ایشین پیرا گیمز میں 3 مرتبہ طلائی تمغے جیتنے والے بھارت کے 42 سالہ پیرا ایتھلیٹ نیرج یادیو نئی دہلی میں اپنی رہائش گاہ پر مردہ پائے گئے، جبکہ ان کی موت کی اصل وجہ تاحال سامنے نہیں آ سکی۔
بھارتی میڈیا نے ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی قرار دیے جانے کی اطلاعات دی ہیں، تاہم موت کی وجوہات کی حتمی تصدیق نہیں ہوئی۔
پیرا ایتھلیٹکس کوچ نے موت کی تصدیق کر دی
بھارتی پیرا ایتھلیٹکس کے کوچ ایس ستیہ نارائن نے نیرج یادیو کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس خبر پر صدمے میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ: کیشورن والکاٹ نے پہلی بار گولڈ میڈل جیت لیا
42 سالہ نیرج یادیو کی موت کی خبر سے بھارتی پیرا ایتھلیٹکس حلقوں میں افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تاہم، واقعے کی مکمل تفصیلات اور موت کی اصل وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی۔
بچپن میں پولیو کا شکار ہوئے، کھیلوں میں نمایاں مقام بنایا
بھارتی ریاست اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے نیرج یادیو7 سال کی عمر میں پولیو کے باعث جسمانی معذوری کا شکار ہو گئے تھے، تاہم انہوں نے کھیلوں کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
وہ پیرا ایتھلیٹکس کی ایف 55 (F55) کیٹیگری میں حصہ لیتے تھے، جس میں ان کے نمایاں مقابلے نیزہ پھینکنے اور ڈسکس تھرو کے تھے۔
ایشین پیرا گیمز میں3 طلائی تمغے جیتے
نیرج یادیو نے 2018 میں انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں ہونے والے ایشین پیرا گیمز میں نیزہ پھینکنے کے مقابلے میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔
انہوں نے 2022 میں چین کے شہر ہانگژو میں منعقدہ ایشین پیرا گیمز میں بھی نیزہ پھینکنے کے مقابلے میں سونے کا تمغہ حاصل کیا، جبکہ اسی ایونٹ میں ڈسکس تھرو کے مقابلے میں بھی طلائی تمغہ جیت کر اپنی کامیابیوں کی تعداد 3 تک پہنچائی۔
ان کی یہ کامیابیاں انہیں ایشیائی سطح پر نمایاں بھارتی پیرا ایتھلیٹس میں شامل کرتی ہیں۔
وہیل چیئر ٹینس سے پیرا ایتھلیٹکس تک کا سفر
نیرج یادیو 2005 سے 2012 تک وہیل چیئر ٹینس کے مقابلوں میں حصہ لیتے رہے، جس کے بعد انہوں نے پیرا ایتھلیٹکس کا رخ کیا۔
مزید پڑھیں:ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2025: ارشد ندیم میڈل کی دوڑ سے باہر ہوگئے
نئے کھیل سے وابستگی کے بعد انہوں نے نیزہ پھینکنے اور ڈسکس تھرو میں نمایاں کارکردگی دکھائی اور بین الاقوامی سطح پر بھارت کے لیے متعدد طلائی تمغے حاصل کیے۔
ان کی موت کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وہ ایشین پیرا گیمز میں اپنی کامیابیوں اور کھیلوں کے سفر کے باعث پہچانے جاتے تھے۔ تاہم حکام کی جانب سے واقعے کی مزید تفصیلات سامنے آنے اور موت کی وجہ کی تصدیق کا انتظار ہے۔











