اسرائیلی انتخابات: نتن یاہو اور آئزن کوٹ کے اتحاد کا 51، 51 نشستوں پر ٹائی، عرب جماعتوں کی تاریخی پیشرفت

بدھ 28 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل کے حالیہ عام انتخابات کے بعد سامنے آنے والے ابتدائی نتائج کے مطابق ملک میں سیاسی غیر یقینی کی نئی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ وزیراعظم بینجمن نتن یاہو کے دائیں بازو کے اتحاد اور گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں قائم اپوزیشن بلاک اکثریت کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں، جبکہ عرب اقلیتی جماعتوں نے پہلی بار تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے حکومتی جوڑ توڑ میں کلیدی حیثیت اختیار کر لی ہے۔

اسرائیل میں ہونے والے عام انتخابات کے نتائج اب بھی انتہائی سنسنی خیز اور غیر واضح ہیں۔ دو اہم ایگزٹ پولز کے مطابق بینجمن نتن یاہو کا راست باز (دائیں بازو) کا اتحاد اور ان کے اہم حریف گادی آئزن کوٹ کا ‘تبدیلی بلاک’ 51، 51 نشستوں کے ساتھ برابر کی سطح پر ہیں۔

یہ بھی پڑھیے امریکا کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت سے گریز، جے ڈی وینس کا اہم بیان سامنے آگیا

120 نشستوں کی اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں حکومت بنانے کے لیے کسی بھی اتحاد کو کم از کم 61 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے، جسے دونوں بلاکس فی الحال حاصل نہیں کر سکے۔

ایک تیسرے ایگزٹ پول میں نتن یاہو کے اتحاد کو معمولی برتر (52 نشستیں) دکھایا گیا ہے، جبکہ آئزن کوٹ کے اتحاد کے پاس 50 نشستیں ظاہر کی گئی ہیں۔

رہنماؤں کے دعوے اور ردعمل

نتن یاہو نے حتمی اور سرکاری نتائج کے انتظار کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو ایک ’مضبوط اور دائیں بازو کی‘ قومی حکومت کی ضرورت ہے۔ وہ ’عرب جماعتوں کی حمایت‘ سے بننے والی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔

دوسری جانب، نوبنیاد ‘یاشار’ پارٹی کے سربراہ اور اپوزیشن کے مرکزی قائد گادی آئزن کوٹ نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے اسے ایک ’تاریخی کامیابی‘ قرار دیا اور کہا کہ عوام نے نتن یاہو کے دورِ اقتدار کا خاتمہ کرنے کے لیے ووٹ دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ الیکشن نتن یاہو کے لیے ایک ’بہت سخت رات‘ ثابت ہوا ہے۔

عرب برادری کی تاریخی کامیابی

ابتدائی نتائج کے مطابق عرب جماعتوں نے انتخابات میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق عرب جماعتیں 17 کے قریب نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں، جو ان کی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔

ام الفحم کے 29 سالہ عرب قانون دان اور سرگرم رکن مہدی قباہہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’یہ ایک تاریخی رات ہے۔ عرب معاشرے نے باہر نکل کر واضح پیغام دیا ہے کہ ہم یہاں موجود ہیں اور فیصلوں میں حصہ دار ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عرب ووٹرز نے انتہائی دائیں بازو کے شدت پسند وزراء کو اقتدار سے باہر رکھنے اور عرب علاقوں میں امن و امان کے مسائل کے حل کے لیے بڑھ چڑھ کر ووٹ دیا ہے۔

اسرائیل میں حکومت سازی کی پچیدہ صورتحال

اسرائیلی سیاسی تاریخ میں آج تک کسی بھی ایک پارٹی نے اکیلے اکثریت حاصل نہیں کی، جس کی وجہ سے ہمیشہ مخلوط حکومتیں ہی قائم ہوتی رہی ہیں۔

اسرائیل میں حکومت کیسے قائم ہوتی ہے؟

ووٹوں کی مکمل گنتی کے بعد، اسرائیل کے صدر مختلف پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے اور جس لیڈر کے پاس حکومت بنانے کا سب سے زیادہ امکان ہوگا، اسے پہلی دعوت دی جائے گی۔

اس نامزد امیدوار کے پاس مخلوط حکومت بنانے کے لیے 28 دن کا وقت ہوتا ہے، جس میں ضرورت پڑنے پر 14 دن کی توسیع کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے ’جس اسرائیل میں ہم پلے بڑھے وہ ختم ہو رہا ہے‘: ہزاروں بیرون ملک مقیم اسرائیلی نیتن یاہو کے خلاف ووٹ ڈالنے وطن پہنچ گئے

اگر پہلا رہنما ناکام ہو جائے تو صدر دوسرے لیڈر کو موقع دیتے ہیں۔ اگر وہ بھی ناکام رہے تو پارلیمنٹ (کنیسٹ) کے اراکین کسی تیسرے رہنما کا نام تجویز کر سکتے ہیں۔

اگر یہ تمام کوششیں ناکام ہو جائیں تو ملک میں ایک بار پھر انتخابات کرانا پڑتے ہیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ 2019ء سے 2022ء کے درمیان پارٹیوں میں تعاون نہ ہونے کے باعث اسرائیل کو 5 مرتبہ انتخابات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ موجودہ صورتحال ایک بار پھر ملک کو اسی سیاسی تعطل کی طرف دھکیلتی نظر آ رہی ہے۔

مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق سرکاری نتائج کی گنتی جاری ہے اور حتمی نتائج کے اعلان میں چند دن لگ سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp