اسرائیل کے عام انتخابات میں عرب جماعتیں پارلیمان کی 120 میں سے 18 نشستیں حاصل کرسکتی ہیں، جبکہ فلسطینی شہریوں میں ووٹنگ کی شرح بھی کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق عرب جماعتوں کی ممکنہ کامیابی حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
الجزیرہ اور خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منگل کو ہونے والی ووٹنگ کے بعد ابتدائی جائزوں میں عرب جماعتوں کے اتحاد ’جوائنٹ لسٹ‘ اور ’رعام‘ کو مجموعی طور پر ریکارڈ نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اسرائیلی چینل 12 کے مطابق فلسطینی شہریوں کی آبادی والے علاقوں میں ووٹنگ کی شرح تقریباً 80 فیصد رہی، جبکہ ملک بھر میں مجموعی شرح 77.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو 1999ء کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
The first exit polls from Israel’s pivotal general election on Tuesday showed historic gains for the country’s Arab parties, whose supporters turned out in large numbers.
Exit polls from Israel’s main television channels projected that the two Arab political lists would win a… pic.twitter.com/bj4Vy4bHMQ
— TRT World (@trtworld) October 28, 2026
ابتدائی اندازوں کے مطابق سابق اسرائیلی فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی جماعت یاشار کے زیر قیادت اپوزیشن اتحاد اور وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کے اتحاد کو 51، 51 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔ عرب جماعت ’رعام‘ کے سربراہ منصور عباس نے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ حتمی نتائج کے بعد نیتن یاہو مخالف اتحاد حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرلے گا۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی انتخابات: نتن یاہو اور آئزن کوٹ کے اتحاد کا 51، 51 نشستوں پر ٹائی، عرب جماعتوں کی تاریخی پیشرفت
تجزیہ کاروں کے مطابق عرب جماعتوں کی ممکنہ کامیابی حکومت سازی کے عمل کو پیچیدہ بنا سکتی ہے، کیونکہ بعض اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی مہم کے دوران عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اسرائیل کی آبادی میں فلسطینی شہریوں کا حصہ تقریباً 21 فیصد ہے۔











