پاکستانی ڈرا مے عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر کیوں نہیں؟، ہمایوں سعید نے وجہ بتادی

منگل 27 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف اداکار اور پروڈیوسر ہمایوں سعید نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستانی ڈراموں کا منفرد اسلوب او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا، اس لیے ہمیں پہلے مقامی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز قائم کرنے چاہییں۔

معروف پروڈیوسر اور اداکار ہمایوں سعید نے علی سلمان کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں پاکستان ڈراما انڈسٹری کی عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز مثلاً نیٹ فلکس پر عدم موجودگی کی بنیادی وجہ معیار کی کمی کے بجائے اسلوب کی مطابقت کو قرار دیا ہے۔

 

انہوں نے واضح کیا کہ ہمارے ڈراموں اور تحریروں کا اپنا ایک منفرد انداز ہے اور چونکہ ہم اردو بولتے ہیں اس لیے مکالمے ادا کرنے کا ایک مخصوص طریقہ ہوتا ہے، جبکہ او ٹی ٹی کا مواد ’ایڈی‘ اور مختلف نوعیت کا ہوتا ہے جس کے لیے ہماری انڈسٹری زیادہ موزوں نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نماز کی پابندی نے ہمایوں سعید کی زندگی کیسے بدل دی؟ اداکار کا بڑا انکشاف

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پاکستان میں کچھ لوگ او ٹی ٹی کے معیار کے مطابق کہانیاں بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن اس وقت ان کے لیے کوئی مناسب مقامی پلیٹ فارم دستیاب نہیں ہے۔

سیاسی وجوہات اور مقامی پلیٹ فارمز

نیٹ فلکس پر پاکستان کی عدم موجودگی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ہمایوں سعید نے اشارہ کیا کہ اس میں سیاسی وجوہات بھی کارفرما ہو سکتی ہیں، تاہم انہوں نے اس پر مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستانی انڈسٹری کو سب سے پہلے اپنے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کی تشکیل کو ترجیح دینی چاہیے تاکہ نیٹ فلکس جیسے بڑے عالمی اداروں کی توجہ مبذول کی جا سکے۔

بھارت کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں بھی پہلے مقامی او ٹی ٹی پلیٹ فارمز قائم ہوئے جو پچھلے 12 سے 13 برسوں سے مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستانی حکومت کو اس مسئلے کے حل کے لیے نیٹ فلکس سے بات چیت کرنی چاہیے۔

دیگر فنکاروں کا مؤقف اور ردعمل

اس اہم موضوع پر انڈسٹری کے دیگر نامور فنکاروں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے اداکارہ عروہ حسین کا کہنا تھا کہ ہمیں نیٹ فلکس کے پیچھے دیوانہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم اس سے بھی بہتر کام کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں:عدنان صدیقی نے نعمان اعجاز اور ہمایوں سعید  کو لیجنڈ قرار دے دیا

اس کے علاوہ فیصل قریشی، شمعون عباسی اور اسامہ خان نے بھی اس معاملے پر مختلف آرا پیش کیں، جن کی اکثریت اس بات پر متفق نظر آئی کہ پاکستانی ڈراموں میں بڑے پیمانے پر سامعین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔

حکومتی اقدامات اور کوششیں

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے رواں سال جولائی میں اعلان کیا تھا کہ حکومت علاقائی فریم ورک کو بہتر بنانے اور ایڈجسٹ کرنے کے لیے نیٹ فلکس اور دیگر عالمی اسٹریمنگ جائنٹس کے ساتھ باقاعدہ بات چیت کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp