وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے لیے ریاست اس دن تک ماں ہوتی ہے جب تک وہ ریاست سے فائدے اٹھا رہے رہتے ہیں اور جب کوئی حصہ نہ ملے تو اس پر تھوک دتیے ہیں جو انتہائی نا مناسب طرز عمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ماڈل جیل جلد مکمل ہوگی، اڈیالہ جیل کے قیدیوں کو شفٹ کریں گے، محسن نقوی
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے مولانا فضل الرحمان کے ایران کے دورے سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے کہا تھا کہ ہم ایران میں دفاعی معاہدہ کرنے گئے تھے، حالانکہ وہ موجودہ بحران کو سنبھالنے کے لیے ایران گئے تھے اور وہاں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہوا۔
تنقید کرتے ہو تو تنقید سننے کی ہمت بھی کریں۔ اب آپ کو ریاست سے نہ نوکری ملے گی، نہ پیسے ملیں گے، نہ ٹکٹیں۔ محسن نقوی https://t.co/9u7FVVAtBw
— WE News (@WENewsPk) October 29, 2026
محسن نقوی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے وزیر دفاع سے سوال کیا تھا کہ وہ ایران کیوں نہیں گئے، انہوں نے میرے بارے میں سوال کیا کہ میں ایران کیوں گیا ہوا تھا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ شوق سے ایران نہیں گئے تھے بلکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں موجودہ بحران کے حوالے سے بعض امور کی ذمہ داری سونپی تھی، اسی لیے وہ ایران گئے۔
محسن نقوی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اداروں کے بارے میں نامناسب بیانات دیے اور گزشتہ روز کہا کہ وہ ریاست پر تھوکتے ہیں۔ ان کے بقول مولانا کے لیے ریاست اس وقت تک ماں ہوتی ہے جب تک وہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ریاست سے مال ملتا رہتا ہے، لیکن جب ریاست یا حکومت میں حصہ نہ ملے تو اس پر تھوکنے کی باتیں کی جاتی ہیں، جو کسی صورت مناسب نہیں۔
انہوں نے اسلام کو کاروبار اور سیاست کے لیے استعمال کیا ہے۔ سینیٹر علی ظفر صاحب! یہ لوگ جو آپ کے ساتھ یہاں اپوزیشن کرتے ہیں، یہی لوگ گورنر راج سے پہلے ہمیں کہتے تھے کہ گورنر راج لگائیں اور ہماری ان سے جان چھڑائیں۔ محسن نقوی https://t.co/FpYbiy93o8
— WE News (@WENewsPk) October 29, 2026
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اسلام کو کاروبار اور سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کی تقریر کے دوران جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے شور شرابا کیا تو محسن نقوی نے کہا کہ تنقید کرتے ہیں تو جواب سننے کی ہمت بھی رکھیں۔
یہ بھی پڑھیں: اختلافات مذاکرات سے حل ہوں گے، جنگ سے نہیں، محسن نقوی کا تہران میں دوٹوک پیغام
وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر مولانا فضل الرحمان کی عزت کرتے تھے، لیکن انہوں نے احترام کی گنجائش نہیں چھوڑی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ریاست پر تھوکنے کی باتیں کرنا زیب دیتا ہے؟ ‘یہ اسلام کو بزنس کے لیے استعمال کرتے ہیں، اسلام کو سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں’۔
ریاست اُس دن تک ماں ہوتی ہے، جب تک یہ اسے نچوڑتے ہیں۔ جب تک ریاست سے مال لیتے ہیں، ریاست اچھی ہوتی ہے، لیکن جب ریاست اور حکومت میں حصہ نہ ملے تو ریاست پر تھوک دو۔محسن نقوی کی مولانا فضل الرحمان پر کڑی تنقید https://t.co/jWL0oXe3YX
— WE News (@WENewsPk) October 29, 2026
محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے سے پہلے یہی لوگ ان کے پاس آکر کہتے تھے کہ صوبے میں گورنر راج لگائیں اور ان کی جان چھڑائیں۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب انہیں ریاست میں نہ نوکریاں ملنی ہیں، نہ پیسے اور نہ ہی ریاست کی طرف سے ٹکٹیں ملنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا مسلسل حد پار کر رہے ہیں اور اگر وہ ایسا کریں گے تو انہیں جواب بھی ملے گا۔











