پالتو کتوں کا شوق یا پڑوسیوں کے لیے عذاب؟ مالکان کی بے احتیاطی سے شہریوں کو کیسے بچایا جائے؟

بدھ 28 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پالتو کتوں کے باعث پڑوسیوں کو ہراساں کیے جانے، گلیوں میں لوگوں کے خوف زدہ ہونے، کتوں کے شور سے شہریوں کو پریشانی اور عوامی مقامات پر گندگی پھیلنے جیسے مسائل وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔ ایسے حالات میں پالتو جانور رکھنے کے شوق کے ساتھ ان کی مناسب دیکھ بھال، صفائی اور دوسروں کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی مالکان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک میں اس حوالے سے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کے لیے جرمانوں اور قانونی کارروائی کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے تاکہ عوامی مقامات صاف رہیں اور شہریوں کو دوسروں کے پالتو جانوروں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

برطانیہ کے شہر ڈانکاسٹر میں کتوں کی گندگی صاف نہ کرنے والے مالکان سے گزشتہ 5 برس کے دوران مجموعی طور پر 5 ہزار پاؤنڈ جرمانے وصول کیے گئے ہیں جبکہ جرمانے ادا نہ کرنے پر 12 افراد کے خلاف عدالت سے بھی رجوع کیا گیا۔

گندگی نہ اٹھانے پر موقع پر جرمانہ

برطانوی شہر ڈانکاسٹر کی مقامی کونسل کے اعداد و شمار یہ معلومات کی آزادی کے قانون کے تحت کی گئی ایک درخواست کے جواب میں سامنے آئیں جسے لوکل ڈیموکریسی رپورٹنگ سروس نے حاصل کیا۔

کونسل کی ویب سائٹ کے مطابق اگر کسی شخص کو اپنے کتے کی گندگی صاف نہ کرتے ہوئے پکڑا جائے تو اسے عموماً موقعے پر 100 پاؤنڈ کا مقررہ جرمانہ کیا جاتا ہے۔ اگر جرمانہ ادا نہ کیا جائے تو یہ رقم مزید بڑھ سکتی ہے اور زیادہ سے زیادہ 1100 پاؤنڈ تک پہنچ سکتی ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2021 سے گزشتہ 5 برس کے دوران کونسل نے اس نوعیت کے جرمانوں سے مجموعی طور پر 5 ہزار پاؤنڈ وصول کیے جن میں سے صرف 2024 میں 1600 پاؤنڈ جرمانوں کی مد میں حاصل ہوئے۔

تاہم، کونسل کے مطابق اس عرصے میں کسی شخص پر زیادہ سے زیادہ 1100 پاؤنڈ کا جرمانہ عائد ہونے کی نوبت نہیں آئی۔

عوامی مقامات کو صاف رکھنا مالکان کی ذمہ داری

ڈانکاسٹر کونسل میں ضابطوں پر عمل درآمد اور نگرانی کی ذمہ دار کابینہ کی رکن جیما کوبی نے کہا کہ کتوں کی گندگی محلوں اور عوامی تفریحی مقامات کو خراب کرتی ہے اور یہ مقامی شہریوں کے لیے تشویش کا ایک اہم معاملہ ہے۔

ان کے مطابق بیشتر کتے پالنے والے ذمہ داری اور شہری آداب کا مظاہرہ کرتے ہیں، تاہم بعض افراد جان بوجھ کر قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کونسل کے نفاذی افسران ایسی خلاف ورزیوں پر نظر رکھتے ہیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں۔

پاکستان میں بھی ذمہ دارانہ پالتو جانور پالنے کی ضرورت

پاکستان میں بھی پالتو جانوروں کے حوالے سے شہری ذمہ داریوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ رہائشی علاقوں میں بعض اوقات کتوں کو کھلا چھوڑنے، عوامی مقامات پر ان کی گندگی صاف نہ کرنے یا انہیں مناسب طریقے سے قابو میں نہ رکھنے کے باعث دوسرے شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

گلیوں اور پارکوں میں بغیر نگرانی گھومنے والے کتے بچوں، بزرگوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے خوف یا خطرے کا باعث بن سکتے ہیں خصوصاً جب جانور اچانک کسی شخص کی طرف لپکے یا اس پر حملہ کردے۔ اسی طرح کتوں کے مسلسل بھونکنے سے قریبی گھروں میں رہنے والے افراد کے آرام اور نیند میں خلل پڑسکتا ہے۔

ان مسائل کا حل پالتو جانوروں پر پابندی لگانا نہیں بلکہ ان کے مالکان کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانا، مقامی قواعد پر عمل درآمد یقینی بنانا اور خلاف ورزی کی صورت میں مناسب کارروائی کرنا ہے۔

ماہرین کے مطابق پالتو جانوروں کے مالکان کو چاہیے کہ وہ اپنے کتوں کو عوامی مقامات پر قابو میں رکھیں، ضرورت کے مطابق پٹہ استعمال کریں، ان کی گندگی فوری طور پر صاف کریں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ ان کے جانور پڑوسیوں یا راہ گیروں کے لیے خطرے یا پریشانی کا سبب نہ بنیں۔

مقامی انتظامیہ بھی صفائی کے قواعد، جانوروں کو قابو میں رکھنے سے متعلق ضوابط اور شکایات کے ازالے کے مؤثر نظام کے ذریعے شہریوں کو بہتر ماحول فراہم کرسکتی ہے۔

ڈانکاسٹر کی مثال ظاہر کرتی ہے کہ عوامی مقامات پر صفائی برقرار رکھنے کے لیے قواعد کی نگرانی اور جرمانوں کا نظام کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں بھی مقامی حالات اور متعلقہ قوانین کے مطابق ایسے اقدامات پر مؤثر عمل درآمد شہری ماحول کو صاف ستھرا، پرسکون اور محفوظ بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp