فرانس میں طلبا رہنماؤں نے تعلیمی مسائل کے حل کے لیے حکومت کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔
مزید پڑھیں:فرانس سے اٹھنے والی احتجاجی لہر یورپ بھر میں پھیل گئی، کیا حکمران جماعتوں کا مستقبل خطرے میں ہے؟
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق طلبا رہنماؤں نے حکومتی عہدیداروں سے ملاقات کے بعد بتایا کہ حکومت نے بعض جماعتوں میں طلبا کی تعداد محدود کرنے، اسکولوں کی عمارتوں کی تزئین و مرمت کے لیے قرضوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے نظام کی تبدیلی سمیت متعدد تجاویز پیش کی ہیں۔
ہائی اسکول کے طلبا کے نمائندے لوئی لی توبلون نے کہا کہ ان کے تمام مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے، اس لیے احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
حکومت کی جانب سے ان تجاویز کی فوری طور پر باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، جبکہ ان کی تفصیلات بتانے کے لیے طے شدہ پریس کانفرنس بھی مؤخر کردی گئی۔ تعلیمی پیکیج پر اٹھنے والے اخراجات کی تفصیلات بھی فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔
مزید پڑھیں:فرانس میں مظاہروں کے پیش نظر 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات، پیرس میں فوج بھی گشت پر
فرانس میں کئی ہفتوں سے جاری طلبا احتجاج کا تعلق تعلیمی نظام میں اصلاحات، کلاسوں میں طلبا کی تعداد، اسکولوں کی عمارتوں کی حالت اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے طریقہ کار سے متعلق شکایات سے ہے۔ طلبا کا مؤقف ہے کہ حکومت کی تازہ تجاویز ان کے بنیادی مطالبات پورے کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔










