وقار یونس نے بابراعظم کو پاکستان کا ’آخری سپر اسٹار‘ قرار دے دیا

جمعرات 29 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے سابق کپتان اور لیجنڈری فاسٹ بولر وقار یونس نے حالیہ ناقص کارکردگی پر تنقید کے باوجود بابراعظم کو پاکستان کرکٹ کا ’آخری سپر اسٹار‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی ٹیم کی بیٹنگ میں مضبوط کھلاڑیوں کی کمی اور غیر معمولی توقعات نے اسٹار بیٹر پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

وقار یونس کے مطابق بابر اعظم کے ابتدائی کیریئر میں مسلسل شاندار کارکردگی نے ان سے وابستہ توقعات اس قدر بلند کر دیں کہ ایک یا 2 میچوں میں ناکامی پر بھی ان کی صلاحیتوں پر سوال اٹھنے لگتے ہیں۔

بابراعظم اورشاہین آفریدی پاکستان کے موجودہ سپراسٹارز ہیں

وقار یونس نے بھارتی صحافی شبھنکر مشرا کے پوڈکاسٹ ’اَن پلگڈ‘ میں شرکت کے دوران پاکستان کرکٹ کے آخری سپر اسٹار سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے بابراعظم اور فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کو پاکستان کے موجودہ سپر اسٹارز قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹیسٹ کرکٹ کی 150ویں سالگرہ، پاکستان کے 3 سابق کپتانوں ظہیر عباس، وسیم اکرم اور وقار یونس کو دعوت

پوڈکاسٹ کے میزبان شبھنکر مشرا نے سوال کیا تھا کہ پاکستان کرکٹ کا آخری سپر اسٹار کون ہے؟ اس دوران بھارتی صحافی نے سابق پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر کا نام بھی ممکنہ امیدوار کے طور پر پیش کیا، تاہم وقار یونس نے بابراعظم اور شاہین شاہ آفریدی کی حمایت کی۔

وقار یونس نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’بابراعظم سپراسٹار ہیں اور شاہین آفریدی بھی سپر اسٹار ہیں۔‘

بھارت کے خلاف میچ وننگ کارکردگی پر سوال

بھارتی صحافی نے وقار یونس کے مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے بابراعظم کی میچ وننگ کارکردگی، بالخصوص بھارت کے خلاف ان کی پرفارمنس کا حوالہ دیا۔

انہوں نے پاکستان کرکٹ کے متعدد عظیم کھلاڑیوں کی مثالیں بھی دیں، جن میں وسیم اکرم، شعیب اختر، سعید انور، انضمام الحق، عبدالرزاق، یونس خان، محمد یوسف اور شاہد آفریدی شامل ہیں۔ بھارتی صحافی کے مطابق ان کھلاڑیوں نے بھارت کے خلاف سمیت کئی اہم مقابلوں میں فیصلہ کن کارکردگی دکھائی تھی۔

تاہم وقار یونس اپنے مؤقف پر قائم رہے اور کہا کہ بابراعظم کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ قومی ٹیم کی بیٹنگ میں مضبوط ناموں اور مؤثر معاونت کی کمی ہے۔ ان کے مطابق ٹیم کی جانب سے بابراعظم  پرغیر معمولی انحصار اور ان سے وابستہ بلند توقعات ان پر اضافی دباؤ ڈالتی ہیں۔

بابر اکیلے ہیں، ساتھ 4 یا 5 بڑے بیٹرز ہوتے تو حالات مختلف ہوتے‘

وقار یونس نے بابراعظم کی مشکلات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ وہ ٹیم میں تنہا نظر آتے ہیں اور انہیں بیٹنگ میں مطلوبہ معاونت حاصل نہیں میسر آ پاتی۔

مزید پڑھیں:وقار یونس نے مجھے نئی گاڑی خریدنے اور برانڈ کے کپڑے پہننے پر ٹیم سے نکالا، عمر اکمل کا الزام

انہوں نے کہا کہ ’بابر کے لیے افسوس ناک بات یہ ہے کہ وہ اکیلے ہیں۔ اگر ان کے ساتھ4  یا5  دیگر بڑے نام بھی موجود ہوتے تو شاید صورت حال مختلف ہوتی اور ان پر دباؤ بھی کم ہوتا۔‘

سابق کپتان کے مطابق جب پوری ٹیم کی امیدیں صرف ایک بیٹر سے وابستہ ہو جائیں تو فطری طور پر اس پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیم میں دوسرے نمایاں بیٹرز کی موجودگی نہ صرف بابر کے لیے معاون ثابت ہو سکتی ہے بلکہ مجموعی بیٹنگ لائن کو بھی مضبوط بنا سکتی ہے۔

1990 کی دہائی کی پاکستانی بیٹنگ لائن اپ کی مثال

وقار یونس نے اپنے مؤقف کی تائید میں 1990 کی دہائی کی پاکستانی ٹیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دور میں قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ میں کئی مستند اور معروف بیٹرز موجود تھے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب 1990 کی دہائی کی پاکستانی ٹیم کا ذکر کیا جاتا ہے تو ٹاپ آرڈر کے تمام 6 بیٹرز کے نام یاد آ جاتے ہیں، لیکن آج بابراعظم کے علاوہ کتنے پاکستانی بیٹرز کے نام لیے جا سکتے ہیں؟

ان کے مطابق ماضی کی ٹیم میں کئی ایسے کھلاڑی موجود تھے جو اپنی انفرادی صلاحیت اور کارکردگی کے باعث ٹیم کو سہارا دے سکتے تھے، جبکہ موجودہ صورت حال میں بابر اعظم پر انحصار زیادہ دکھائی دیتا ہے۔

سچن ٹنڈولکر کی مثال پر بھی میزبان سے اختلاف

شبھنکر مشرا نے وقار یونس کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے بھارتی لیجنڈری بیٹر سچن ٹنڈولکر کی مثال دی اور کہا کہ وہ بھی اپنے کیریئر میں کئی مواقع پر تنہا ہی ٹیم کی بیٹنگ کا بوجھ اٹھاتے دکھائی دیتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:بابر اعظم  کی قیادت میں سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان، 3 نئے بلے باز شامل

تاہم وقار یونس نے اس مثال سے اتفاق نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچن ٹنڈولکر اپنے شاندار بین الاقوامی کیریئر میں کبھی تنہا نہیں تھے اور انہیں مختلف ادوار میں دوسرے اچھے بیٹرز کی معاونت حاصل رہی۔

وقار یونس نے کہا کہ ابتدائی دور میں سچن کے ساتھ سنجے منجریکر اور نوجوت سنگھ سدھو موجود تھے، جبکہ بعد میں راہول ڈریوڈ، سارو گنگولی اور وی وی ایس لکشمن جیسے نمایاں بیٹرز بھی بھارتی ٹیم کا حصہ بنے۔

انہوں نے اس مثال کے ذریعے اپنے مؤقف کو تقویت دی کہ کسی بڑے بیٹر کے ساتھ مضبوط بیٹنگ لائن اپ کی موجودگی اس پر دباؤ کم کرنے اور ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

بابر کی ابتدائی کامیابیوں نے توقعات غیر معمولی حد تک بڑھا دیں

وقار یونس نے بابراعظم کی حالیہ کارکردگی پر ہونے والی تنقید کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بابراعظم نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کے ابتدائی مرحلے ہی سے تینوں فارمیٹس میں مسلسل عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کے باعث ان سے وابستہ توقعات غیر معمولی حد تک بڑھ گئیں۔

ان کے مطابق بابراعظم  کا مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے ابتدا ہی سے اتنی اچھی کارکردگی دکھائی کہ شائقین اور کرکٹ حلقوں نے ان سے ہر میچ میں غیر معمولی پرفارمنس کی توقع رکھنا شروع کر دی۔

ان کے مطابق یہی بلند توقعات اب بابراعظم کے لیے ایک اضافی چیلنج بن چکی ہیں، کیونکہ ان کی معمولی ناکامی کو بھی بڑی تنقید کا موضوع بنا دیا جاتا ہے۔

ویرات کوہلی کی مثال، ایک یا 2 ناکامیاں اور ’کیریئر ختم‘ ہونے کی باتیں

وقار یونس نے بھارتی اسٹار بیٹر ویرات کوہلی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ایک یا 2 میچوں میں ناکام ہو جائیں تو پورے ملک میں ان کے کیریئر کے خاتمے کی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بابر اعظم کا بین الاقوامی کرکٹ میں اہم سنگ میل، 16 ہزار رنز مکمل کرنے والے پانچویں پاکستانی بلے باز بن گئے

انہوں نے کہا کہ ویرات کوہلی کی طرح بابر اعظم کو بھی اپنی غیر معمولی سابقہ کارکردگی کے باعث مسلسل دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق کسی بڑے کھلاڑی کی صلاحیتوں کا جائزہ صرف ایک یا 2 میچوں کی بنیاد پر نہیں لینا چاہیے۔

وقار یونس کے اس بیان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ بابر اعظم کی حالیہ کارکردگی پر تنقید کے باوجود ان کے سابقہ ریکارڈ، ابتدائی کیریئر کی مستقل مزاجی اور قومی ٹیم میں ان پر موجود انحصار کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp