اسرائیل کے انتخابات: نیتن یاہو کے لیے اقتدار کا امتحان، مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل میں 27 اکتوبر 2026 کو ہونے والے عام انتخابات اسرائیل کے لیے تو اہم ہیں ہی لیکن پورا مشرقِ وسطیٰ بھی اِن انتخابی نتائج سے متاثر ہو سکتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کی جیت انتہا پسند اور بے رحمانہ کاروائیوں کا تسلسل جاری رکھے گی یا اُن کے مدِ مقابل گادی آئزن کوٹ کسی مختلف نقطہ نظر کے حامی ہیں، یہ طے ہونے میں اب تھوڑا ہی وقت باقی ہے۔

نیتن یاہو کے سابق مشیر اور سیاسی تجزیہ نگار ایوِو بوشنسکی نے ان انتخابات پر تبصرہ کچھ اس طرح کیا ہے کہ ’نیتن یاہو اس طرح جیتے ہیں کہ ہارے نہیں‘۔

سابق اسرائیلی انٹیلی جنس آفیسر ڈینی سٹرینووچ نے نیتن یاہو کے بارے میں کہا ہے ’اُس نے بس سروائیو کیا ہے‘۔

دوسری طرف اسرائیل کی تاریخ میں پہلی بار عرب جماعتیں ایک قابلِ قدر اکثریت حاصل کر گئی ہیں جس پر سابق امریکی مشرقِ وسطیٰ امن مذاکراتِ کار ڈینس راس نے تبصرہ کیا کہ  ’عرب جماعتیں اس سے پہلے کبھی ایسی پوزیشن میں نہیں رہی تھیں جہاں ان کے پاس اتنا اثر و رسوخ ہو‘۔

موجودہ اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو کے دائیں بازو، انتہائی دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو پارلیمان میں سب سے زیادہ نشستیں ملنے کا امکان ہے، تاہم وہ حکومت بنانے کے لیے درکار واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔ دوسری جانب یشار پارٹی کے سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد بھی تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ یوں اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمان میں حکومت سازی کے لیے کم از کم 61 نشستوں کی حمایت حاصل کرنا بنیادی چیلنج بن گیا ہے۔ 29 اکتوبر تک دستیاب اندازوں کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد کو 53، اپوزیشن جماعتوں کو 48 اور عرب قیادت میں قائم جماعتوں کو 19 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا، تاہم حتمی نتائج اور اتحادی مذاکرات صورتِ حال کا رخ متعین کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:نتن یاہو کا عرب جماعتوں پر دھاندلی کا الزام مسترد، اسرائیلی پولیس نے ثبوت نہ ہونے کی تصدیق کر دی

اسرائیلی انتخابات کے تازہ ترین نتائج کے مطابق کوئی بھی جماعت اس وقت اکثریت حاصل کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں اور اس کے بعد غزہ، لبنان اور ایران سے متعلق جنگوں کے تناظر میں منعقد ہوئے ہیں

نیتن یاہو کی سیاست اور اقتدار کا مستقبل

ان انتخابات میں نیتن یاہو کے لیے سب سے بڑا سوال صرف دوبارہ وزیرِاعظم بننا نہیں بلکہ اپنی حکومت کی سیاسی بنیادوں کو مستحکم کرنا بھی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے موقع پر اسرائیلی سیکیورٹی نظام کی ناکامی، غزہ کی جنگ سے متعلق حکمتِ عملی، یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات اور نیتن یاہو کو درپیش بدعنوانی کے مقدمات نے اُس کی سیاست کو مسلسل دباؤ میں رکھا ہے۔ اس کے باوجود اُس کی جماعت لیکوڈ اور اتحادیوں کی انتخابی پوزیشن ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیلی سیاست میں ان کا اثر و رسوخ برقرار ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا وہ نظریاتی اور سیاسی اختلافات کے باوجود ایک قابلِ عمل حکومتی اتحاد تشکیل دے سکتی ہے یا نہیں۔ عرب جماعتوں کی حمایت اس سلسلے میں فیصلہ کن ہو سکتی ہے، لیکن اسرائیلی سیاست میں عرب نمائندوں کے ساتھ اتحاد بنانے کی مخالفت اس امکان کو پیچیدہ بناتی ہے۔ اگر کوئی فریق اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسرائیل کو ایک اور انتخاب کی طرف بھی جانا پڑ سکتا ہے۔

غزہ اور فلسطینی ریاست کا مستقبل

اسرائیلی انتخابات کے اثرات کا سب سے اہم پہلو فلسطینی مسئلے کا مستقبل ہے۔ غزہ میں جنگ، تباہی، انسانی بحران اور فلسطینی ریاست کے قیام کا سوال اسرائیل کی داخلی سیاست سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ نیتن یاہو کی دائیں بازو کی اتحادی جماعتیں فلسطینیوں کے حوالے سے سخت مؤقف رکھتی ہیں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی توسیع کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن کے بعض رہنما نیتن یاہو کے طرزِ حکمرانی اور آبادکاروں کے تشدد سے متعلق پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں، لیکن فلسطینی ریاست کے قیام اور حماس کے مستقبل کے معاملے پر ان کے مؤقف بھی مختلف نہیں۔

تاہم نئی حکومت کی سیاسی ترجیحات غزہ میں جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی، یرغمالیوں کے معاملے اور امریکی امن منصوبے پر عمل درآمد کے امکانات کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اگر سخت گیر جماعتوں کا اثر و رسوخ برقرار رہتا ہے تو سفارتی کوششوں کو مزید مشکلات پیش آ سکتی ہیں، جبکہ ایک نسبتاً وسیع سیاسی اتحاد کو بعض معاملات میں مذاکرات اور بین الاقوامی دباؤ کے لیے زیادہ گنجائش پیدا کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

ایران سے کشیدگی اور علاقائی سلامتی

اسرائیلی انتخابات کا ایک اور اہم زاویہ ایران کے ساتھ جاری محاذ آرائی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران ایران کا جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور اسرائیل کی سلامتی نمایاں موضوعات رہے۔ نیتن یاہو طویل عرصے سے ایران کے خلاف سخت مؤقف اور فوجی کارروائیوں کے ذریعے خطرات کا مقابلہ کرنے کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن کی قیادت بھی ایران کے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی مخالفت کرتی ہے، اگرچہ بعض معاملات میں اس کی حکمتِ عملی اور سفارت کاری کے حوالے سے ترجیحات مختلف ہو سکتی ہیں۔

امریکا اور یورپ کے ساتھ تعلقات

اسرائیلی انتخابات کے نتائج امریکا کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کا بنیادی اتحادی ہے۔ غزہ کی جنگ اور ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث امریکا میں اسرائیل کی پالیسیوں پر سیاسی اختلافات بڑھے ہیں۔ امریکی سیاسی حلقوں میں اسرائیل کی فوجی امداد، ہتھیاروں کی فراہمی اور فلسطینی شہریوں کے تحفظ سے متعلق سوالات پر بحث جاری ہے۔ اگر اسرائیل کی نئی حکومت غزہ میں جنگ بندی اور فلسطینیوں کے تحفظ کے معاملے میں پیش رفت نہیں کرتی تو امریکی حکومت پر سفارتی اور داخلی سیاسی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی انتخابات: عرب جماعتوں کی 18 نشستیں حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں

یورپی ممالک کے لیے بھی اسرائیل کی پالیسی اہم ہے۔ غزہ میں انسانی بحران، مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد اور بین الاقوامی قانون سے متعلق تنازعات نے یورپ میں اسرائیل کے بارے میں بحث کو بڑھایا ہے۔ نئی حکومت کے اقدامات اس بات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ یورپی ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی، تجارتی اور دفاعی تعلقات کس انداز میں آگے بڑھاتے ہیں۔ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو اسرائیل کے عالمی تعلقات اور سفارتی ساکھ کو مزید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے کیا اہمیت ہے؟

پاکستان کے لیے بھی یہ صورتِ حال اہم ہے۔ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔ اس لیے اسرائیلی حکومت کی آئندہ پالیسیوں کا جائزہ پاکستان کے لیے صرف علاقائی سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ فلسطین، مسلم دنیا کے سفارتی تعاون اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کے وسیع تر تناظر سے بھی جڑا ہوا ہے۔ خطے میں کسی نئی جنگ سے تیل کی قیمتوں، سمندری راستوں، تجارت اور بیرونِ ملک پاکستانیوں کے معاشی مفادات پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے پاکستان سمیت دیگر ممالک کے لیے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کی حمایت اہم رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئیں، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ڈبل شفٹ میں کرنے کا فیصلہ، رنگ روڈ رواں ہفتے کلیئر کرنے کی ہدایت

17 سال بعد بھی بچوں کا ٹرسٹ خالی کیوں؟ پیرس جیکسن عدالت پہنچ گئیں

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا