اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کیوبا پر امریکی تجارتی پابندیوں کے خاتمے سے متعلق قرارداد پر بحث کے دوران امریکا کے سفیر مائیک والٹز اور کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز پریلا کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے باعث اجلاس کچھ دیر کے لیے معطل کرنا پڑا۔
رپورٹ کے مطابق منگل کو اقوام متحدہ میں کیوبا پر امریکی پابندیوں سے متعلق سالانہ بحث کے دوران امریکی سفیر مائیک والٹز نے اپنے خطاب میں کیوبا کی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کی قیادت پر بدعنوانی کے الزامات عائد کیے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے کیوبا پر نئی پابندیاں عائد کردیں، توانائی بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ
والٹز نے الزام لگایا کہ کیوبا کے حکمران نجی جزائر اور مہنگی رولیکس گھڑیوں جیسی آسائشوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جبکہ ملک کو درپیش مسائل کی ذمہ داری دوسروں پر عائد کرتے ہیں۔
ان کا یہ خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا کی جانب سے کیوبا تک ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹوں کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔
US Ambassador Mike Waltz to Cuban delegates at the UN: ‘Back up. This isn’t Havana. This is America.’
After they interrupted his speech on the embargo and corruption in the Cuban regime, he told them to back away from the podium. Desk-banging and all. October 27, 2026…— Felix Lima Fernandes (@TheFelix123) October 27, 2026
امریکی سفیر کی تقریر کے دوران کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز پریلا اور وفد کے دیگر ارکان نے اپنی نشستوں سے بلند آواز میں احتجاج شروع کردیا، اس پر والٹز نے کیوبا کے وفد پر انہیں اور ان کے ساتھیوں کو خاموش کرانے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔
مائیک والٹز نے کہا کہ یہ امریکا نہیں بلکہ اقوام متحدہ ہے، یہ تمہاری کمیونسٹ آمریت نہیں۔ تم نہ مجھے خاموش کرا سکتے ہو اور نہ میرے ساتھیوں کو، جس پر کیوبن وزیر خارجہ نے انہین جھوٹا قرار دیا۔
تلخ کلامی کے دوران روڈریگز پریلا ہال کے اگلے حصے کی جانب بڑھے، تاہم اقوام متحدہ کی براہ راست نشریات میں ان کی بات واضح طور پر سنائی نہیں دی۔
اجلاس کے صدر خلیل الرحمان نے کارروائی معطل کردی، جس کے بعد کیوبا کے وزیر خارجہ کو نکتۂ اعتراض اٹھانے کا موقع دیا گیا۔
اپنی نشست پر واپس آنے کے بعد پریلا نے امریکی سفیر کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے ان پر کھلے عام جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا۔
El gobierno de EEUU miente de forma grosera y permanente en la Asamblea General de @ONU_es.
Su Representante Permanente en Naciones Unidas, con su prepotencia y soberbia, olvida que se encuentra en Naciones Unidas, no está en el Consejo de Seguridad Nacional de EEUU ni en una… pic.twitter.com/hGxu6ssFKV
— Bruno Rodríguez P (@BrunoRguezP) October 27, 2026
واقعے کے بعد کیوبا کے وزیر خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی والٹز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے لکھا کہ امریکی سفیر اپنے تکبر میں یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ میں ہیں، نہ کہ امریکی قومی سلامتی کونسل، گرین بیریٹس کے کسی یونٹ یا سگنل گروپ میں۔
مزید پڑھیں: امریکا کو کیوبا سے ڈرون حملوں کا خدشہ، حساس انٹیلیجنس رپورٹ منظرِ عام پر
والٹز سابق گرین بیریٹ ہیں اور گزشتہ برس امریکی قومی سلامتی کے مشیر بھی رہ چکے ہیں، اس دوران انہیں اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انہوں نے غلطی سے ایک صحافی کو سگنل میسجنگ ایپ کے اس گروپ میں شامل کردیا تھا جس میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ، نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف امریکی حملوں سے متعلق گفتگو کررہے تھے۔
اقوام متحدہ میں یہ واقعہ امریکا اور کیوبا کے درمیان دیرینہ کشیدگی اور تجارتی پابندیوں کے معاملے پر دونوں ممالک کے اختلافات کو ایک بار پھر نمایاں کرتا ہے۔











