بائننس نے سیکیورٹی کی خلاف ورزی کے نتیجے میں قریباً 6 ارب 30 کروڑ ڈالر کے اثاثوں کے متاثر ہونے کا تخمینہ لگایا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ کمپنی کے ایک انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک ہونے کے باعث حملہ آور کو نظام تک رسائی ملی اور غیر مجاز طور پر رقوم منتقل کی گئیں۔
مزید پڑھیں:پی ایس ایل: بائننس اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی پارٹنرشپ کا اعلان
رائٹرز کے مطابق ٹیتر نے واقعے سے منسلک قریباً ایک ارب 57 کروڑ ڈالر جبکہ سرکل نے 80 کروڑ ڈالر سے زائد کے اثاثے منجمد کیے ہیں۔ کرپٹو کمپنی ریپل نے بھی قریباً 20 کروڑ ڈالر کے اثاثے منجمد کیے ہیں۔
Binance, the world’s largest crypto exchange, suspended all deposits and withdrawals as it investigates a security incident that has resulted in billions of dollars in assets being frozen.
Digital tokens tumbled amid fears the suspected hack may become the biggest crypto heist ever. https://t.co/MxtFgmxASV
— Bloomberg TV (@BloombergTV) October 30, 2026
بائننس کا کہنا ہے کہ صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں اور کمپنی ہیکنگ سے ہونے والے تمام نقصانات برداشت کرے گی۔ احتیاطی اقدام کے طور پر رقوم جمع کرانے اور نکلوانے کی سہولت عارضی طور پر معطل کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کیا ہے، کیا اب ورچوئل کرنسی بھی عام کرنسی کی طرح کام کرے گی؟
واقعے کے بعد کرپٹو مارکیٹ میں بھی مندی دیکھی گئی، بٹ کوائن اور ایتھر کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی، جبکہ بائننس کے ڈیجیٹل ٹوکن بی این بی کی قیمت بھی 5 فیصد گر گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ کرپٹو کرنسی مارکیٹ کی سکیورٹی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے حوالے سے بڑے خدشات پیدا کرسکتا ہے۔











