وہ لمحہ جب دنیا نے پہلی بار وہیل مچھلیوں کا گیت سنا

پیر 21 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سنہ 1970 میں ریلیز ہونے والے ایک البم نے وہیل مچھلیوں کی پراسرار آوازیں دنیا تک پہنچا دیں جس کے بعد ان سمندری جانداروں کے بارے میں انسانوں کی سوچ ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔

یہ بھی پڑھیں: لاکھوں سال پرانا وہیل مچھلیوں کا وسیع و عریض قبرستان دریافت، سائنسدان حیران

سال 1952 کی بات ہے۔ دنیا سرد جنگ کے عروج پر تھی اور امریکا کے سونار انجینیئر فرینک واٹلنگٹن برمودا کے ساحل کے قریب سمندر کی گہرائیوں میں سوویت آبدوزوں اور زیرِ سمندر زلزلوں کی سرگرمیوں کا سراغ سننے پر مامور تھے۔

واٹلنگٹن ایک ابتدائی نوعیت کے آبی صوتی آلے ہائیڈروفون کا استعمال کررہے تھے۔ اس میں طویل تار کے سرے پر ایک مائیکروفون لگا ہوتا تھا جسے سمندر کی گہرائی میں اتارا جاتا تھا۔

یہ معلوم نہیں کہ اس دوران انہوں نے فوجی سرگرمیوں کے بارے میں کیا کچھ سنا لیکن انہیں جلد ہی کچھ اور پراسرار آوازیں سنائی دینے لگیں۔

یہ اداس اور عجیب سی آوازیں بعض اوقات گھنٹوں جاری رہتیں۔ واٹلنگٹن ان سے حیران بھی تھے اور متاثر بھی۔ انہیں یقین تو نہیں تھا لیکن آہستہ آہستہ انہیں اندازہ ہونے لگا کہ یہ آوازیں شاید ہمپ بیک وہیل مچھلیوں کی ہیں۔ بعد میں ثابت ہوگیا کہ ان کا اندازہ درست تھا۔

مزید پڑھیے: پاکستان کی قیمتی ’ ٹراؤٹ مچھلی ‘ کی نسل کم کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ اہم وجوہات سامنے آگئیں

واٹلنگٹن اور دیگر محققین کی جانب سے ہمپ بیک وہیل کی بات چیت کی یہ ابتدائی ریکارڈنگز آنے والے برسوں میں انسانوں کا وہیل مچھلیوں کے بارے میں تصور بدلنے والی تھیں۔

سنہ 1970 میں جب یہی آوازیں ایک تاریخی البم ’سانگز آف دی ہمپ بیک وہیل‘ میں شامل ہوئیں تو دنیا نے پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پر وہ پراسرار اور کسی دوسری دنیا سے آنے والی محسوس ہونے والی آوازیں سنیں جنہیں آج وہیل مچھلیوں کا گیت کہا جاتا ہے۔

اس کے بعد وہیل کا گیت مقبول ثقافت کا حصہ بن گیا اور ’وہیل مچھلیوں کو بچاؤ‘ کی ابھرتی ہوئی عالمی تحریک کے لیے ایک علامت بن گیا۔ اس تحریک نے بالآخر ہمپ بیک وہیل کی تیزی سے کم ہوتی تعداد کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کیا۔

 

گیت کی دریافت کیسے ہوئی؟

واٹلنگٹن نے اپنی ریکارڈنگز مقامی لوگوں اور محققین کے ساتھ شیئر کرنا شروع کردیں۔ سال 1967 میں ان کی ملاقات صوتی حیاتیات کے ماہرین کیٹی پین اور راجر پین سے ہوئی جو برمودا پہنچے تھے۔

واٹلنگٹن نے انہیں اپنی تحقیقاتی کشتی کے انجن روم میں یہ ریکارڈنگ سنائی۔ یہ دوسری جنگ عظیم کے زمانے کا لکڑی سے بنا ایک سابق بارودی سرنگ شکن بحری جہاز تھا اور ریکارڈنگ سنتے وقت اس کا جنریٹر بھی شور کررہا تھا۔

راجر پین نے سنہ 2020 میں بی بی سی کے ایک پروگرام میں بتایا تھا کہ انتہائی خراب حالات میں بھی جو آوازیں انہوں نے سنیں وہ کسی جانور کی جانب سے سنی گئی سب سے غیر معمولی اور حیرت انگیز صوتی کارکردگی تھیں۔

کیٹی اور راجر پین ان آوازوں کے حسن اور ان میں موجود حیرت انگیز تنوع سے بہت متاثر ہوئے۔

کیٹی کے مطابق بعد کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ آوازیں ایک ہی جانور کی تھیں۔

واٹلنگٹن نے انہیں اپنی ایک ریکارڈنگ دے دی جس کے بعد کیٹی اور راجر پین نے تحفظِ ماحول کے ماہر اسکاٹ مک وے، ریاضی دان ہیلا مک وے اور محقق ایلینورا ڈی آرمز کے ساتھ مل کر ان آوازوں کو سمجھنے اور ان کے نمونے دریافت کرنے پر کام شروع کردیا۔

وہیل کے گیت کی اس سے بھی پرانی ریکارڈنگ

ملاحوں اور وہیل کا شکار کرنے والوں کی پرانی تحریروں میں ہمپ بیک وہیل کی آوازوں کا ذکر ملتا ہے لیکن 20ویں صدی کے آغاز تک ان میں سے زیادہ تر معلومات لوگوں کی یادداشت سے تقریباً غائب ہوچکی تھیں۔

تاہم سال 2026 میں ہمپ بیک وہیل کی اس سے بھی پرانی سنہ 1949 کی ایک ریکارڈنگ دریافت ہوئی۔

مزید پڑھیں: دریاؤں میں بڑھتی آلودگی  سے مچھلیوں کی نسل کشی اور ماہی گیروں کے مشکلات

اس ریکارڈنگ کو برمودا کے قریب سائنس دانوں نے محفوظ کیا تھا لیکن اس وقت وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ وہیل کی آوازیں ہیں۔ انہوں نے اسے صرف ’مچھلیوں کی آوازیں‘ کا نام دے کر محفوظ کرلیا تھا۔

بعد میں معلوم ہوا کہ ان آوازوں کو طویل اور باقاعدہ انداز میں بار بار دہرایا جارہا تھا۔

راجر پین کے مطابق اگر کوئی شخص ان آوازوں کو بار بار سنتا تو بالآخر اسے اندازہ ہوجاتا کہ یہ محض شور نہیں بلکہ ایک منظم اور دہرایا جانے والا سلسلہ ہے۔ بعض اوقات یہ گیت آدھے گھنٹے تک جاری رہتے اور پھر دوبارہ شروع ہوجاتے۔

کک آئی لینڈز میں وہیل پر تحقیق کرنے والی نین ہاؤزر کے مطابق اس زمانے میں لوگوں کو معلوم تھا کہ وہیل مچھلیاں آوازیں نکالتی ہیں لیکن یہ سمجھنا کہ وہ دراصل ’گیت‘ گا رہی ہیں، ایک بہت بڑی فکری پیشرفت تھی۔

ان کے مطابق یہ فرق ایک جانور کے محض آوازیں نکالنے سے لے کر اس کے انتہائی پیچیدہ اور منظم صوتی اظہار تک پہنچنے کے مترادف تھا۔

’سانگز آف دی ہمپ بیک وہیل‘ نے دنیا بدل دی

راجر پین ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرتے تھے اور بہت جلد انہیں احساس ہوگیا کہ ان کے ہاتھ میں صرف ایک سائنسی دریافت نہیں بلکہ ایک ایسی چیز بھی ہے جو عام لوگوں کے دلوں کو چھو سکتی ہے۔

وہ وہیل کی آوازیں ہر اس شخص کو سنانے لگے جو انہیں سننا چاہتا تھا۔ وہ انہیں وہیل کے شکار کے خلاف احتجاجی مظاہروں، کانفرنسوں اور حتیٰ کہ عشائیوں میں بھی چلاتے۔

امریکا میں سمندری حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم اوشن الائنس کے سربراہ آئین کیر کے مطابق راجر پین ایک ایسے بچے کی طرح تھے جسے نیا کھلونا مل گیا ہو اور وہ چاہتے ہوں کہ ہر شخص اسے دیکھے اور سنے۔

سنہ 1970 میں راجر پین، کیٹی پین اور فرینک واٹلنگٹن نے ’سانگز آف دی ہمپ بیک وہیل‘ نامی البم جاری کیا جس میں ہمپ بیک وہیل کی 5 ریکارڈنگز شامل تھیں۔ ان ریکارڈنگز کا انتخاب خاص طور پر اس لیے کیا گیا تھا کہ ان میں خوبصورتی اور انسانوں کو متاثر کرنے کی غیر معمولی صلاحیت تھی۔

البم غیر معمولی طور پر مقبول ہوا اور اس کی ایک لاکھ 25 ہزار سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوئیں، جس کے باعث یہ تاریخ کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا قدرتی ماحول سے متعلق البم بن گیا۔

اس البم کا ایک اقتباس نیشنل جیوگرافک کے تمام ایک کروڑ 5 لاکھ صارفین تک بھی پہنچایا گیا جو اس وقت ریکارڈنگ کی تاریخ میں ایک ہی بار میں کی جانے والی سب سے بڑی اشاعت تھی۔

وہیل کا گیت مقبول ثقافت کا حصہ بن گیا

راجر پین نے البم کو وہیل مچھلیوں کے تحفظ کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا اور اس کی کاپیاں بیٹلز سے لے کر باب ڈیلن تک متعدد مشہور شخصیات کو بھی بھیجیں۔

گلوکارہ جوڈی کولنز اور کیٹ بش نے بھی اپنی موسیقی میں وہیل کی آوازوں کو شامل کیا۔

یہ بھی پڑھیے: برٹش کولمبیا میں آگ لگنے کی انوکھی وجہ آسمان سے گرنے والی مچھلی قرار دی گئی

سنہ 1986 کی فلم ’اسٹار ٹریک‘ میں بھی وہیل کی آوازوں کے اقتباسات استعمال کیے گئے۔ فلم کی کہانی میں ماضی میں جاکر ہمپ بیک وہیلوں کو معدوم ہونے سے بچانے کا تصور پیش کیا گیا تھا۔

اس سے بھی پہلے سنہ 1977 میں وہیل کی آواز کا ایک اقتباس خلائی جہاز وائجر ون کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا۔ اسے وائجر کے ’گولڈن ریکارڈ‘ میں شامل کیا گیا تھا جس کا مقصد زمین پر زندگی اور انسانی تہذیب کے بارے میں ممکنہ طور پر کسی دوسری دنیا کی مخلوق تک معلومات پہنچانا تھا۔

وہیل کے بارے میں انسانوں کا تصور کیسے بدلا؟

امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی کے ماحولیاتی تاریخ دان میکس برج کے مطابق سنہ 1970 سے پہلے بڑے وہیل مچھلیوں کی آوازیں عام لوگوں تک بہت کم پہنچی تھیں۔

سنہ 1960 کی دہائی کی فلموں اور کارٹونز میں بڑی وہیل مچھلیوں کو اکثر خاموش دکھایا جاتا تھا یا ان کی آوازیں خوفناک غرّاہٹ اور بھاری آوازوں جیسی تصور کی جاتی تھیں۔

ماہرین کے مطابق البم کی ریلیز وہیل مچھلیوں کے بارے میں عوامی تصور میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کا حصہ تھی۔

ماضی میں وہیل مچھلیوں کو کبھی خوف کی علامت سمجھا جاتا تھا جیسا کہ ’موبی ڈک‘ جیسی کہانیوں میں نظر آتا ہے جبکہ بعض اوقات انہیں صرف ایک تجارتی وسیلہ سمجھا جاتا تھا۔

لیکن وہیل کے گیت سننے کے بعد وہیل مچھلیاں آہستہ آہستہ دنیا بھر میں ایسے دلکش اور قابلِ تحفظ جنگلی جانوروں کی علامت بن گئیں جن کے بارے میں لوگ جذباتی وابستگی محسوس کرنے لگے۔

صدیوں تک وہیل مچھلیوں کا شکار تیل، صابن اور خوشبوؤں میں استعمال ہونے والے عنبر سمیت مختلف مقاصد کے لیے کیا جاتا رہا تھا۔ سنہ 1970 کی دہائی کے آغاز تک وہیل کی کئی اقسام معدومی کے قریب پہنچ چکی تھیں۔

ان میں ہمپ بیک وہیل بھی شامل تھیں اور شکار سے پہلے کی ان کی تعداد کا 5 فیصد سے بھی کم باقی رہ گیا تھا۔

آخر وہیل مچھلیاں گاتی کیوں ہیں؟

آج بھی سائنس دان یقینی طور پر نہیں جانتے کہ ہمپ بیک وہیل مچھلیاں گاتی کیوں ہیں۔چونکہ زیادہ تر نر وہیل گاتے ہیں اس لیے عام خیال یہ ہے کہ اس کا تعلق افزائشِ نسل سے ہوسکتا ہے۔ ممکن ہے کہ نر وہیل ان آوازوں کے ذریعے مادہ کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہوں یا دوسرے نر وہیلوں کو اپنے علاقے سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہوں۔

لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ بھی ہوسکتا ہے۔

بعض سائنس دانوں کے مطابق یہ گیت طویل فاصلے تک رابطے یا زیرِ آب راستوں اور ماحول کی شناخت میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔ آواز کی پچ میں تبدیلیاں شاید وہیل کو اپنے اردگرد کے سمندری ماحول کا اندازہ لگانے میں مدد دیتی ہوں۔

مزید پڑھیں: چین کا مچھلی نما زیرِ آب روبوٹ متعارف، خودکار نیویگیشن کی صلاحیت بھی موجود

نین ہاؤزر کے مطابق ممکن ہے کہ ایک گانے والا نر اپنی ذات کے بارے میں کوئی معلومات دوسروں تک پہنچا رہا ہو یا ان آوازوں کے ایسے سماجی مقاصد ہوں جنہیں سائنس دان ابھی سمجھ نہیں سکے۔

وہیل کے گیت نے تحفظ کی تحریک کو تقویت دی

سنہ 1970 کی دہائی کے وسط میں گرین پیس کی جانب سے وہیل کے شکار کی تصاویر سامنے آنے کے ساتھ ’سانگز آف دی ہمپ بیک وہیل‘ نے وہیل کے شکار کے خلاف ابھرتی ہوئی تحریک کو مزید تقویت دی۔

نین ہاؤزر کے مطابق اس البم نے عام لوگوں کو اپنے گھروں میں بیٹھ کر وہیل کی آواز سننے کا موقع دیا۔ انہیں متاثر ہونے کے لیے سائنس دان ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔

عوامی دباؤ بڑھنے کے بعد سنہ 1972 میں امریکی کانگریس نے سمندری ممالیہ جانوروں کے تحفظ کا قانون منظور کیا۔

اس کے بعد سنہ 1982 میں تجارتی سطح پر وہیل کے شکار پر عالمی پابندی کا قانونی طور پر پابند معاہدہ منظور ہوا جبکہ سنہ 1985 اور سنہ 1986 میں اس پر مکمل پابندی عائد کردی گئی۔

اس کے بعد وہیل کی بعض اقسام کی تعداد میں اضافہ شروع ہوا اور خاص طور پر ہمپ بیک وہیل نے قابلِ ذکر بحالی دیکھی۔ بعض علاقوں میں اب ایک وقت میں سیکڑوں ہمپ بیک وہیل ایک ساتھ بھی دیکھی جاتی ہیں۔

وہیل کا گیت اور ماحولیات کی نئی سوچ

وہیل کے گیت کی دریافت سنہ 1960 اور سنہ 1970 کی دہائی میں ماحولیات اور جانوروں کی ذہانت کو سمجھنے کے حوالے سے آنے والی ایک وسیع تر تبدیلی کا حصہ تھی۔

ماہر ماحولیات ریچل کارسن نے سنہ 1962 میں اپنی معروف کتاب ’خاموش بہار‘ شائع کی جس میں مصنوعی کیڑے مار ادویات کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا۔

مزید پڑھیے: آسٹریلیا: دیوہیکل کٹل فش کی افزائش کے موسم میں مچھلیوں کی تعداد میں تشویشناک کمی

سنہ 1970 میں پہلے یومِ ارض نے تقریباً 2 کروڑ لوگوں کو متحرک کیا، جبکہ جین گڈال اور ڈیان فوسی جیسے سائنس دان انسانوں سے مشابہ ذہین جانوروں کے بارے میں ہماری سمجھ کو تبدیل کررہے تھے۔

وہیل کا گیت اس وسیع تر ماحولیاتی بحران کی علامت بن گیا اور بعض لوگوں نے اسے قدرتی دنیا کی ایک اداس فریاد کے طور پر بھی دیکھا۔

بعد میں سنہ 1970 کی دہائی کے آخر میں امریکی مقبول ثقافت میں ماحولیات کی ایسی علامتوں کے بارے میں زیادہ شکوک پیدا ہوئے جبکہ سنہ 1980 کی دہائی میں وہیل کی آوازیں ’نیو ایج‘ موسیقی میں بھی نمایاں ہوگئیں۔

آج بھی بہت سے لوگ ان آوازوں کو ذہنی سکون اور روزمرہ کے دباؤ سے نجات کے لیے سنتے ہیں۔

وہیل کے گیت نے سائنسی تحقیق کے نئے دروازے کھول دیے

وہیل کے گیت کی دریافت نے وہیل مچھلیوں کی جدید سائنسی تحقیق کو بھی فروغ دیا۔

کیٹی پین نے دریافت کیا کہ ایک ہی علاقے میں موجود تمام نر ہمپ بیک وہیل تقریباً ایک جیسا گیت گاتی ہیں لیکن وقت کے ساتھ یہ گیت تبدیل بھی ہوتا رہتا ہے۔

اب سائنس دان جانتے ہیں کہ یہ گیت ایک آبادی سے دوسری آبادی تک سمندر کے انتہائی وسیع علاقوں میں پھیل سکتے ہیں اور بعض اوقات تیزی سے ایک پرانے مقامی گیت کی جگہ نیا گیت لے لیتا ہے۔

نین ہاؤزر کے مطابق سائنس دان دراصل سمندر میں ثقافت کو منتقل ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔

ہمپ بیک وہیل کے گیت کو وہیل کی دنیا میں اب تک کا سب سے پیچیدہ معلوم صوتی اظہار سمجھا جاتا ہے اور اس میں انسانی زبان سے مشابہ کچھ خصوصیات بھی دیکھی گئی ہیں۔

دوسری وہیل مچھلیاں بھی حیران کن انداز میں رابطہ کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر اسپرم وہیل ’کوڈاز‘ نامی مخصوص کلک آوازوں کے سلسلوں کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کرتی ہیں جو کسی حد تک مورس کوڈ سے مشابہ ہیں۔ سائنس دانوں کو معلوم ہوا ہے کہ مختلف علاقوں میں ان کی آوازوں کے الگ الگ لہجے بھی ہوسکتے ہیں۔

اسی طرح نر اسپرم وہیل نسبتاً سست، گہری اور انتہائی بلند آوازیں بھی پیدا کرتے ہیں۔

دنیا کی سب سے بڑی مخلوق، نیلی وہیل کی آوازیں اتنی کم فریکوئنسی کی ہوتی ہیں کہ انسان انہیں براہِ راست سن نہیں سکتا، تاہم یہ آوازیں سمندر میں تقریباً ایک ہزار میل یعنی 1600 کلومیٹر تک سفر کرسکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: موجودہ ٹیکس نظام کو چھیڑے بغیر مچھلی کی برآمدات بڑھانے کے لیے مراعاتی اسکیم لانے کی تیاری

کچھ محققین اب وہیل سے ’بات چیت‘ کرنے اور یہ سمجھنے کی کوشش بھی کررہے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے کیا کہتی ہیں۔ راجر پین نے اپنی زندگی کے آخری حصے میں اس کوشش میں بھی حصہ لیا۔

وہیل کی پرانی آوازیں آج کیوں اہم ہیں؟

آج دنیا بھر میں وہیل اور دیگر جانوروں کی آوازوں کی ہزاروں ریکارڈنگز موجود ہیں لیکن اوشن الائنس کے سربراہ آئین کیر کے مطابق سنہ 1970 کی دہائی کی ان ابتدائی ریکارڈنگز جیسی دلکشی اور ہم آہنگی آج بھی کم ہی سننے کو ملتی ہے۔

وہ ان آوازوں کو سمندر کی گہرائیوں سے آنے والی ایک ’دل کو چھو لینے والی پراسرار آواز‘ قرار دیتے ہیں۔

اوشن الائنس کے وسیع ذخیرے میں سنہ 1950 سے سنہ 1990 کی دہائی تک سمندری ممالیہ جانوروں کی آوازوں کی ہزاروں ریکارڈنگز محفوظ ہیں جن میں کیٹی اور راجر پین کی ریکارڈنگز بھی شامل ہیں۔

اس ذخیرے کو ڈیجیٹل شکل دینے اور محفوظ رکھنے کی ذمہ داری ادا کرنے والی ایلیسا وائل کہتی ہیں کہ انہوں نے بچپن میں پہلی مرتبہ ’سانگز آف دی ہمپ بیک وہیل‘ سنا تو وہ تجربہ آج بھی انہیں یاد ہے۔

ان کے مطابق یہ ریکارڈنگز صرف خوبصورت آوازیں نہیں بلکہ وقت کے ایک مخصوص لمحے اور مخصوص وہیل مچھلیوں کو محفوظ کرتی ہیں۔ ان کے ذریعے سائنس دان یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ وقت کے ساتھ وہیل کس طرح مختلف انداز میں رابطہ کرنے لگی ہیں اور سمندر میں انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی آوازیں کس طرح تبدیل ہوئی ہیں۔

وہیل مچھلیوں کو اب بھی خطرات لاحق ہیں

وہیل کے تحفظ میں نمایاں پیشرفت کے باوجود یہ جانور آج بھی کئی خطرات سے دوچار ہیں۔

بحری جہازوں سے ٹکراؤ، ماہی گیری کے جال میں پھنسنا، بعض ممالک میں جاری وہیل کا شکار، سمندری شور اور بڑھتا ہوا درجہ حرارت ان کے لیے بڑے خطرات میں شامل ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق آج وہیل کی ہر 4 میں سے ایک قسم معدومی کے خطرے سے دوچار ہے جبکہ سنہ 1991 میں یہ تناسب ہر 7 میں سے ایک قسم کا تھا۔

اس کے باوجود ماہرین کے مطابق ’سانگز آف دی ہمپ بیک وہیل‘ وہیل مچھلیوں کے تحفظ کی کوششوں میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔

نین ہاؤزر کے مطابق زیادہ تر لوگ شاید کبھی زندہ ہمپ بیک وہیل نہ دیکھ سکیں لیکن اس البم نے انہیں اپنے گھروں میں بیٹھ کر ایک وہیل کی آواز سننے کا موقع دیا۔

مزید پڑھیے: قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟

یوں سوال صرف یہ نہیں رہا کہ سمندر میں کتنی وہیل مچھلیاں باقی رہ گئی ہیں بلکہ یہ سوال بھی پیدا ہوا کہ آخر ہم کس قسم کی جاندار مخلوق کو ختم کررہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد میں پولیس پر حملہ، اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے زیر حراست ڈکیت زخمی

مصنوعی ذہانت کے استعمال کا معاملہ، کینیڈین پبلشر نے معروف ناول نگار سے تعلق ختم کرلیا

سائبر سیکیورٹی کے سنگین خطرات، دنیا بھر میں متعدد ویب سائٹس بند

قطر سے ایل این جی کا دوسرا جہاز پاکستان پہنچ گیا، گیس سپلائی میں کچھ بہتری کی امید

خیبر پختونخوا میں ڈپٹی کمشنرز کو کون سا نیا خصوصی اختیار دیدیا گیا؟

ویڈیو

’روشنی ایک رات کی‘: تورڈھیر میں سوا کروڑ روپے کی لائٹس 5 برسوں سے بند، حکومتی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی

تحریک انصاف مذاکرات کے لیے تیار نہیں تو زبردستی بات نہیں ہوسکتی، وفاقی وزیر مصدق ملک

خیبرپختونخوا میں اربوں روپے کے منصوبوں میں کمیشن اور کرپشن کے الزامات، ہادی پتنگ کے کردار پر سوالات اٹھ گئے

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟