وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور کھیل داس کوہستانی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور ہنگامی اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، جبکہ صوبے میں گورننس کی بہتری اور حکومتی اقدامات کی واضح سمت بھی نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاک فوج ہماری ریڈ لائن ہے اور مولانا فضل الرحمان کی جانب سے افواج پاکستان پر حالیہ تنقید سمجھ سے بالاتر ہے۔
’وی نیوز‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ گزشتہ 13 سال سے جاری ناکامیوں اور دہشتگردی کی سہولت کاری کے اثرات محض 13 ماہ میں ختم نہیں کیے جا سکتے، اس لیے نئے نظام کو اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے مناسب وقت دینا ہوگا۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی کی خالی جگہ پر کھیلنے کے بجائے اپنی پچ پر کھیلیں، اختیار ولی
کھیل داس کوہستانی کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا پاکستان کی مسلح افواج کی دفاعی کامیابیوں کو سراہ رہی ہے، اس نوعیت کی تلخ تنقید کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان خود خیبرپختونخوا میں محفوظ نہیں تھے، جبکہ ان کے صاحبزادے کو بھی بلوچستان میں تحفظ حاصل نہیں تھا۔
کھیل داس کوہستانی نے کہاکہ نئے صوبوں کی تشکیل اور انتظامی یونٹس کے قیام جیسے اہم معاملات پر کسی ایک سیاسی جماعت کو یکطرفہ فیصلہ کرنے کے بجائے تمام سیاسی قیادت کو پارلیمان میں بیٹھ کر جامع بحث اور مشاورت کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ عوام کو روزگار، صحت، تعلیم، بہتر سفری سہولیات اور ترقی کے مواقع فراہم کرنا حکومتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
’دہشتگردی کا خاتمہ اولین ترجیح، گورنر راج کو وقت دیا جائے‘
وزیر مملکت برائے مذہبی امور نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کے مثبت ثمرات عوام تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ صوبے میں اب گورننس کی بہتری اور حکومتی اقدامات کی واضح سمت نظر آ رہی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا ترقی کی جانب گامزن دکھائی دے رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کے دروازے مذاکرات کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں، تاہم اس وقت سب سے بڑا چیلنج دہشتگردی کا خاتمہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر آپریشنز اور کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ماضی میں بھی افواج پاکستان نے آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف نمایاں کامیابیاں حاصل کی تھیں، جبکہ اب خیبرپختونخوا کو دہشتگرد عناصر سے مکمل طور پر پاک کرنا اولین ترجیح ہے۔
کھیل داس کوہستانی نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی اور اس کی سہولت کاری گزشتہ 13 سال کی ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔ اتنے طویل عرصے میں پیدا ہونے والے مسائل محض 13 ماہ میں حل نہیں کیے جا سکتے، اس لیے گورنر اور موجودہ نظام کو اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے مناسب وقت دینا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ نظام کو کام کرنے کا بھرپور موقع دیا جائے تو خیبرپختونخوا میں حالات کی بہتری اور ترقی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
’نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس پر تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنا ہوگا‘
نئے صوبوں کی تشکیل اور انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے الگ الگ تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔
’بعض حلقے انتظامی ڈھانچے میں بہتری اور بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے پر زور دے رہے ہیں، تاہم اس نوعیت کے اہم فیصلے وسیع سیاسی مشاورت اور اتفاق رائے کے بغیر نہیں کیے جانے چاہییں۔‘
انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی خود اس معاملے کو اسمبلی میں لے کر گئی تھی، جہاں اس کی قرارداد پہلے مسترد ہوئی، تاہم بعد میں دوبارہ قرارداد پیش کی گئی۔
کھیل داس کوہستانی کا کہنا تھا کہ سندھ کے ایک شہری کی حیثیت سے وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو نئے صوبے یا انتظامی یونٹس بنانے کا اختیار کس بنیاد پر حاصل ہے؟
انہوں نے کہاکہ اگر اس حوالے سے کوئی منصوبہ موجود ہے تو اسے پارلیمان میں باقاعدہ بحث اور مشاورت کے لیے پیش کیا جانا چاہیے۔
کھیل داس کوہستانی نے کہاکہ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے اس معاملے کو قومی اسمبلی میں لے جانے کی بات اپنی جگہ، تاہم نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل کے لیے آئینی ترامیم اور قانون سازی جیسے اہم معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کو مل بیٹھ کر مشاورت کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ کس صوبے میں کتنے نئے صوبے یا انتظامی یونٹس قائم کیے جانے چاہییں۔
انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کے منشور میں پنجاب میں نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے واضح مؤقف موجود ہے، جبکہ اس سلسلے میں پنجاب اسمبلی سے قرارداد بھی منظور کی جا چکی ہے۔ تاہم خیبرپختونخوا اور سندھ میں مسلم لیگ (ن) کے پاس عوامی مینڈیٹ نہیں ہے، اس لیے ان صوبوں سے متعلق کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت وہاں کی سیاسی قیادت اور منتخب عوامی نمائندوں کی رائے کو اہمیت دینا ضروری ہے۔
’صوبوں میں گورننس کی بہتری اور مضبوط بلدیاتی نظام ناگزیر ہے‘
کھیل داس کوہستانی نے کہاکہ صوبوں میں انتظامی اصلاحات اور گورننس کی بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بعض صوبوں میں عوام کو شدید تحفظات کا سامنا ہے، مافیاز سرگرم ہیں اور عام شہری مختلف مسائل سے دوچار ہیں۔
انہوں نے کہاکہ موجودہ نظام پر عوام کا اعتماد کمزور پڑ چکا ہے، کیونکہ صوبائی حکومتیں عوام کی توقعات کے مطابق کارکردگی دکھانے میں ناکام رہی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ انتظامی ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ڈویژنز کو مضبوط انتظامی یونٹس میں تبدیل کرنے اور بلدیاتی نظام کو بااختیار بنانے پر بھی غور کیا جانا چاہیے، تاکہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جا سکیں اور عام شہریوں کو درپیش مسائل ان کی دہلیز پر ہی حل ہو سکیں۔
کھیل داس کوہستانی نے کہاکہ عوام کو محض سیاسی نعروں کے بجائے عملی سہولیات کی ضرورت ہے۔ شہریوں کو روزگار، صحت، تعلیم، میٹرو بس، اورنج ٹرین، موٹرویز اور بہتر سڑکوں جیسی سہولیات فراہم کی جانی چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتوں کی کامیابی کا اصل معیار یہی ہے کہ وہ عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنائیں اور انہیں ترقی کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کریں۔
’پی ٹی آئی کا دعویٰ اپنی جگہ، عوام نے گورنر راج قبول کیا‘
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ان کی جماعت اور ان کے لوگ ان کی ریڈ لائن ہیں، لیکن گورنر راج کے نفاذ کے بعد عوامی ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں نے اس اقدام کو قبول کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ حال ہی میں سوات میں مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر امیر مقام کے جلسے میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ لوگ امن، ترقی اور بہتر حکمرانی کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہاکہ یہ تاثر درست نہیں کہ اگر کسی صوبے میں گورننس کی صورتحال بہتر نہ ہو تو عوام لازماً احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ ان کے مطابق عوام کا بنیادی مطالبہ روزگار، تعلیم، صحت اور ترقیاتی سہولیات کی فراہمی ہے۔
کھیل داس کوہستانی نے کہاکہ خیبر پختونخوا کے عوام بھی دیگر صوبوں کی طرح ترقی کے خواہاں ہیں۔ انہیں بہتر تعلیمی ادارے، صحت کی سہولتیں، جدید ٹرانسپورٹ، موٹرویز اور سڑکیں چاہییں۔ حکومتوں کو عوام کی انہی بنیادی ضروریات کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔
’مولانا فضل الرحمان کی تلخ تنقید سمجھ سے بالاتر ہے‘
مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ انہیں مولانا فضل الرحمان کے تلخ لہجے اور افواج پاکستان پر تنقید کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔
انہوں نے کہاکہ ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور دفاعی کامیابیوں کو سراہ رہی ہے اور پاکستان نے معرکۂ حق میں کامیابی حاصل کی ہے، اپنی ہی افواج پر بلاجواز تنقید کرنا مناسب نہیں۔
کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور سیکیورٹی فورسز آج بھی خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف برسرپیکار ہیں۔
انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان خود خیبرپختونخوا میں محفوظ نہیں تھے، جبکہ ان کے صاحبزادے کو بھی بلوچستان میں سیکیورٹی کے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ایسے حالات میں تمام سیاسی قیادت کو امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
وزیر مملکت کھیل داس کوہستانی نے کہا کہ اگر سیاسی قیادت ملک میں امن کی خواہاں ہے تو اسے اپنے لہجے میں نرمی پیدا کرنا ہوگی۔ اختلافِ رائے اور تنقید جمہوری سیاست کا حصہ ہیں، تاہم تلخ بیانات اور بلاجواز تنقید کے بجائے دلیل اور مثبت مکالمے کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی تعلقات اور اختلافات اپنی جگہ، لیکن قومی سلامتی اور دفاع سے متعلق معاملات پر ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ افواج پاکستان ہماری ریڈ لائن ہیں اور سیاسی اختلافات کی بنیاد پر انہیں نشانہ بنانا مناسب نہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ ماضی میں وزارتوں اور اقتدار میں رہنے والوں سے ان کے دورِ حکومت میں ہونے والے اقدامات کے بارے میں سوال ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے فوج کے خلاف بیانیہ بنا رہے ہیں، محمود جان بابر
کھیل داس کوہستانی نے کہاکہ ملک میں کوئی بھی شخص احتساب سے بالاتر نہیں ہے اور نہ ہی کسی کو احتساب سے استثنیٰ حاصل ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی اداروں کے احترام، سیاسی ذمہ داری اور شفاف احتساب کے اصولوں کو یکساں اہمیت دینا ضروری ہے، کیونکہ انہی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ملک میں استحکام اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔









