مصنوعی ذہانت کی صنعت میں ممکنہ مالیاتی بحران صارفین کی نجی معلومات کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ بی بی سی کے مطابق اگر مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں مالی مشکلات کے باعث بند یا دیوالیہ ہوجاتی ہیں تو ان کے پاس موجود صارفین کا ذاتی ڈیٹا، نجی گفتگو اور حساس معلومات فروخت کی جاسکتی ہیں۔
مزید پڑھیں:مصنوعی ذہانت کے فوائد اور نقصانات کیا ہیں؟
رپورٹ میں امریکی چیٹ بوٹ کمپنی کریکٹر اے آئی (Character.AI) کی مثال دی گئی ہے، جو مالی مشکلات اور قانونی معاملات کے باعث دیوالیہ پن کے عمل سے گزر رہی ہے۔ کمپنی کے لاکھوں صارفین نے اس کے چیٹ بوٹس کے ساتھ ذاتی نوعیت کے تعلقات قائم کر رکھے تھے، جن میں بچے اور نوجوان بھی شامل ہیں۔ صارفین نے ان چیٹ بوٹس کے ساتھ اپنی نجی زندگی، جذبات، تعلقات اور دیگر حساس معاملات پر گفتگو کی۔
🚨 **THE BIGGEST MARKET CRASH OF 2026 COULD BE CLOSER THAN YOU THINK.**
I’ve seen this setup before. And it rarely ends well.
1972 → Nifty Fifty Bubble → S&P 500 -50%
1989 → Japan Asset Bubble → Nikkei -50%+
1999 → Dot-com Bubble → Nasdaq -78%
2026 → AI Bubble → **WHAT COMES NEXT?**Different decades. Different stocks.
The same dangerous combination:
Inflation refusing to die.
Oil prices surging.
Bond markets under pressure.
Investors convinced the rally can’t end.The scariest part?
**Markets often look unstoppable right before everything changes.**
I’ve spent 15 years studying market cycles and calling major tops and bottoms.
And I believe 2026 is setting up another major turning point.
I’m putting this warning out BEFORE the crowd sees it.
Save this chart.
Follow and turn notifications on.
**When I see the next major top forming, I’ll post my call here FIRST.**
— Discover (@0x_Discover) October 23, 2026
کمپنی نے اپنے بعض اثاثے 2 کروڑ ڈالر میں ڈزنی کو فروخت کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم صارفین کا ڈیٹا اس معاہدے میں شامل نہیں۔ دوسری جانب عدالتی دستاویزات کے مطابق کمپنی دیوالیہ پن کی کارروائی کے دوران صارفین کا ڈیٹا دوسرے خریداروں کو فروخت کرسکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی کمپنیاں صارفین سے ایسی معلومات حاصل کرتی ہیں جو عام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی عموماً شیئر نہیں کی جاتیں۔ کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے کی صورت میں یہ معلومات اشتہارات، صارفین کی پروفائلنگ اور مصنوعی ذہانت کے نئے نظاموں کی تربیت کے لیے استعمال ہوسکتی ہیں۔
مزید پڑھیں:مصنوعی ذہانت نے تعلیم کا انداز بدل دیا، امریکی اساتذہ نے روایتی امتحانات کے بجائے نئے طریقے اپنا لیے
رپورٹ میں صارفین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی ایسی سروسز کی نشاندہی کریں جہاں انہوں نے حساس معلومات شیئر کی ہیں اور غیر ضروری اکاؤنٹس سے اپنا ڈیٹا حذف کرنے کی کوشش کریں۔
ماہرین کے مطابق ڈیٹا پرائیویسی کے مضبوط قوانین نہ ہونے کی صورت میں کمپنیوں کے کاروبار بند ہونے کے بعد صارفین کی نجی معلومات کے تحفظ کی ضمانت دینا مشکل ہوسکتا ہے۔











