پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کیا ہے، کیا اب ورچوئل کرنسی بھی عام کرنسی کی طرح کام کرے گی؟

پیر 20 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں ڈیجیٹل کرنسی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت ہوئی ہے۔ حکومت نے ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026 کے تحت پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کو باقاعدہ قانونی اور خود مختار ادارے کے طور پر قائم کر دیا ہے۔

اس قانون نے جولائی 2025 میں جاری ہونے والے عارضی آرڈیننس کی جگہ لے لی ہے۔ PVARA اب ایک مستقل وفاقی ادارہ ہے، جسے ورچوئل اثاثوں کے لین دین، لائسنسنگ اور نگرانی کے مکمل اختیارات حاصل ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے 15 اپریل 2026 کو ایک اہم سرکلر جاری کیا، جس کے مطابق بینکوں پر کرپٹو سروسز فراہم کرنے پر عائد برسوں پرانی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ اب بینک PVARA سے لائسنس یافتہ ورچوئل ایسٹ سروس پرووائڈرز کے بزنس اکاؤنٹس کھول سکیں گے۔ کرپٹو ایکسچینجز کے صارفین کے لیے علیحدہ Client Money Accounts (CMAs) کھولے جائیں گے تاکہ عوامی پیسہ محفوظ رہے۔ بینک خود کرپٹو میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے، لیکن وہ لائسنس یافتہ کمپنیوں کو لین دین کی سہولت فراہم کریں گے۔

بائننس (Binance) اور OKX جیسی عالمی کمپنیوں نے پاکستان میں اپنی شاخیں کھولنے اور لائسنس حاصل کرنے کے لیے بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔ لائسنس صرف ان کمپنیوں کو دیا جائے گا جو پہلے سے امریکا، یورپی یونین یا سنگاپور جیسے ریگولیٹڈ ممالک میں کام کر رہی ہوں اور عالمی منی لانڈرنگ مخالف (AML) قوانین کی پاسداری کرتی ہوں۔ غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ایکٹ میں سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں۔ کوئی بھی فرد یا کمپنی جو بغیر لائسنس کے کرپٹو سروسز دے گی، اسے 5 سال تک قید اور 5 کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا یا دیگر ذرائع پر بغیر اجازت کرپٹو کی تشہیر کرنے پر 2.5 کروڑ روپے تک جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ پاکستانی مالیاتی نظام کو مدنظر رکھتے ہوئے، PVARA نے اسلامک بینکنگ کے اصولوں کے مطابق شریعہ کمپلائنٹ ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے بھی خصوصی فریم ورک تیار کیا ہے تاکہ مذہبی تحفظات کو دور کیا جا سکے۔

معاشی ماہر حمزہ گیلانی کے مطابق، اس اتھارٹی کے قیام سے عام پاکستانی سرمایہ کاروں کو ملنے والے فوائد کی بات کی جائے تو اب صارفین قانونی طور پر رجسٹرڈ ایکسچینجز کے ذریعے سرمایہ کاری کر سکیں گے، جس سے فراڈ کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ کرپٹو خریدنے اور بیچنے کے لیے بینک ٹرانسفر اور PKR کے استعمال میں آسانی ہوگی۔ کرپٹو رکھنا یا اس میں تجارت کرنا اب جرم نہیں بلکہ ایک ریگولیٹڈ مالیاتی سرگرمی بن چکی ہے۔

گلوبل فری لانسرز یونین کے اعزازی صدر طفیل احمد خان کے مطابق، پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان کی بہت بڑی کامیابی ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک اس حوالے سے پاکستان کو کاپی کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے اسٹیٹ بینک آف پاکستان بینکوں کو ریگولیٹ کرتا ہے اور جیسے ایس ای سی پی ایکسچینج کمپنیوں کو ریگولیٹ کرتا ہے، اسی طرح ڈیجیٹل اور کرپٹو اثاثوں کو PVARA ریگولیٹ کرے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ اب بینک ورچوئل کرنسی کے اکاؤنٹس کھول سکیں گے اور یہ تمام تر ریگولیٹڈ ہوگا، یعنی انہیں قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔ کرپٹو کو قانونی حیثیت ملنے جا رہی ہے۔

معاشی ماہر جبران احمد کے مطابق، یہ احسن اقدام ہے۔ اس سے ایک تو ہمیں یہ اندازہ ہوگا کہ ہماری ورچوئل کرنسی کے اثاثے کتنے ہیں، اس بات کا بھی اندازہ ہوگا کہ اس پر کتنا ٹیکس ادا کیا جائے۔ ساتھ ہی ان کا کہنا ہے کہ دو نمبر یا غیر قانونی راستے اس طرح رک جائیں گے۔ ان کے مطابق، ہمارے بینکس کرپٹو کرنسی میں کام کرنا شروع کر دیں گے۔ کرپٹو ہو یا کوئی بھی ورچوئل کرنسی، اس کو قانونی دھارے میں شامل کرنے سے نہ صرف انفرادی حیثیت میں شہریوں کو فائدہ ہوگا بلکہ اس سے ملک کو بھی فائدہ ہوگا۔ یہ ایسا ہی ہوگا جیسے ٹھوس کرنسی ہے؛ جس طرح اس پر لمیٹیشن ہوگی، اس پر بھی ہوگی، اور یہ سب اب قانون کے دائرے میں ہوگا، کوئی غیر قانونی کام نہیں کر پائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، 100 انڈیکس ابتدائی ٹریڈنگ میں 3,300 پوائنٹس گر گیا

نامناسب اور ذاتی سوالات پر اداکارہ میرا ارشاد بھٹی کا پوڈکاسٹ چھوڑ کر چلی گئیں

اعلیٰ سپرمارکیٹس سے چوری کی منصوبہ بندی کرنے والا گروہ گرفتار، 6 خواتین بھی شامل

پٹاخے بنانے والی فیکٹری میں دھماکا، 23 مزدور ہلاک، متعدد زخمی

دنیش ترویدی بنگلہ دیش میں نئے بھارتی ہائی کمشنر ہوں گے؟

ویڈیو

پاکستان دنیا بھر میں امن کا سفیر بن کر سامنے آیا، شیخ حسن سروری

ضلع مہمند کے عمائدین کا پاک فوج اور حکومت پر اعتماد، امن کوششوں پر خراجِ تحسین

‘پاؤں نہیں مگر ہاتھ تو ہیں نا’، فور ویل بائیکیا چلا کر گھر کی کفالت کرنے والا باہمت نوجوان

کالم / تجزیہ

مطالعہ پاکستان : بنیان مرصوص ایڈیشن

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی