پوپ لیو چہاردہم کے پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص کے بعد ان کی صحت اور مستقبل کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے، تاہم مرض کی شدت اور جسم کے دیگر حصوں تک پھیلنے سے متعلق تاحال واضح معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم کو پھیپھڑوں کا کینسر لاحق ہے۔ ان کے دائیں پھیپھڑے کے نچلے حصے کو نکالنے کے لیے سرجری کی گئی تھی، جس کے دوران کینسر کی تشخیص ہوئی۔ انہیں پھیپھڑوں کے کینسر کی ایک عام قسم ‘لَنگ ایڈینو کارسینوما’ لاحق ہے، جس کا ابتدائی مرحلے میں پتا چلنے پر علاج زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے، تاہم پوپ کے مرض کا مرحلہ تاحال ظاہر نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا پوپ لیو چہاردہم کا آپریشن کامیاب
رپورٹ میں آن لائن اشاعت ‘ریڈار’ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹروں کو خدشہ ہے کہ کینسر جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلا ہو سکتا ہے اور پوپ لیو چہاردہم رواں سال کرسمس تک بھی زندہ نہ رہ سکیں۔ تاہم یہ پیش گوئی ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہے اور اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
اس حوالے سے ڈاکٹر اسٹورٹ فشر نے کہا کہ پوپ لیو میں جینیاتی طور پر کینسر کا امکان زیادہ ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق پوپ کی والدہ مِلڈریڈ مارٹینیز 1990 میں 78 سال کی عمر میں کینسر کے باعث انتقال کر گئی تھیں، جبکہ ان کے 74 سالہ بھائی لوئس پریوووسٹ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ بھی خون کے پلازما خلیوں کے کینسر ‘ملٹی پل مائیلوما’ میں مبتلا ہیں اور ریاست فلوریڈا کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
ڈاکٹر اسٹورٹ فشر نے واضح کیا کہ انہوں نے پوپ لیو چہاردہم کا علاج نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے پوپ میں اس بیماری کا مقابلہ کرنے کی طاقت اور حوصلہ موجود ہوگا اور انہیں اپنے اہلِ خانہ اور دیگر افراد کی حمایت حاصل رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پوپ لیو پھیپھڑوں کے کینسر سے صحتیاب ہوگئے
ڈاکٹر فشر کے مطابق جب کینسر اسکین میں نظر آنے کے قابل ہوجائے تو اس کے جسم کے دوسرے حصوں تک پھیلنے کا خدشہ بھی موجود ہوتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پھیپھڑے جسم میں خون کی گردش کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے کینسر کے خلیے خون کے ذریعے جسم کے دیگر حصوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ پوپ کا مدافعتی نظام ان خلیوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔
پوپ لیو چہاردہم کا تعلق امریکی شہر شکاگو سے ہے اور وہ ویٹیکن سٹی کے سربراہ ہیں۔ وہ مئی 2025 میں کیتھولک چرچ کے پہلے امریکی پوپ منتخب ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان کی کینسر کی تشخیص اس تاریخی انتخاب کے تقریباً 17 ماہ بعد سامنے آئی ہے۔











