جگہ پر خاتون کو ہراساں کرنے کی شکایت سامنے آئے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: او آئی سی وزارتی کانفرنس: خواتین کو بااختیار بنانا قوم کی ترقی کی ضمانت ہے، مریم نواز

مریم نواز نے کہا کہ وہ خواتین اور انہیں ہراساں کرنے والوں کے درمیان ایک حفاظتی حصار قائم کرنا چاہتی ہیں تاکہ کسی لڑکی یا اس کے والدین کو گھر سے باہر نکلتے ہوئے خوف محسوس نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور خواتین کو کسی بھی ناخوشگوار صورت حال میں خاموش رہنے کے بجائے شکایت درج کرانی چاہیے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے والدین سے اپیل کی کہ جب ان کی بیٹی کسی پریشانی یا ہراسانی کے واقعے کے بارے میں انہیں بتائے تو اسے دور نہ کریں اور نہ ہی اسے مورد الزام ٹھہرائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں بعض اوقات شکایت کرنے والی لڑکی کو اسکول یا کالج جانے سے روک دیا جاتا ہے، اس کے بجائے اس کی بات سنی جانی چاہیے اور اسے تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔ کسی واقعے کا ذمہ دار متاثرہ لڑکی کو ٹھہرانا درست نہیں۔

انہوں نے طالبات کو بتایا کہ اگر وہ یونیورسٹی، کالج، بازار یا کسی دوسری جگہ جاتے ہوئے خود کو خطرے میں محسوس کریں تو گلابی بٹن دبانے سے متعلق سہولت استعمال کرسکتی ہیں، جس کے ذریعے متعلقہ حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع ملنے پر کارروائی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے خواتین کو ہدایت کی کہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کریں اور شکایت ضرور درج کرائیں۔

مریم نواز نے کہا کہ حکومت خواتین کی نقل و حرکت کو محفوظ بنانے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔ گرین بسوں میں خواتین کے لیے الگ حصہ مختص ہے، جہاں نگرانی کے لیے کیمروں اور براہ راست مانیٹرنگ کا انتظام کیا گیا ہے۔ اگر کسی خاتون کو سفر کے دوران ہراساں کیے جانے کی شکایت ہو تو اس پر فوری کارروائی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبات اور خواتین کو محفوظ اور آسان سفری سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے تعلیم بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ تعلیم نہ صرف مالی پس منظر کی تفریق کم کرتی ہے بلکہ خواتین کو یہ اعتماد بھی دیتی ہے کہ وہ کسی سے کم نہیں ہیں۔ انہوں نے طالبات پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھیں، اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے محنت کریں اور راستے میں آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کریں۔

مریم نواز نے کہا کہ انہیں ایک ایسی طالبہ کے بارے میں معلوم ہوا جو اپنے والدین کی مالی مشکلات کے باعث تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے صبح یونیورسٹی جاتی اور شام کو گاڑی چلاتی تھی۔ اس طالبہ نے بتایا کہ بہتر امن و امان کی صورت حال کے باعث وہ اعتماد کے ساتھ یہ کام کر پاتی ہے اور لوگ اس کا احترام کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایسی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ محفوظ ماحول خواتین کی تعلیم اور خودمختاری کے لیے کتنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں خواتین کے لیے مختلف حکومتی اسکیموں میں ان کی شرکت بڑھ رہی ہے۔ لیپ ٹاپ اسکیم، ہونہار اسکالرشپ اور الیکٹرک بائیک اسکیم سمیت مختلف منصوبوں میں خواتین کی نمائندگی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق مختلف اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والوں میں 60 فیصد سے زیادہ خواتین شامل ہیں، جبکہ الیکٹرک بائیکس کے لیے موصول ہونے والی درخواستوں میں 65 فیصد طالبات کی ہیں۔

وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ الیکٹرک بائیکس کی پہلی تقسیم 5 نومبر کو شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبات کو کالجوں اور یونیورسٹیوں تک پہنچنے کے لیے سفری سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ آمدورفت کی مشکلات ان کی تعلیم میں رکاوٹ نہ بنیں۔

مریم نواز نے کہا کہ طالبات کے لیے مزید بسیں فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ طالبات کو اپنے علاقوں سے تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور بعض طالبات نے انہیں پیغامات بھیجے ہیں کہ بس سروس ان کے اسکولوں اور علاقوں تک بڑھائی جائے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ طالبات کو آسان اور محفوظ سفری سہولتیں فراہم کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ حکومت پر ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ ان کے بقول پنجاب میں ہزاروں اسکولوں میں لاکھوں بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور حکومت سرکاری تعلیمی اداروں میں معیار بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ صوبے کی ہر تحصیل میں اسکول آف ایمننس قائم کرنے کا منصوبہ ہے، جہاں بچوں کو معیاری تعلیم مفت فراہم کی جائے گی۔ ان اسکولوں میں نصاب، اساتذہ کی تربیت، غیر نصابی سرگرمیوں، ٹرانسپورٹ اور طلبہ کے تحفظ پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ غریب خاندانوں کے بچوں کو بھی معیاری تعلیم کے مواقع میسر آسکیں۔

مریم نواز نے ہونہار اسکالرشپ پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مستحق اور باصلاحیت طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالی مشکلات کسی بچے کی تعلیم کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننی چاہئیں اور حکومت کی کوشش ہے کہ بچوں کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع ملیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کی بہتری کے لیے امن و امان، صفائی، تعلیم اور شہری سہولتوں پر مسلسل کام کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق خواتین کو بااختیار بنانے کا مقصد صرف انہیں مواقع فراہم کرنا نہیں بلکہ ایسا ماحول بنانا بھی ہے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں اور اپنی زندگی کے فیصلے اعتماد کے ساتھ کرسکیں۔

مریم نواز نے طالبات پر زور دیا کہ وہ خود کو کمزور نہ سمجھیں، اپنی تعلیم مکمل کریں، پیشہ ورانہ میدان میں آگے بڑھیں اور اپنی کامیابی کے لیے مسلسل محنت کریں۔ انہوں نے کہا کہ مشکلات ضرور آئیں گی، لیکن ان کا مقابلہ کرتے ہوئے قدم بہ قدم آگے بڑھنے سے منزل حاصل کی جاسکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

خیبرپختونخوا میں تعلیمی نظام کی بدحالی بے نقاب، 627 اسکول غیرفعال، 11 پر غیر قانونی قبضے کا انکشاف

ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کا ٹیکس دہندگان کی شکایت کے بروقت ازالے کا حکم

کشمیر ڈے پر واک، اسلام آباد پولیس نے ٹریفک کے لیے متبادل پلان جاری کردیا

عالمی منڈی میں غیریقینی صورت حال کے باعث مہنگائی کا دباؤ بڑھا، شرح سود میں اضافہ ناگزیر تھا، گورنر اسٹیٹ بینک

ویڈیو

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

نوشہرو فیروز: نامکمل قومی شاہراہ 3 برسوں سے سندھ حکومت کی توجہ کی طالب، مایوس شہری نئے انتظامی یونٹس کے منتظر

4 جی تو ٹھیک چلتا نہیں، 5 جی کیسے چلے گا؟ انٹرنیٹ کی رفتار پر اسلام آباد کے شہری کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں