مفتی محمود مرکز تجاوزات آپریشن کی زد میں، جے یو آئی کا احتجاج، گورنر کا دوٹوک مؤقف

جمعرات 29 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے دوران جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے صوبائی سیکرٹریٹ مفتی محمود مرکز کے خلاف مبینہ تجاوزات کا معاملہ سیاسی تنازع کی شکل اختیار کرگیا ہے جہاں ایک طرف جے یو آئی نے انتظامیہ کی ممکنہ کارروائی کے خلاف مزاحمت کا عندیہ دیا ہے۔ دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا ہے کہ ناجائز تجاوزات پر قابض افراد کو جگہ خالی کرنی ہوگی اور وہ اس معاملے میں کسی کی سفارش نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: مولانا فضل الرحمان نے نامناسب بیان دیا، حکومت میں حصہ ملے تو ٹھیک ورنہ ریاست بری ہوجاتی ہے، محسن نقوی

مفتی محمود مرکز کو تجاوزات کے حوالے سے مبینہ نوٹس جاری ہونے کی اطلاعات کے بعد انصارالاسلام کے رضاکاروں، پارٹی کارکنوں، صوبائی قائدین اور اراکین پارلیمنٹ کی مرکز آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا جبکہ رضاکاروں نے مرکز کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے۔

دوسری جانب جے یو آئی کے صوبائی ترجمان عبدالجلیل جان کا کہنا ہے کہ چیف سیکرٹری اور ڈپٹی کمشنر پشاور سے ملاقاتوں کے بعد انتظامیہ نے مرکز کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

جے یو آئی کا مؤقف: نوٹس نہیں ملا، عمارت کا نقشہ منظور شدہ ہے

جے یو آئی کے صوبائی ترجمان عبدالجلیل جان نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی امیر سینیٹر مولانا عطا الرحمٰن کی سربراہی میں وفد نے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا سے ملاقات کی جس کے بعد قائم کردہ کمیٹی نے ڈپٹی کمشنر پشاور سے ملاقات کرکے پارٹی کا مؤقف پیش کیا۔

ان کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے مؤقف تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں سکیورٹی خطرات موجود ہیں اور انتظامیہ کا مرکز کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ عبدالجلیل جان کا کہنا تھا کہ انہیں کسی نوٹس کی باقاعدہ وصولی نہیں ہوئی اور اس معاملے کا علم سوشل میڈیا کے ذریعے ہوا۔

مزید پڑھیے: ریاست کا ماں جیسا درجہ، مولانا فضل الرحمان کے نازیبا الفاظ سے قوم کو شدید تکلیف پہنچی، رانا ثنا اللہ

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مفتی محمود مرکز کے سامنے سروس روڈ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انتظامیہ نے بند کر رکھی ہے جبکہ عمارت کے اندر پولیس چوکی بھی متعلقہ حکام کی منظوری سے قائم کی گئی ہے۔ ان کا سوال تھا کہ جب سڑک کی بندش اور پولیس چوکی حکومتی سکیورٹی انتظامات کا حصہ ہیں تو مرکز کو غیر قانونی تجاوزات کے زمرے میں کیسے شامل کیا جاسکتا ہے؟

تاہم دوسری جانب ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مفتی محمود مرکز کو مبینہ تجاوزات کے حوالے سے نوٹس جاری کیا گیا تھا جس میں عمارت کے کچھ حصے کے 52 فٹ کی مقررہ حد میں آنے کا معاملہ اٹھایا گیا۔ ذرائع کے مطابق ممکنہ مزاحمت اور ناخوشگوار صورت حال سے بچنے کے پیش نظر پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) اس نوٹس کے اجرا سے گریزاں ہے۔

عمارت کا نقشہ منظور شدہ ہے، مولانا احمد درویش

مفتی محمود مرکز کے نگران مولانا احمد درویش نے کہا ہے کہ عمارت کا نقشہ پی ڈی اے سے باقاعدہ منظور شدہ ہے اس لیے انتظامیہ کو واضح کرنا چاہیے کہ اب اس کے خلاف کارروائی کا جواز کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عمارت کے نقشے یا تعمیرات پر کوئی اعتراض تھا تو متعلقہ حکام کو پہلے ہی اس کی نشاندہی کرنی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق تجاوزات کے خلاف کارروائیوں سے عام شہریوں کے کاروبار متاثر ہوئے اور غریب عوام کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ جے یو آئی کا مؤقف ہے کہ مفتی محمود مرکز میں کوئی غیر قانونی تجاوزات نہیں کی گئیں۔

گورنر فیصل کریم کنڈی کا سخت ردعمل

مفتی محمود مرکز کے معاملے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ تجاوزات پر قابض افراد کو جگہ خالی کرنی ہوگی اور اگر مفتی محمود مرکز میں بھی ناجائز جگہوں پر تعمیرات موجود ہیں تو متعلقہ اداروں کو اس معاملے کا جائزہ لینا چاہیے۔

مزید پڑھیں: خواجہ آصف کی مولانا فضل الرحمان پر تنقید، ماضی کے سیاسی کردار اور کشمیر کمیٹی کی کارکردگی پر سوالات

انہوں نے کہا کہ جو لوگ دین، انصاف اور اسلام کی بات کرتے ہیں اگر وہ خود قبضے میں ملوث ہوں تو دوسروں کو کیا سبق دیں گے؟ حکمرانوں اور سیاسی رہنماؤں کو اپنے عمل سے مثال قائم کرنی چاہیے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی عالم دین خود قبضہ مافیا بن جائے تو اسے بھی قانون کا سامنا کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ متعلقہ محکمے اس معاملے کو دیکھ رہے ہیں اور وہ کسی کی سفارش نہیں کریں گے۔

گورنر نے مزید کہا کہ اگر ان کی اپنی ذاتی عمارت بھی تجاوزات میں آتی ہے تو پہلے اسے گرایا جائے اس کے بعد دوسروں کے خلاف بھی برابری کی بنیاد پر کارروائی کی جائے۔ انہوں نے مولانا عطا الرحمٰن کے سخت بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی ان کے ہم پلہ نہیں، اس لیے وہ ان کی دھمکی پر بات نہیں کریں گے۔

کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی، ثمر ہارون بلور

مفتی محمود مرکز کے خلاف ممکنہ کارروائی سے متعلق سوال پر مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلور نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن میں کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی کی سفارش قبول کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے: مولانا فضل الرحمان بے بنیاد الزامات سے گریز کریں، فرح عظیم شاہ

ان کے مطابق کسی کو خوش کرنے یا کسی سے انتقام لینے کے لیے کوئی عمارت نہیں گرائی جارہی بلکہ سرکاری زمین پر قائم تجاوزات کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کسی کی نجی ملکیت کو نقصان نہیں پہنچایا گیا اور حکومت کا مقصد پشاور میں ٹریفک کی روانی کے لیے راستے کھولنا اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور نقشے کی منظوری

مفتی محمود مرکز جے یو آئی کا صوبائی سیکرٹریٹ ہے اور 3 منزلہ عمارت کا نقشہ سنہ 2003 میں منظور ہوا جبکہ سابق وزیراعلیٰ اکرم خان درانی نے سال 2007 میں اس کا افتتاح کیا تھا۔

مزید پڑھیں: افواج پاکستان ہماری ریڈلائن، مولانا فضل الرحمان کی تنقید بلاجواز، کھیل داس کوہستانی

عمارت میں صوبائی عہدیداروں کے کمروں، تنظیمی دفاتر اور میڈیا سیل کے علاوہ پارٹی کی روزمرہ تنظیمی سرگرمیاں بھی جاری رہتی ہیں۔

اہم سوال: قانون کی عملداری یا سیاسی دباؤ؟

مفتی محمود مرکز کا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبائی حکومت پشاور میں تجاوزات کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کررہی ہے۔ اس صورت حال نے یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا انتظامیہ منظور شدہ نقشے، زمین کی حدود اور سیکیورٹی انتظامات کا مکمل جائزہ لے کر قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی یا سیاسی مذاکرات کے نتیجے میں معاملہ کسی کارروائی کے بغیر ختم ہوجائے گا؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp