امریکی خاتون ڈیلیوری ڈرونز کی آواز سے پریشان، باغبانی اور سائیکل چلانا چھوڑ دیا

جمعرات 29 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈلاس کے نواحی علاقے نارتھ گارلینڈ میں رہنے والی 44 سالہ ایشلے شمٹ نے سامان پہنچانے والے ڈرونز کی مسلسل بھنبھناہٹ سے تنگ آکر باغبانی اور سائیکل چلانا چھوڑ دیا ہے۔

مزید پڑھیں:سویڈن کے جزیرے پر ڈرون سے فوڈ ڈیلیوری کا آغاز

فطرت سے محبت کرنے والی ایشلے پہلے اپنے گھر کے باغیچے میں وقت گزارتی اور قریبی پارکوں میں سائیکل چلا کر کیڑے مکوڑوں، چھپکلیوں اور مینڈکوں کی قریب سے تصاویر بناتی تھیں، لیکن اب فضائی ڈیلیوری ڈرونز کی آواز نے ان سرگرمیوں سے ان کی دلچسپی متاثر کردی ہے۔

ایشلے کے مطابق ڈرونز کی تیز اور مسلسل بھنبھناہٹ انہیں شدید بے چینی میں مبتلا کردیتی ہے اور ان کے اندر خطرے کے ردعمل کو متحرک کردیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈرون کے قریب آنے، گھر کے عین اوپر سے گزرنے اور دور جانے تک اس کی آواز سنائی دیتی رہتی ہے، حتیٰ کہ گھر کے اندر بھی اس کی گونج محسوس ہوتی ہے۔

یہ ڈرونز علاقے کے رہائشیوں کے آن لائن خریداری کے آرڈرز پہنچاتے ہیں، تاہم ایشلے کے لیے سہولت کی یہ ٹیکنالوجی اب سکون اور فطرت سے قربت میں رکاوٹ بن گئی ہے۔

مزید پڑھیں:بھارتی ڈرونز کو وار ٹرافی کے طور پر لگانے کا اعلان، حملوں کا جواب آئے گا، عطاتارڑ

ایمیزون کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ڈیلیوری ڈرونز کی آواز کم کرنے کے لیے کام کررہی ہے، تاہم بڑھتی ہوئی ڈرون سروسز نے سہولت اور شہری سکون کے درمیان ایک نیا سوال کھڑا کردیا ہے۔ کیا چند منٹ میں گھر تک سامان پہنچانے کی سہولت کے لیے لوگوں کو اپنے گھروں اور باغیچوں میں بھی شور برداشت کرنا ہوگا؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp