نیپال میں گلیشیئر پھٹنے کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب کو ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، اب تک 1451 نعشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 5700 سے زیادہ افراد تاحال لاپتا ہیں۔
اس بدترین آفت کے باعث ہمالیائی ریاست کو اپنے انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے اربوں ڈالر کے فنڈز اور ہنگامی امداد کی اشد ضرورت ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 26 اگست کو چین اور نیپال کی سرحد پر واقع لانگ ٹانگ لیرنگ نامی پہاڑ کے شمالی حصے سے برف اور چٹانوں کا ایک بہت بڑا تودہ ٹوٹ کر گرا۔ یہ تباہی 5200 میٹر کی بلندی سے شروع ہوئی، جس میں ایک کلومیٹر چوڑی برفانی چٹان 800 میٹر نیچے گلیشیئر پر آ گری۔
یہ بھی پڑھیں:نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف
اس ہولناک واقعے نے عارضی طور پر لہندے ندی کا راستہ روکا، جس کے بعد پانی اور ملبے کا ایک بے قابو طوفان وادی کی طرف بڑھا۔ کھٹمنڈو میں قائم ماؤنٹین ڈیولپمنٹ سینٹر کے ماہر ارضیات سوڈان بکاش مہرجان کے مطابق اس ملبے نے 20 کلومیٹر کا فاصلہ محض 7 منٹ میں طے کیا اور اس کا تیز بہاؤ بالکل کسی ’بلٹ ٹرین‘ جیسا تھا۔
ہلاکتوں میں اضافہ اور شناخت کا بحران
نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ملبے اور کیچڑ سے مسلسل نعشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ لاپتا ہونے والے 5700 افراد میں ہائیڈرو پاور پراجیکٹس پر کام کرنے والے سیکڑوں مزدوروں سمیت متعدد غیر ملکی سیاح اور یاتری بھی شامل ہیں۔
اس وقت نیپالی حکام کو نعشوں کی شناخت کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مردہ خانے بھر چکے ہیں اور اب تک صرف 100 نعشوں کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔
خراب حال نعشوں کا ڈی این اے ریکارڈ کرنے کے بعد انہیں اجتماعی قبروں میں دفن کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب چینی سرحد پر بھی 43 اموات اور 519 افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے، جہاں بارڈر پوسٹ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔
معجزاتی زندگیاں اور ریسکیو آپریشن
ہیلی کاپٹروں کی مدد سے سیکڑوں امدادی کارکن کئی ہفتوں سے گارے اور ملبے میں زندگی کے آثار تلاش کر رہے ہیں۔ اس مایوسی کی فضا میں چند حیران کن معجزے بھی دیکھنے میں آئے۔
مزید پڑھیں:نیپال میں تباہ کن سیلاب، 4.78 ارب ڈالر تعمیر نو کا تخمینہ، وزیراعظم کی عالمی برادری سے مدد کی اپیل
زیر تعمیر سرنگوں کے ملبے تلے دبے 3 مزدوروں کو زندہ نکال لیا گیا جن میں 2 نیپالی اور ایک چینی باشندہ شامل تھا۔
30 سالہ سنجے ساہ نے بتایا کہ اس نے مسلسل 10 دن گھپ اندھیرے میں کیچڑ والا پانی پی کر اور دعائیں مانگ کر اپنی جان بچائی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے پختہ یقین اور عزم کا نتیجہ تھا کہ وہ موت کے منہ سے واپس آئے۔
معاشی تباہی اور امداد کی اپیلیں
اس تباہی سے 80 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں جو اپنا سب کچھ کھو دینے کے بعد اب ہنگامی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ نے 50 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد کی اپیل کی ہے۔
زمینی راستے کٹ جانے کی وجہ سے متاثرہ علاقوں تک راشن اور ادویات ہیلی کاپٹروں اور کارگو ڈرونز کے ذریعے پہنچائی جا رہی ہیں۔ کئی ممالک نے نیپال کے لیے چند ملین ڈالر کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے، لیکن یہ رقم تباہی کے حجم کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔
نیپال حکومت کے تخمینے کے مطابق ملک کی تعمیر نو کے لیے 4.78 ارب ڈالر درکار ہیں، جس میں سے 57 ملین ڈالر اگلے 6 ماہ کی ہنگامی بحالی کے لیے فوری طور پر چاہیے ہوں گے۔
اس آفت نے نیپال کے ہائیڈرو پاور سیکٹر کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت میں 10 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ معاشی دھچکا ایک ایسے ملک کے لیے تباہ کن ہے جہاں 82 فیصد لوگ غیر رسمی روزگار سے وابستہ ہیں اور فی کس آمدنی محض 1447 ڈالر ہے۔
موسمیاتی تبدیلیاں اور عالمی برادری سے ایکشن کا مطالبہ
ماہرین ارضیات اور موسمیات اس تباہی کو واضح طور پر موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن گروپ کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ عالمی حدت، گلیشیئرز کے پگھلنے اور پہاڑی سلسلوں کے عدم استحکام کا مشترکہ نتیجہ ہے۔
مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا نیپالی سفارتخانے کا دورہ، ہر ممکن مدد دینے کی پیشکش
امپیریل کالج لندن کی پروفیسر فریڈرک اوٹو نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اس آفت کے پیچھے موسمیاتی تبدیلی کے محرکات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے خطرات کو تسلیم کرتے ہوئے ہمالیائی خطے کو بچانے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرے۔














