محکمہ ماحولیات پنجاب نے انسدادِ اسموگ کارروائیاں تیز کرتے ہوئے ایک ماہ کے دوران 197 غیر معیاری اینٹوں کے بھٹے مسمار اور 163 بھٹے سیل کردیے، جبکہ خلاف ورزیوں پر 162 مقدمات درج کیے گئے۔
مزید پڑھیں:پنجاب پولیس کا اسموگ کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، 24 گھنٹوں میں 28 مقدمات، 396 افراد پر جرمانے
محکمہ ماحولیات کے مطابق 28 ستمبر سے 27 اکتوبر تک صوبے بھر میں 11 ہزار 580 اینٹوں کے بھٹوں کی انسپکشن کی گئی اور مجموعی طور پر 4 کروڑ 7 لاکھ روپے جرمانے عائد کیے گئے۔
صنعتی آلودگی کے خلاف کارروائیوں کے دوران 6 ہزار 650 صنعتی یونٹس کی جانچ پڑتال کی گئی، 22 یونٹس مسمار اور 191 سیل کردیے گئے، جبکہ خلاف ورزیوں پر 333 اسموگ نوٹس جاری اور 15 مقدمات درج کیے گئے۔ صنعتی آلودگی پر 2 کروڑ 80 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔
محکمہ ماحولیات نے پلاسٹک جلانے کے خلاف کارروائیوں میں 45 ہزار 100 کلوگرام پلاسٹک ضبط کیا۔ اس سلسلے میں 6 ہزار 64 مقامات کی انسپکشن کی گئی اور 152 مقامات سیل کیے گئے۔
صنعتی یونٹس میں آلودگی کم کرنے کے لیے سکشن ہڈز کی تنصیب کی نگرانی بھی جاری ہے۔ اس ضمن میں 4 ہزار 204 صنعتی یونٹس کی جانچ پڑتال کی گئی، جبکہ ماحولیاتی تقاضوں پر عمل نہ کرنے والے 333 مقامات سیل کیے گئے۔
تعمیراتی گردوغبار پر قابو پانے کے لیے 397 یونین کونسلز میں کارروائیاں کی گئیں اور 49 مقامات پر مسٹ اسپرنکلرز نصب کیے گئے۔ زرعی علاقوں میں فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام کے لیے 67 کوئیک رسپانس یونٹس فعال ہیں، جبکہ سیٹلائٹ اور فیلڈ مانیٹرنگ کے ذریعے خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی جارہی ہے۔ لاہور میں اینٹی اسموگ گنز کا استعمال بھی جاری ہے۔
مزید پڑھیں:لاہور: اسموگ تدارک کریک ڈاؤن میں تیزی، 24 گھنٹوں میں 24 لاکھ روپے کے چالان
ڈی جی ماحولیات عبداللہ نیئر شیخ نے کہا ہے کہ آلودگی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد جاری ہے۔ ڈرونز، نائٹ اسکواڈز اور فیلڈ ٹیمیں مسلسل متحرک ہیں اور ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف جرمانوں، مقدمات اور سیلنگ کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔










