ایلون مسک نے دیگر اے آئی کمپنیوں پر طنز کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کمپنیوں کے نام حقیقت کے بالکل الٹ ثابت ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں چینی اے آئی ریسرچ کمپنی ’ڈیپ سیک‘ کے استعمال پر پابندی، وجہ کیا بنی؟
اسپیس ایکس کے سی ای او نے والٹر آئزکسن کے پوڈ کاسٹ ’دی بلڈرز‘ میں مصنوعی ذہانت کے مختلف پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت ایک طرح کی ’آئرنی میکسامائزر‘ بن چکی ہے۔
ایلون مسک نے از راہ مذاق کہا کہ مجھے ناموں کی وجہ سے تھوڑی سی پریشانی ہے کیونکہ حقیقت ایک طرح کی آئرنی کو بڑھانے والی چیز بن گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ کسی چیز کا نام اینتھروپک رکھیں تو امکان یہی ہے کہ وہ مس اینتھروپک بن جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بالکل اسی طرح جیسے اوپن اے آئی اب ’بند‘ ہو چکی ہے، اسٹیبلٹی اے آئی غیر مستحکم ہے اور مڈ جرنی ’مڈ‘ نہیں رہی۔ لگتا ہے یہ سب اپنے ناموں کی ضد بن گئے ہیں۔
ایلون مسک نے پہلے بھی اینتھروپک پر تنقید کی تھی۔ فروری میں انہوں نے لکھا تھا کہ یہ مس اینتھروپک اور شر ہے اسے ٹھیک کرو۔
انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اینتھروپک کا ’مس اینتھروپک‘ بننا ناگزیر آئرنی ہے۔ جب تم نے نام رکھا تھا تب ہی تمہاری قسمت یہی بن چکی تھی۔
مزید پڑھیے: ’آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا‘: سربراہ گوگل ڈیپ مائنڈ کی اے آئی سائبر حملوں میں شدت کی پیشگوئی
ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے درمیان تعلقات شروع میں باہمی تعاون اور غیر منافع بخش شراکت داری سے شروع ہوئے تھے لیکن اب یہ ایک اعلیٰ سطحی رقابت اور قانونی جنگ میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
پوڈ کاسٹ میں ایلون مسک نے اس بات پر بھی تفصیل سے بات کی کہ حریف کمپنیاں ایک دوسرے کی مدد سے سپر انٹیلی جنس کو محفوظ بنا سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں: صارفین نے بدسلوکی کی تو اے آئی ماڈل کلاڈ ان سے گفتگو روک دے گا، اینتھروپک کا انتباہ
انہوں نے کہا کہ ہم اپنے حریفوں کو رسائی دیتے ہیں کہ دیکھو نیا ماڈل آزماؤ اور دیکھیں کہ کوئی مسئلہ تو نہیں۔










