بحیرۂ عرب میں برقی شعاع مچھلی کی نئی قسم دریافت

جمعرات 29 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کے محکمۂ حیوانیات کے مطابق شمالی بحرِ ہند میں بحیرۂ عرب کے جنوب مشرقی گہرے پانیوں میں برقی شعاع مچھلی کی نئی نوع دریافت ہوئی ہے۔ یہ شمالی بحرِ ہند میں ٹیٹرونارسی نسل کی پہلی مصدقہ دریافت ہے، جس سے گہرے سمندر کی کم دریافت شدہ حیاتیاتی تنوع کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔

بھارتی محکمۂ حیوانیات (زیڈ ایس آئی) کے مطابق یہ دریافت وزارتِ ارضیاتی علوم کے ’ڈیپ اوشن مشن‘ کے تحت کی جانے والی تحقیق کا حصہ ہے۔ تحقیق کے نتائج بین الاقوامی سائنسی جریدے ’زوٹاکسا‘ میں شائع ہوئے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ گہرے سمندر کے ماحول کا مطالعہ دنیا کے مشکل ترین سائنسی کاموں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ ان علاقوں میں موجود جانداروں اور ان کی خصوصیات کے بارے میں اب بھی محدود معلومات دستیاب ہیں۔

یہ بھی پڑھیے وہ لمحہ جب دنیا نے پہلی بار وہیل مچھلیوں کا گیت سنا

نئی دریافت ہونے والی مچھلی کی کئی منفرد جسمانی اور جینیاتی خصوصیات سامنے آئی ہیں۔ اس کی پشت کا رنگ یکساں گہرا نیلگوں سیاہ یا گہرا بھورا ہے، جبکہ اس کے جسم کی چوڑائی لمبائی سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ اس کے جسم میں مخصوص سوراخوں کے گرد ابھار موجود نہیں، اندرونی توازن سے متعلق اعضا کے سوراخ نسبتاً بڑے اور برقی اعضا چھوٹے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس کی ریڑھ کی ہڈی میں مہرے کی مجموعی تعداد 99 ہے۔ مائٹوکونڈریا کے سی او آئی اور این ڈی ٹو جینز کی ڈی این اے ترتیب کے تجزیے سے بھی اس کے ایک الگ ارتقائی سلسلے سے تعلق کی تصدیق ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے لاکھوں سال پرانا وہیل مچھلیوں کا وسیع و عریض قبرستان دریافت، سائنسدان حیران

اس نئی نوع کا نام ٹیٹرونارسی رامان مورتی  رکھا گیا ہے، جو وزارتِ ارضیاتی علوم کے ڈیپ اوشن مشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ایم وی رامانا مورتی کے اعزاز میں ہے۔ برقی شعاع مچھلیاں موٹے، گول جسم اور چھوٹی دم والی سمندری مچھلیاں ہیں، جو عموماً ریتلی یا کیچڑ والی تہہ پر رہتی ہیں۔ یہ اپنے شکار کو بے حرکت کرنے اور خطرات سے بچنے کے لیے 8 سے 220 وولٹ تک برقی جھٹکے پیدا کرسکتی ہیں۔ یہ جسامت میں مانٹا رے مچھلیوں سے بہت چھوٹی ہوتی ہیں، جن کے پروں جیسی پھیلی ہوئی ساخت کا پھیلاؤ 29 فٹ تک پہنچ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp