ٹیک ٹائیکون اور دُنیا کے سب سے امیر ترین شخص ایلون مسک کی اسپیس ایکس نے چاند اور مریخ کے مشنز کی مالی اعانت اور کمپیوٹنگ پاور کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے اپولو گلوبل مینجمنٹ کے ساتھ 40 ارب ڈالر کی تاریخی اے آئی چپ فنانسنگ ڈیل طے کر لی ہے۔
ریگولیٹری فائلنگ کے مطابق اس معاہدے کے تحت اپولو گلوبل مینجمنٹ کا ایک الحاق شدہ ادارہ اے آئی چپس اور سرور ہارڈویئر خرید کر راکٹ سے اے آئی تک کے اس سفر میں مصروف ادارے اسپیس ایکس کو لیز پر دے گا۔
یہ بھی پڑھیں:’کٹھ پتلیوں کو ہی نہیں ڈوریں ہلانے والوں کو بھی دیکھ لوں‘، اپنے خلاف تحقیقات پر ایلون مسک کی ڈیموکریٹس کو دھمکی
اس ڈیل کے تحت کل بنیادی ادائیگیاں تقریباً 40 ارب ڈالر ہوں گی، جبکہ ہر لیز کا دورانیہ سازوسامان کی ترسیل کے دن سے لے کر 5 سال سے کچھ زیادہ عرصے پر محیط ہوگا۔
کمپنی کا ہدف ہے کہ اس سال کے آخر تک اس ڈیل کو مکمل طور پر حتمی شکل دے دی جائے۔
خلائی مشنز اور بھاری اخراجات
یہ معاہدہ اسپیس ایکس کے بھاری اخراجات اور مالیاتی دباؤ کو واضح کرتا ہے، جو اپنے پرامید چاند اور مریخ کے مشنز کو فنڈ دینے کے لیے کمپیوٹنگ پاور کی غیر معمولی طلب سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان لیزز کا باضابطہ آغاز 2027 کی پہلی ششماہی میں متوقع ہے، جو کہ چپس کی اصل ترسیل کے فورا بعد عمل میں آئے گا۔
ایلون مسک اور سی ایف او کے بیانات
اس سے قبل اتوار کو کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصدیق کی تھی کہ اسپیس ایکس نے گرافکس پروسیسنگ یونٹس کے لیے 40 ارب ڈالر کی قرض فنانسنگ کو بند (کلوز) کر لیا ہے۔
ایلون مسک کا مزید کہنا تھا کہ یہ فنانسنگ بنیادی طور پر پہلی اور دوسری سہ ماہی میں آنے والی چپس کو ہدف بناتی ہے اور موجودہ سہ ماہی میں یہ کوئی بڑا فیکٹر ثابت نہیں ہوگی۔
دریں اثنا چیف فنانشل آفیسر بریٹ جانسن نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ اسپیس ایکس کو چوتھی سہ ماہی میں 35 ارب ڈالر سے 40 ارب ڈالر تک کے کیپیتال ایکسپینڈنڈیچر کی توقع ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس ماہ کے اوائل میں خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ اسپیس ایکس انویڈیا چپس خریدنے کے لیے 40 ارب ڈالر اکٹھا کرنے کی غرض سے بین الاقوامی بینکوں اور بڑے اثاثہ مینیجرز کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے، جو اب عملی شکل اختیار کر چکے ہیں۔









