اسرائیلی انتخابات: عرب جماعتوں کی 18 نشستیں حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہیں

بدھ 28 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل کے عام انتخابات میں عرب جماعتیں پارلیمان کی 120 میں سے 18 نشستیں حاصل کرسکتی ہیں، جبکہ فلسطینی شہریوں میں ووٹنگ کی شرح بھی کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق عرب جماعتوں کی ممکنہ کامیابی حکومت سازی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

الجزیرہ اور خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منگل کو ہونے والی ووٹنگ کے بعد ابتدائی جائزوں میں عرب جماعتوں کے اتحاد ’جوائنٹ لسٹ‘ اور ’رعام‘ کو مجموعی طور پر ریکارڈ نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اسرائیلی چینل 12 کے مطابق فلسطینی شہریوں کی آبادی والے علاقوں میں ووٹنگ کی شرح تقریباً 80 فیصد رہی، جبکہ ملک بھر میں مجموعی شرح 77.7 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو 1999ء کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق سابق اسرائیلی فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی جماعت یاشار کے زیر قیادت اپوزیشن اتحاد اور وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کے اتحاد کو 51، 51 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔ عرب جماعت ’رعام‘ کے سربراہ منصور عباس نے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ حتمی نتائج کے بعد نیتن یاہو مخالف اتحاد حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرلے گا۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیلی انتخابات: نتن یاہو اور آئزن کوٹ کے اتحاد کا 51، 51 نشستوں پر ٹائی، عرب جماعتوں کی تاریخی پیشرفت

تجزیہ کاروں کے مطابق عرب جماعتوں کی ممکنہ کامیابی حکومت سازی کے عمل کو پیچیدہ بنا سکتی ہے، کیونکہ بعض اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی مہم کے دوران عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اسرائیل کی آبادی میں فلسطینی شہریوں کا حصہ تقریباً 21 فیصد ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp