مصنوعی ذہانت کی کمپنی دیوالیہ ہوئی تو صارفین کے نجی راز بھی فروخت ہوسکتے ہیں

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مصنوعی ذہانت کی صنعت میں ممکنہ مالیاتی بحران صارفین کی نجی معلومات کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ بی بی سی کے مطابق اگر مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں مالی مشکلات کے باعث بند یا دیوالیہ ہوجاتی ہیں تو ان کے پاس موجود صارفین کا ذاتی ڈیٹا، نجی گفتگو اور حساس معلومات فروخت کی جاسکتی ہیں۔

مزید پڑھیں:مصنوعی ذہانت کے فوائد اور نقصانات کیا ہیں؟

رپورٹ میں امریکی چیٹ بوٹ کمپنی کریکٹر اے آئی (Character.AI) کی مثال دی گئی ہے، جو مالی مشکلات اور قانونی معاملات کے باعث دیوالیہ پن کے عمل سے گزر رہی ہے۔ کمپنی کے لاکھوں صارفین نے اس کے چیٹ بوٹس کے ساتھ ذاتی نوعیت کے تعلقات قائم کر رکھے تھے، جن میں بچے اور نوجوان بھی شامل ہیں۔ صارفین نے ان چیٹ بوٹس کے ساتھ اپنی نجی زندگی، جذبات، تعلقات اور دیگر حساس معاملات پر گفتگو کی۔

کمپنی نے اپنے بعض اثاثے 2 کروڑ ڈالر میں ڈزنی کو فروخت کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم صارفین کا ڈیٹا اس معاہدے میں شامل نہیں۔ دوسری جانب عدالتی دستاویزات کے مطابق کمپنی دیوالیہ پن کی کارروائی کے دوران صارفین کا ڈیٹا دوسرے خریداروں کو فروخت کرسکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں صارفین سے ایسی معلومات حاصل کرتی ہیں جو عام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی عموماً شیئر نہیں کی جاتیں۔ کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے کی صورت میں یہ معلومات اشتہارات، صارفین کی پروفائلنگ اور مصنوعی ذہانت کے نئے نظاموں کی تربیت کے لیے استعمال ہوسکتی ہیں۔

مزید پڑھیں:مصنوعی ذہانت نے تعلیم کا انداز بدل دیا، امریکی اساتذہ نے روایتی امتحانات کے بجائے نئے طریقے اپنا لیے

رپورٹ میں صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی ایسی سروسز کی نشاندہی کریں جہاں انہوں نے حساس معلومات شیئر کی ہیں اور غیر ضروری اکاؤنٹس سے اپنا ڈیٹا حذف کرنے کی کوشش کریں۔

ماہرین کے مطابق ڈیٹا پرائیویسی کے مضبوط قوانین نہ ہونے کی صورت میں کمپنیوں کے کاروبار بند ہونے کے بعد صارفین کی نجی معلومات کے تحفظ کی ضمانت دینا مشکل ہوسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp