ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق ہمالیائی خطے کے مختلف حصوں میں کم از کم 3 لاکھ افراد ممکنہ قدرتی آفات کی زد میں آ سکتے ہیں۔
بی بی سی کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق سال 2016 سے 2023 کے درمیان شمالی نیپال، جنوب مشرقی تبت کے کچھ حصوں اور بھارت کی ریاست اتراکھنڈ کے شدید خطرے والے زونز میں تعمیر شدہ رقبے میں تقریباً 45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ‘سائنٹیفک رپورٹس’ نامی جریدے میں شائع ہونے والی اس جائزہ شدہ رپورٹ کے مطابق، برفانی جھیلوں میں طغیانی کے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار علاقوں میں اس دوران تعمیرات 78 فیصد تک بڑھیں۔
تحقیقاتی ٹیم میں شامل سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خطرے سے دوچار افراد کی حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ انہوں نے صرف ایک مخصوص علاقے کا تجزیہ کیا ہے جبکہ ملحقہ علاقوں کو بھی اسی نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے۔
یہ تحقیق نیپال میں اگست کے دوران آنے والے تباہ کن سیلاب سے قبل کی گئی تھی، جس میں 1,400 سے زائد افراد جاں بحق اور ہزاروں لاپتہ ہو گئے تھے۔ حال ہی میں بھی کئی چھوٹے واقعات پیش آئے ہیں، جن میں 11 اکتوبر کو بوڑھی گندکی ندی میں آنے والا سیلاب شامل ہے جس نے 200 مکانات کو نقصان پہنچایا، 5 پل بہا دیے اور 5 افراد لاپتہ ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیے نیپال میں گلیشیئر سے قیامت خیز تباہی کو ایک ماہ مکمل، 1451 نعشیں برآمد، ہزاروں افراد تاحال لاپتا، 80 ہزار بے گھر
برطانیہ، نیپال اور بھارت سے تعلق رکھنے والے 9 محققین نے ہمالیائی دریاؤں کے نیچے کی جانب 50 کلومیٹر تک کے علاقوں اور تقریباً 1,360 برفانی جھیلوں کا مطالعہ کیا۔ انہوں نے ان علاقوں میں سیاحتی سہولیات، بنیادی ڈھانچے اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں نمایاں توسیع دیکھی۔
ہمالیہ کے دامن میں واقع اہم سیاحتی مرکز ‘پوکھرا’ میں یہ صورتحال بالکل واضح ہے، جہاں گزشتہ 30 سالوں میں سیاحوں کی آمد کے پیش نظر بے تحاشا آبادی بڑھی ہے۔ پوکھرا کے میئر دھنا راج آچاریہ کا کہنا ہے کہ سیٹی گندکی ندی سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے، جو اناپورنا پہاڑی سلسلے سے نکل کر شہر کے درمیان سے گزرتی ہے۔ ان کے مطابق، ندی کے کنارے سے دور تعمیرات کے نئے قوانین کے باوجود کئی پرانی عمارتیں ندی کے کنارے سے صرف 5 میٹر کے فاصلے پر قائم ہیں۔
انہوں نے کہا ’ان عمارتوں کو کہاں اور کیسے منتقل کیا جائے، یہی اصل چیلنج ہے۔‘
شمال کی طرف دنیا بھر میں مشہور ‘اناپورنا ٹریکنگ ریجن’ ہے، جہاں ندی کے کناروں پر بستیوں میں بڑا اضافہ ہوا ہے جن میں سے کچھ حال ہی میں آنے والے سیلابوں اور لینڈ سلائیڈنگ کا شکار ہو چکی ہیں۔ وہاں ایک ہوم اسٹے چلانے والے فورپا چھیرنگ لاما بے بسی محسوس کرتے ہیں۔ عام طور پر سال کے اس حصے میں (جو ٹریکنگ کا عروج کا موسم ہے) ان کے تمام 20 کمرے بک ہوتے ہیں، لیکن اب صرف 5 میں مہمان ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’ہم 40 سال سے زیادہ عرصے سے یہ کاروبار کر رہے ہیں، لیکن ہم نے کبھی اس طرح کی آفت نہیں دیکھی۔‘
گلیشیئر سے نکلنے والے مودی دریا کے قریب ہوٹل چلانے والے کرشنا گوچن بھی فکر مند ہیں۔ ’اگر گلیشیئر ٹوٹ جائے یا برفانی جھیل پھٹ جائے تو اس ندی میں سیلاب آ سکتا ہے اور ہم مسلسل خوف کے عالم میں جی رہے ہیں۔‘
تریبھوون یونیورسٹی کے جغرافیہ دان کھگیندر پوڈیل کے مطابق، سیاحتی سرمایہ کار خطرات کو مدنظر رکھے بغیر ان مقامات کی تشہیر کرتے ہیں۔ یہی صورتحال شمالی ہند کے ہمالیائی وادیوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہے جہاں مذہبی زیارت گاہیں واقع ہیں۔
پوکھرا ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر لکشمن سبیدی نے اعتراف کیا کہ علاقے میں سیاحتی کاروبار ’بغیر کسی مناسب منصوبے‘ کے پھیلے ہیں اور ان کا بے ہنگم فروغ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’جب آفات آتی ہیں تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ ایک پیشہ ور ادارے کے طور پر ہم سیاحتی تاجروں اور سرمایہ کاروں میں آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘
لیکن یہ صرف سیاحت کا معاملہ نہیں ہے۔ بھوٹے کوشی اور تریشولی دریاؤں کے اطراف کے علاقوں میں ہائیڈرو پاور پلانٹس کی تعمیر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
تحقیق کے اہم مصنف اور یونیورسٹی آف لیڈز کے گلیشیالوجسٹ سی اسکاٹ واٹسن خبردار کرتے ہیں ’جیس جیسے دریا کی وادیاں گنجان آباد ہو رہی ہیں، آج لیے جانے والے ترقیاتی فیصلے آنے والے کی دہائیوں کے لیے آفت کے خطرے کی نشاندہی کریں گے۔‘

اور جن عمارتوں کو محققین نے خطرے میں پایا ہے، حقیقی خطرہ ان سے بھی کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ تحقیق میں دریا یا برفانی جھیل کی سطح سے 50 عمودی میٹر (164 فٹ) کے اندر واقع تمام عمارتوں کو خطرے والے زون میں رکھا گیا تھا۔ لیکن 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب کے دوران، رسووا ضلع کے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ندی کی سطح بعض مقامات پر 70 میٹر (230 فٹ) تک بلند ہو گئی تھی چنانچہ ندی کے کناروں سے نسبتاً دور واقع عمارتیں بھی ملبے اور کیچڑ میں دب گئیں۔
ان تمام علاقوں میں خطرات کی بڑی وجہ ہمالیائی خطے میں بڑھتی ہوئی درجہ حرارت (گلوبل وارمنگ) ہے، جس کے بارے میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ عالمی شرح سے دوگنی رفتار سے ہو رہی ہے۔ اس سے گلیشیئرز، برف کے میدانوں اور سال بھر جمی رہنے والی زمین کے پگھلنے کی رفتار تیز ہو گئی ہے۔
یہ عمل پہاڑی ڈھلوانوں کو ناپائیدار بنا سکتا ہے جو زلزلوں سے بھی ہل جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں نیچے کی جانب تباہ کن آفات جنم لیتی ہیں۔ تیز پگھلاؤ برفانی جھیلوں کو بھی بھر رہا ہے اور انہیں پھیلا رہا ہے یہاں تک کہ وہ پھٹ جاتی ہیں، جس سے مہلک سیلاب آتے ہیں۔ صرف نیپال میں 1940 کے بعد سے ایسے تقریباً 30 واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت بارشوں کو ان بلندیوں تک لے جا رہا ہے جہاں پہلے صرف برف باری ہوتی تھی، جس کی وجہ سے پہاڑی تودے گرنے، چٹانوں اور برف کے کھسکنے کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔
نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی حالیہ تقریر کے دوران موسمیاتی تبدیلی کے خطرات کو اجاگر کیا تھا، جہاں انہوں نے کہا تھا کہ ان کا ملک ایک ایسے بحران کی ’بھاری قیمت‘ چکا رہا ہے جو اس نے پیدا ہی نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا ’ہر بڑی آفت سالوں کی ترقی کو مٹانے کی دھمکی دیتی ہے، اور یہ ایک غریب ملک کو اس نقصان کی تلافی کے لیے قرض لینے پر مجبور کرتی ہے جو اس کا سبب بھی نہیں تھا۔‘
یہ بھی پڑھیے تاریکی، ملبہ اور بھوک، سرنگ میں پھنسے نیپالی شہری نے 10 روز کیسے گزارے؟
یونیورسٹی آف کولوراڈو کے ماؤنٹین جیوگرافر آلٹن بائرز جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھے، کا کہنا ہے کہ اس مطالعے کو زیادہ مؤثر پیشگی انتباہی نظام اور دیگر احتیاطی تدابیر لانے کے لیے ایک ’سنگِ میل‘ کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔
لیکن اس کا حصول ایک چیلنج ہوگا۔ کارکناں کا کہنا ہے کہ عمارتوں کے قوانین پر عمل درآمد نہیں ہوتا اور برسوں سے زیادہ تر مقامات پر بے ہنگم ترقی ہوئی ہے۔ نیپال یونیورسٹی کے اربن پلاننگ ایکسپرٹ پروفیسر سوریا راج آچاریہ کہتے ہیں کہ دریاؤں کے ساتھ واقع نچلی اور ہموار زمین پر سڑکیں، ہائیڈرو پاور پروجیکٹس، ہوٹل اور بازار پھیل چکے ہیں۔ ان کے مطابق، ذمہ داروں نے ندی کے کنارے سے دور رہنے جیسے حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ’ہمالیہ جیسے حساس ایکو سسٹم کے لیے سخت ترین پلاننگ اور بلڈنگ ریگولیشنز کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن یہ قوانین کمزور رہے ہیں اور ان پر عمل درآمد نامناسب رہا ہے۔‘
نیپال حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ قومی ڈیزاسٹر ایجنسی کے مطابق، حال ہی میں تباہ ہونے والے رسووا بھوٹے کوشی راہداری کے ساتھ ندی کے کنارے سے 15 میٹر (49 فٹ) کے اندر بستیوں پر جلد ہی پابندی عائد کر دی جائے گی۔ دیگر ندیاں کے کناروں پر بھی جلد ایسے ہی قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں۔
ایجنسی کے چیف ایگزیکٹو دھرم راج اپریتی کا کہنا ہے ’یہ ایک چیلنجنگ کام ہے کیونکہ کئی جگہوں پر لوگ اپنی زمین اور جائیداد کے ساتھ جذباتی تعلق رکھتے ہیں، لیکن ہم بڑھتے ہوئے خطرات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔‘
نیپال کی مغربی سرحد کے پار بھارت کی ریاست اتراکھنڈ میں بھی ایسی ہی کہانی سامنے آئی ہے، جہاں سماجی کارکن انوپ نوٹیال کا دعویٰ ہے کہ معاشی ترقی کے نام پر سیاحت کی حد اور ماحولیاتی ضوابط کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔
کاغذوں پر ایسے قوانین موجود ہیں جو ندی کے کناروں کے بہت قریب مکانات اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے روکتے ہیں، لیکن زمین پر ہمیں ایسے قوانین کا کوئی عمل درآمد نظر نہیں آتا۔ آپ ہر طرف بے تحاشا تعمیرات دیکھ سکتے ہیں۔
اتراکھنڈ حکومت نے 12 اکتوبر کو ندی کے قدرتی بہاؤ کو برقرار رکھتے ہوئے زندگی، جائیداد اور اہم بنیادی ڈھانچے کو سیلاب کے ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے فلڈ پلین زوننگ کے نئے قوانین کی منظوری دی ہے۔
تاہم، تریبھوون یونیورسٹی کے سینٹر فار ڈیزاسٹر اسٹڈیز کے ڈائریکٹر بسنت راج ادھیکاری کا ماننا ہے کہ ایسے خطرات کو مکمل طور پر کم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ ان کی تجویز ہے کہ انشورنس گریڈز لوگوں کو کم خطرناک علاقوں میں تعمیرات کی ترغیب دینے کا ایک اور طریقہ ہو سکتا ہے۔ اگر حکام علاقوں کو اعلیٰ، درمیانے اور کم خطرے والے زونز میں تقسیم کریں تو انشورنس کوریج اسی حساب سے ہوگی، جس سے محفوظ علاقوں میں گھر بنانے والے لوگوں کو بہتر تحفظ ملے گا۔
لیکن فی الحال، اس پورے خطے میں تعمیرات کی رفتار میں کمی کا کوئی نشان نظر نہیں آ رہا۔











