میرپورخاص: مبینہ اغوا کیس کا ڈراپ سین، ہندو لڑکی نے ہندو پڑوسی سے پسند کی شادی کی

منگل 27 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

میرپورخاص کے علاقے حسین بخش مڑی میں مبینہ طور پر اغوا کی جانے والی ہندو لڑکی مدھو کے کیس کا حیران کن ڈراپ سین سامنے آیا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ یہ جبری تبدیلیِ مذہب یا اغوا کا معاملہ نہیں، بلکہ 2 ہندو بالغ افراد کی پسند کی شادی کا معاملہ ہے۔

مدھو (ساکن میرپورخاص) کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ 16 سالہ نابالغ لڑکی نہیں بلکہ قانونی طور پر شادی کی عمر کو پہنچنے والی بالغ لڑکی ہے۔ اس نے کسی بھی دباؤ یا زبردستی کے بغیر، اپنے پورے ہوش و حواس میں اپنے ہی پڑوسی کیلاش ولد کانجھو سے پسند کی شادی کی ہے۔ کیلاش کا تعلق بھی ہندو برادری سے ہے اور وہ کچی آبادی، رام نگر، سندھڑی روڈ (دیہـ 117، تعلقہ حسین بخش مڑی، ضلع میرپورخاص) کا رہائشی ہے۔

یہ بھی پڑھیے پریا کماری کیس: اقلیتوں کے حقوق اور جبری تبدیلی مذہب

چونکہ لڑکا اور لڑکی دونوں کا تعلق ہندو برادری سے ہے، اس لیے اس معاملے میں جبری مذہب تبدیلی یا کسی مسلم نوجوان کی جانب سے اغوا کے الزامات مکمل طور پر بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں۔ ماضی کے چند واقعات کے برعکس، یہ خالصتاً ایک ہی برادری کے 2 نوجوانوں کا اپنی مرضی سے زندگی کا سفر شروع کرنے کا فیصلہ ہے۔

والدین کا مؤقف اور سماجی ردعمل

ذرائع کے مطابق مدھو کے والدین نے اپنی خاندانی انا کی خاطر اس پسند کی شادی کو ‘اغوا’ کا نام دیا اور سنگین الزامات عائد کیے۔
تجزیہ کاروں اور ماہرین کی طرف سے لڑکی کے خاندان اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی واقعے پر ایسا سنگین الزام لگانے سے پہلے سوچ بچار  سے کام لیا کریں اور حقیقت کو تسلیم کریں۔ مزید برآں، پاکستان دراور اتحاد سے بھی گزارش کی گئی ہے کہ وہ معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے صبر و تحمل سے کام لے۔

میڈیا اور سوشل میڈیا کے کردار پر تنقید

اس کیس کے بعد سندھی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے کردار پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ بغیر کسی تصدیق و تحقیق کے اغوا اور جبر کے جھوٹے دعووں کو ہوا دینے پر صحافتی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے اقلیتوں کی فلاح و بہبود، پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر عملی اقدامات کا روڈ میپ پیش کر دیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر تحقیق کے ایسی سنسنی خیز خبریں پھیلانا معاشرے میں سنگین مذہبی انتشار، افواہوں اور افراتفری کا باعث بن سکتا ہے۔ سندھی میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کو چاہیے کہ وہ کسی بھی خبر کو نشر کرنے سے پہلے اس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تصدیق لازمی بنائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں