وفاقی حکومت نے ملک بھر کی تمام یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم طلبہ کے لیے انٹرن شپ کو لازمی قرار دے دیا ہے تاکہ انہیں ڈگری کے دوران ہی عملی تجربہ حاصل ہو سکے اور روزگار کے موقع پیدا ہوں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی پارلیمانی سیکرٹری رابعہ نسیم فاروقی نے بتایا کہ طلبہ کو عملی تجربہ فراہم کرنے اور ان کے روزگار کے امکانات کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں انٹرنشپ کو لازمی شرط بنا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ڈیجیٹل معیشت کا فروغ: حکومت پنجاب کی 50 ہزار ماہانہ وظیفے کے ساتھ انٹرن شپ اسکیم کی رجسٹریشن شروع
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اس وقت 282 سرکاری و نجی جامعات فعال ہیں اور انٹرن شپ کی یہ شرط سنہ 2023ء میں عائد کی گئی تھی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ طلبہ کے متعلقہ ڈگری پروگراموں کے تحت انٹرن شپ کے لیے 3 اکیڈمک کریڈٹ آورز (Credit Hours) بھی مختص کیے گئے ہیں، اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) تمام یونیورسٹیوں میں اس ہدایت پر عملدرآمد کو یقینی بنا رہا ہے۔
یوتھ ڈویلپمنٹ سنٹرز کا قیام اور انڈسٹری سے رابطہ
رابعہ نسیم فاروقی نے ایوان کو مزید بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر یونیورسٹیوں میں ’یوتھ ڈویلپمنٹ سنٹرز‘ بھی قائم کیے گئے ہیں تاکہ فارغ التحصیل طلبہ کو عملی زندگی اور نوکریوں کے لیے تیار کیا جا سکے۔
یہ مراکز طلبہ کی تعلیمی و کیریئر کے حوالے سے رہنمائی کرتے ہیں اور انہیں مارکیٹ کی ضروریات اور روزگار کے مواقع سے آگاہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ سنٹرز طلبہ اور صنعتی شعبے (انڈسٹری) کے نمائندوں کے درمیان راست رابطے قائم کرنے میں بھی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے 65 ہزار ماہانہ وظیفہ، تعلیم کے میدان میں نوجوان گریجویٹس اور طلبہ کے لیے انٹرن شپ پروگرام کا آغاز
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد اعلیٰ تعلیمی اداروں اور مارکیٹ کے درمیان تعلق کو مضبوط بنانا ہے تاکہ نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے فوراً بعد روزگار حاصل کر سکیں۔











