27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

منگل 27 اکتوبر 2026
author image

آصف محمود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آج 27 اکتوبر کو کشمیری دنیا بھر میں یوم سیاہ منا رہے ہیں، اسی روز بھارت نے سری نگر میں فوجیں اتاریں اور اسی سہ پہر ایک ایسے مہاراجا سے الحاق کی نا معتبر دستاویز پر دستخط کروائے گئے جو مقامی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار ہی سے محروم ہو چکا ہے اور دارالحکومت سے فرار ہو کر جموں جا چکا تھا۔ سوال یہ ہے کہ 27 اکتوبر کی اس بھارتی جارحیت اور اس کے نتیجے میں کیے گئے الحاق کی بین الاقوامی قانون کی روشنی میں کیا کوئی حیثیت ہے؟

واقعات کی ترتیب درست کر لیں تو قانونی پوزیشن بہت واضح ہو جاتی ہے۔ 26 اکتوبر کو بھارتی قیادت نے کشمیر پر حملے کا حکم دیا۔ 27 اکتوبر کی صبح بھارتی افواج کشمیر میں اتریں۔ انہوں نے علی الصبح سری نگر پر قبضہ کیا۔ لندن ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جب بھارت کی فوجیں سری نگر اتر چکیں تب وی پی مینن اور مہاجن جموں کی طرف روانہ ہوئے تا کہ مہاراجا سے دستخط کروا سکیں۔ یعنی پہلے قبضہ ہوا اور اس کے بعد الحاق کی دستاویز پر دستخط کروائے گئے۔

یہ بالکل جھوٹ ہے کہ پہلے الحاق ہوا اور اس الحاق کے نتیجے میں دوسرے روز بھارت نے فوج کشمیر میں اتاری۔ وی پی مینن کا دعویٰ ہے وہ 26 اکتوبر کو مہاجن کے ساتھ جموں گئے تھے اور وہاں مہاراجا سے الحاق کروایا لیکن یہ بھی جھوٹ ہے۔

الیسٹر لیمب سمیت متعدد مبصرین شہادت دے چکے ہیں کہ وی پی مینن بھارت سے باہر نہیں گئے تھے۔ وی پی مینن 26 تاریخ کو صبح 10 بجے دفاعی کمیٹی کی میٹنگ میں شریک تھے۔ دستیاب ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ 3 بج کر 45 منٹ پر وہ جموں جانے کے لیے ایئرپورٹ گئے لیکن ان کا طیارہ اڑان نہ بھر سکا۔ وہ ایئرپورٹ سے واپس آ گئے۔ پانچ بجے دہلی میں ہی ان کی ملاقات برطانوی ہائی کمیشن کے الیگزینڈر سمن سے ہوئی۔ یہ سوال آج تک حل طلب ہے کہ 3 بج کر 45 منٹ پر جو شخص دلی ایئرپورٹ سے جموں روانہ ہو وہ 5 بجے دلی کے برطانوی ہائی کمیشن میں ملاقات کیسے فرما سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پہلے قبضہ ہوا اور اس کے بعد جبری الحاق کرایا گیا۔ اس کا اعتراف برطانوی ہائی کمیشن کے گوپل سوامی نے بھی کیا ہے۔ سٹینلے والپرٹ نے بھی اپنی کتاب ’ٹریسٹ ود ڈیسٹنی‘ میں خود نہرو کا یہ اعتراف شائع کیا ہے کہ جس وقت سری نگر میں بھارتی فوجیں اتریں اس وقت کشمیر کا بھارت سے الحاق نہیں ہوا تھا۔ ایک اور گواہی اس وقت کے وزیراعظم کشمیر، مہر چند مہاجن کی بھی ہے۔ اپنی کتاب ’لکنگ بیک‘ میں وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ قبضے کے وقت الحاق نہیں ہوا تھا۔

اب جب یہ بات ناقابل تردید شواہد سے ثابت شدہ ہے کہ پہلے بھارت نے فوج کشی کی، اس کے بعد مسلح دستے جموں گئے اور مہاراجا سے الحاق کی مشکوک دستاویز پر دستخط کروائے تو سوال یہ ہے کہ بین الاقوامی قانون کی روشنی میں اس کی حیثیت کیا ہے؟

ویانا کنونشن آن دی لاز آف ٹریٹیز کے آرٹیکل 49 کے مطابق ایسا ہر معاہدہ باطل تصور ہوگا جو طاقت استعمال کر کے کیا گیا ہو یا جو طاقت استعمال کرنے کی دھمکی دے کر کیا گیا ہو۔

ایک اور پہلو بھی بہت اہم ہے۔ جب ناجائز قبضے کے بعد الحاق کی مشکوک دستاویز بھارتی گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو پہنچائی گئی تو اسی روز ماؤنٹ بیٹن نے مہاراجا کو خط لکھا اور کہا کہ چونکہ ہماری یہ پالیسی رہی ہے کہ جس ریاست میں الحاق پر تنازع پیدا ہو جائے گا وہاں الحاق کا فیصلہ وہاں کے عوام کریں گے، اس لیے ہمارا اب بھی فیصلہ یہ ہے کہ حالات معمول پر آتے ہی کشمیر کے الحاق کا مسئلہ کشمیر کے عوام کے سامنے رکھا جائے گا اور وہی اس پر فیصلہ کریں گے۔

اب اگر ماونٹ بیٹن الحاق کی اس مشکوک دستاویز کو پڑھنے کے باوجود یہ کہہ رہے تھے کہ الحاق کا فیصلہ تو کشمیر کے عوام نے ہی کرنا ہے تو پھر مہاراجا کی دستخط شدہ اس مشکوک دستاویز کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے؟۔

بھارت کا کہنا ہے کہ ماؤنٹ بیٹن کے اس وعدے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ یہ وعدہ انہوں نے نجی حیثیت میں ایک خط لکھ کر کیا اور یہ خط الحاق کی دستاویز کا حصہ نہیں ہے۔ بھارت کا دعویٰ ہے کہ الحاق کی دستاویز میں ایسا کچھ نہیں لکھا کہ اس الحاق کے باوجود ابھی کشمیر کا فیصلہ باقی ہے اور یہ فیصلہ عوام کریں گے اس لیے اس خط کی کوئی وقعت نہیں ہے نہ ہی بھارت اس کے مندرجات کا پابند ہے۔ بھارت کے نزدیک الحاق کی دستاویز صرف ایک ہی ہے اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا خط اس دستاویز کا حصہ نہیں ہے۔

بھارت کا یہ مؤقف بھی قانونی طور پر حماقت کی حد تک غلط اور بے بنیاد ہے۔ بین الاقوامی قانون کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ ایک معاہدہ کرتے وقت جو آفیشل خط و کتابت ہوتی ہے وہ بھی معاہدے کا حصہ ہی ہوتی ہے، اس لیے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا یہ خط بھی الحاق کی دستاویز کا حصہ سمجھا جائےگا۔

ویانا کنونشن آن دی لا آف ٹریٹیز کے آرٹیکل 2 کی کلاز اے میں ’ٹریٹی‘ کی تعریف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ معاہدہ کے لیے ایک دستاویز کی شرط ضروری نہیں۔ متعلقہ دستاویزات کو بھی ٹریٹی ہی سمجھا جائے گا۔ (یعنی ماؤنٹ بیٹن کا خط بھی معاہدے کی دستاویز سمجھا جائے گا)۔ یہ گویا آفر اور ایکسیپٹینس یعنی پیشکش اور قبولیت والا معاملہ تھا جس میں دونوں کی اہمیت تھی اور اس مشکوک دستاویز کے باوجود حاصل کلام یہ تھا کہ بھارت کا گورنر جنرل، کشمیر کے مہاراجا کو لکھ رہا تھا کہ حتمی فیصلہ تو بہر حال کشمیر کے عوام نے ہی کرنا ہے۔

اس نا معتنر الحاق کے تین بعد یعنی 30 اکتوبر کو خود نہرو نے لیاقت علی خان کو ٹیلی گرام بھیجا اور اس میں لکھا: ’ہم یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ ہم بہت جلد کشمیر سے فوجیں نکال لیں گے اور ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیر کے عوام کریں گے اور یہ وعدہ محض حکومت پاکستان سے نہیں ہے، یہ وعدہ کشمیریوں سے بھی ہے اور ساری دنیا سے بھی‘۔

بنیادی اور اصولی بات وہی ہے کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیر کے عوام نے کرنا ہے اور ان کا حق خودارادیت مسلمہ ہے اور سلاامتی کونسل بہت پہلے یہ قرار دے چکی ہے کہ کوئی بھی چیز، کوئی بھی واردات، کوئی الحاق اور مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کا کوئی بھی فیصلہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی نہ نفی کر سکتا ہے اور نہ اس کا متبادل بن سکتا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آصف محمود انگریزی ادب اور قانون کے طالب علم ہیں۔ پیشے سے وکیل ہیں اور قانون پڑھاتے بھی ہیں۔ انٹر نیشنل لا، بین الاقوامی امور، سیاست اور سماج پر ان کی متعدد کتب شائع ہوچکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں جنگلی حیات کے تحفظ کے مثبت نتائج، اڑیال کی آبادی مستحکم ہونے لگی

مائیکروسافٹ کا 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی پیکیج دینے کا اعلان

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

خیبرپختونخوا پولیس کے لیے خصوصی انشورنس پلان، شہدا کے خاندانوں اور زخمی اہلکاروں کو کیا فائدہ ہوگا؟

موسم سرما کی آمد، بلوچستان کے کون سے علاقے سیاحوں کے لیے پُرکشش بن سکتے ہیں؟

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں

یورپ کی جین زی اتنے غصے میں کیوں ہے؟