چین میں پہلی بار بچوں کے مقابلے میں بزرگ افراد کی تعداد بڑھ گئی ہے، جس سے معیشت، پنشن اور صحت کے نظام پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
چین کے قومی ادارۂ شماریات کے مطابق گزشتہ سال کام کرنے کی عمر کے افراد کے مقابلے میں زیرِ کفالت بزرگوں کا تناسب 23 فیصد ہوگیا، جبکہ بچوں کا تناسب 22 فیصد رہا۔
مزید پڑھیں:سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین میں 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 22 کروڑ 30 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے، جو ملکی آبادی کا قریباً 16 فیصد ہے۔ اس کے برعکس 14 سال یا اس سے کم عمر بچوں کی تعداد قریباً 21 کروڑ 30 لاکھ ہے۔
ماہرین کے مطابق آبادی میں اس تبدیلی کے نتیجے میں پنشن، طبی سہولتوں اور بزرگوں کی طویل مدتی نگہداشت پر اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ نوجوان افرادی قوت میں کمی معاشی ترقی اور لوگوں کی قوتِ خرید کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔
China now has 82,000 senior canteens serving over 4 million elderly people every day!
Fresh, balanced meals average about 2 dollars, with extra help for those who need it!
They sit inside neighborhoods so seniors can eat together, or get delivery when they cannot leave home!
This is what happens when a country invests in caring for its people!
@Chinaretold
— Dominic Lee 李梓敬 (@dominictsz) October 25, 2026
چین میں شرح پیدائش میں مسلسل کمی کی بڑی وجوہات میں سابقہ یک بچہ پالیسی، شہری آبادی میں اضافہ، بچوں کی پرورش کے بڑھتے اخراجات اور صنفی کرداروں میں تبدیلی شامل ہیں۔ حکومت نے خاندانوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دینے کے ساتھ بزرگ شہریوں کے لیے مالی معاونت بڑھانے کے اقدامات بھی کیے ہیں۔
مزید پڑھیں:ماؤ زے تنگ سے متعلق مبینہ مذاق، چین میں ایمباپے کی اسپانسرشپ ختم
ماہرین کا کہنا ہے کہ بزرگوں اور بچوں کے زیرِ کفالت ہونے کے تناسب کو آبادی کی عمر کے رجحانات جانچنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم اس پیمانے میں بزرگ افراد کی صحت، خودمختاری اور معاشی سرگرمیوں میں ان کے کردار کو مکمل طور پر مدنظر نہیں رکھا جاتا۔











