وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے جھنگ میں جیپ ریلی کے دوران پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کی سرکاری گاڑی کے استعمال کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر بابر صاحب دین کو فوری طور پر ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو انتظامی نظم و ضبط کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
The video depicts a car rally in which a PERA vehicle is seen accompanying other participating vehicles. The deployment of a regulatory authority’s resources for non-serious purposes, beyond its officially prescribed mandate, constitutes a serious breach of administrative discipline and a violation of established policy. In view of this matter, the Deputy Commissioner is being removed from the post with immediate effect.
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) October 25, 2026
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اتوار کو اس معاملے کا نوٹس اس وقت لیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی۔ اس میں پیرا کی گاڑی دیگر گاڑیوں کے ہمراہ ریلی میں شریک دکھائی دے رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی فروخت بند، اب صرف 10 کلو کا بیگ مارکیٹ میں آئے گا: مریم نواز
مریم نواز نے ایکس پر ویڈیو کے ساتھ پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’ریگولیٹری اتھارٹی کے وسائل کو غیر سنجیدہ مقاصد کے لیے اور اس کے سرکاری طور پر طے شدہ مینڈیٹ سے ہٹ کر استعمال کرنا انتظامی نظم و ضبط کی سنگین خلاف ورزی اور طے شدہ پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’اس معاملے کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹایا جا رہا ہے۔‘
Security is the responsibility of the Police, while rescue and emergency response fall within the mandate of Rescue 1122. Neither function falls within PERA’s statutory mandate. The activity in question, therefore, has no apparent connection with PERA’s prescribed duties and raises serious concerns about the rationale for deploying its vehicle in the rally.
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) October 25, 2026
سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کا نوٹیفکیشن
وزیر اعلیٰ نے پنجاب حکومت کے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کا اتوار کو جاری ہونے والا نوٹیفکیشن بھی شیئر کیا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ گورنر کے حکم پر ڈپٹی کمشنر بابر صاحب دین کو فوری طور پر تبدیل کیا جاتا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق انہیں مزید احکامات کے لیے محکمے میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
3 روزہ جھنگ تھل جیپ ریلی
3 روزہ جھنگ تھل جیپ ریلی گزشتہ ہفتے اختتام پذیر ہوئی۔ ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر جھنگ ریاض مرتھ کے مطابق یہ ریلی نجی اسپانسرز کے تعاون سے منعقد کی گئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے حکام کی جانب سے اس تقریب کو سراہا گیا تھا۔
سیکیورٹی پولیس اور ریسکیو 1122 کی ذمہ داری
بعد ازاں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ پیرا کی گاڑی ریلی کے ساتھ سیکیورٹی اور ریسکیو کے مقاصد کے تحت موجود تھی۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے نشاندہی کی کہ سیکیورٹی پولیس کی ذمہ داری ہے، جبکہ ریسکیو اور ایمرجنسی رسپانس ریسکیو 1122 کے دائرہ کار میں آتا ہے۔
https://t.co/hK1SfBTXau
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) October 25, 2026
مریم نواز نے کہا کہ ’ان میں سے کوئی بھی کام پیرا کے قانونی مینڈیٹ میں شامل نہیں۔ لہٰذا زیر بحث سرگرمی کا بظاہر پیرا کے مقررہ فرائض سے کوئی تعلق نہیں بنتا اور ریلی میں اس کی گاڑی تعینات کرنے کے جواز پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔‘
ڈی جی پیرا کا مراسلہ
وزیر اعلیٰ نے پیرا کے ڈائریکٹر جنرل فرخ عتیق خان کا 21 اکتوبر کو جاری ہونے والا مراسلہ بھی شیئر کیا۔ یہ مراسلہ جیپ ریلی کے اختتام کے بعد جاری کیا گیا۔
اس میں تمام ڈپٹی کمشنرز اور ڈی ای آر بیز (ڈسٹرکٹ انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری بورڈز) کے چیئرپرسنز کو پیرا گاڑیوں کے غلط استعمال کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی۔
مزید پڑھیں:ہونہار اسکالرشپ پروگرام کے اگلے مرحلے کے لیے درخواستوں کی وصولی، مریم نواز نے طلبہ کو خوشخبری سنا دی
ریٹائرڈ کیپٹن فرخ عتیق خان نے مراسلے میں لکھا کہ ’مشاہدے میں آیا ہے کہ آپ کے دفاتر کو جاری کی گئی پیرا کی ڈبل کیبن گاڑیاں، جو صرف پیرا کے فیلڈ آپریشنز کے لیے مختص ہیں، غیر مجاز سرگرمیوں یا آپریشنز میں استعمال کی جا رہی ہیں۔‘
مراسلے میں یہ بھی بتایا گیا کہ بعض ڈپٹی کمشنرز نے پیرا کی گاڑیاں اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنرز کے حوالے کر دی ہیں، جو اتھارٹی کی سرکاری پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔ ڈی جی پیرا نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ ’کسی بھی غیر مجاز الاٹمنٹ‘ سے گاڑیاں واپس لیں۔
پیرا پنجاب حکومت کا ریگولیٹری اور انفورسمنٹ ادارہ ہے، جس کی ڈبل کیبن گاڑیاں مراسلے کے مطابق صرف اس کے فیلڈ آپریشنز کے لیے جاری کی جاتی ہیں۔ گاڑیوں کے غلط استعمال سے متعلق مراسلہ 21 اکتوبر کو جاری ہوا، جبکہ ڈپٹی کمشنر جھنگ کو ہٹانے کا فیصلہ 25 اکتوبر کو سامنے آیا۔











