مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال نے امریکی اسکولوں میں تدریس اور امتحانات کا روایتی انداز بدلنا شروع کردیا ہے، اساتذہ نے طلبہ کی حقیقی صلاحیت، تخلیقی سوچ اور سمجھ بوجھ جانچنے کے لیے زبانی امتحانات، کلاس میں مضمون نویسی اور عملی سرگرمیوں پر زیادہ توجہ دینا شروع کردی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، امریکا میں مڈل اور ہائی اسکولوں کے اساتذہ گھر پر دیے جانے والے تحریری کام میں کمی کررہے ہیں، جبکہ کلاس روم میں لکھنے، بحث و مباحثے اور بالمشافہ امتحانات کو ترجیح دی جارہی ہے تاکہ طلبہ مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس سے تیار کردہ جوابات کے بجائے اپنی سمجھ اور سوچ کا مظاہرہ کرسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی سے بچوں کو خطرات، امریکا کی 8 ریاستوں کا اوپن اے آئی کے خلاف مقدمہ
سان فرانسسکو کے ایک اسکول میں چھٹی جماعت کی استاد ٹرسٹن چانگ نے گزشتہ سال گھر پر مضمون لکھنے کا کام ختم کرکے زبانی امتحانات کا طریقہ اپنا لیا۔ وہ طلبہ سے کہانی کے کرداروں، واقعات، مرکزی خیال اور استعاروں سے متعلق 15 سوالات پوچھتی ہیں، جن کے جواب طلبہ تقریباً 5 منٹ میں دے سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی نے طویل عرصے سے تدریس کے طریقوں کو تبدیل کیا ہے، لیکن مصنوعی ذہانت اس حوالے سے سب سے بڑی تبدیلی ہے اور اس نے تعلیم کے روایتی طریقوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر یکساں پالیسی موجود نہیں۔ بعض اساتذہ اسے تدریس میں شامل کرنے کے حامی ہیں، جبکہ کچھ اس کے استعمال پر پابندیاں چاہتے ہیں۔ متعدد اساتذہ اس کے درمیان کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔
اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے شعبہ تعلیم کے پروفیسر اور نیشنل کونسل آف ٹیچرز آف انگلش کے صدر اینٹیرو گارسیا کا کہنا ہے کہ اگرچہ بالغ افراد کام کے مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے اوزار استعمال کررہے ہیں، لیکن تعلیم میں ان کے استعمال کے اثرات اور طریقۂ کار کو ابھی پوری طرح سمجھا نہیں جاسکا۔
کلاس روم میں تحریری کام پر زور
مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس تک طلبہ کی آسان رسائی کے باعث اساتذہ تدریسی سرگرمیوں کو دوبارہ کلاس روم تک محدود کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ سان فرانسسکو میں مڈل اسکول کے انگریزی استاد رسٹی شیب کے مطابق، طلبہ گھر پر کام کے دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے اکثر مصنوعی ذہانت کی مدد لینے لگتے ہیں۔ اس رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے وہ کلاس میں لکھنے کے لیے زیادہ وقت مختص کررہے ہیں اور ساتویں جماعت کے طلبہ کو ایک مضمون مکمل کرنے کے لیے پورا مہینہ دیتے ہیں۔
نیویارک کے ہائی اسکول میں ریاضی پڑھانے والے بابسن وونگ نے بھی گھر کے کام میں سوالات کی تعداد کم کردی ہے اور کلاس میں مشق بڑھا دی ہے تاکہ وہ طلبہ کے کام کرنے کے طریقے اور ان کی سمجھ کو بہتر طور پر جانچ سکیں۔ ان کے مطابق، مصنوعی ذہانت نے نہ صرف طلبہ کے ریاضی سیکھنے کے انداز کو بدلا ہے بلکہ ان کے تدریسی طریقوں پر بھی اثر ڈالا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں، اے آئی کے دور میں نئے خطرات سمجھیں
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے تعلیمی اثرات پر تحقیق کے نتائج مختلف ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے 2025 کے ایک بے ترتیب آزمائشی مطالعے میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے خصوصی تدریسی معاون سے طلبہ کی سیکھنے کی صلاحیت اور دلچسپی میں بہتری دیکھی گئی، جبکہ ایم آئی ٹی میڈیا لیب کی اسی سال کی ایک محدود تحقیق میں سامنے آیا کہ چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے مضمون لکھنے والے افراد نے کام جلد مکمل کیا، لیکن بظاہر اس دوران ان کی ذہنی کاوش کم رہی۔
اس کے باوجود تعلیم میں مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ رینڈ کے 2025 کے ایک سروے میں امریکا کے طلبہ اور انگریزی، ریاضی اور سائنس کے اساتذہ کی اکثریت نے بتایا کہ وہ تعلیمی کاموں کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کررہے ہیں۔
نیویارک کے نواحی علاقے میں انگریزی کی استاد میگھن ہائلینڈ نے بتایا کہ گزشتہ سال موسم بہار میں انہیں معلوم ہوا کہ بعض طلبہ اپنے موبائل فون پر مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کے لیے بیت الخلا جاتے ہیں۔ کلاس میں پہلے ہی موبائل فون پر پابندی تھی، تاہم انہوں نے طلبہ کے کلاس سے باہر جاتے وقت بھی فون اپنے پاس چھوڑنے کی شرط عائد کردی۔
انہوں نے طلبہ کے نمبروں میں کلاس کے اندر کیے جانے والے کام کا حصہ بھی بڑھا دیا ہے اور گھر کے کام کو مشق کا بنیادی ذریعہ بنانے سے گریز شروع کردیا ہے۔ ان کے مطابق، طلبہ کی تنقیدی سوچ جانچنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ اسکول میں کریں۔
کمپیوٹر کے بجائے قلم اور کاپی کی واپسی
بعض اساتذہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے کمپیوٹر اور دیگر ڈیجیٹل آلات پر انحصار کم کررہے ہیں۔ شکاگو کے نواحی علاقے میں ہائی اسکول کے انگریزی استاد ریکس اووالے طلبہ کو کلاس شروع ہوتے ہی اپنی کاپی نکالنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ وہ اسکول کے کمپیوٹرز کے استعمال کو تعلیمی دنوں کے تقریباً 10 فیصد تک محدود رکھتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جب لیپ ٹاپ سامنے نہیں ہوتے تو طلبہ کی توجہ اور شرکت میں اضافہ ہوتا ہے، کیونکہ اس صورت میں وہ اپنے کام سے توجہ ہٹانے کے لیے کمپیوٹر کا سہارا نہیں لے سکتے۔
رپورٹ کے مطابق، کورونا وبا کے دوران اسکولوں میں کروم بکس اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال عام ہوگیا تھا، تاہم اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنے سے متعلق خدشات کے باعث اب کئی تعلیمی ادارے اپنے طریقۂ کار پر نظرثانی کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی نے کتابوں کو پیچھے چھوڑ دیا؟ طلبہ کے رجحانات پر نئی رپورٹ
میگھن ہائلینڈ کی انگریزی کی کلاسوں میں طلبہ خصوصی سہولت کے مستحق ہونے کی صورت کے علاوہ ہاتھ سے لکھتے ہیں۔ انہوں نے کتابوں کی سمجھ جانچنے کے لیے عملی سرگرمیاں بھی متعارف کرائی ہیں۔ مثال کے طور پر، طلبہ کو ناول ‘اے ٹیل آف ٹو سٹیز’ کی تفہیم ظاہر کرنے کے لیے کھانا تیار کرنے کا کام دیا گیا۔ ایک طالب علم نے سیاہ اور سفید بسکٹ کے ذریعے ناول کے مشہور ابتدائی جملے میں بیان کیے گئے اچھے اور برے وقتوں کے تضاد کو پیش کیا۔
ہائلینڈ کے مطابق، وہ ایسے اسباق کو ترجیح دیتی ہیں جن میں طلبہ براہ راست کوئی سرگرمی انجام دیں اور اسی وقت اپنی تخلیقی سوچ کا مظاہرہ کریں۔
مصنوعی ذہانت کو تدریس میں شامل کرنے کی کوششیں
مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال پر خدشات کے باوجود بعض اساتذہ اسے تدریسی معاون کے طور پر بھی استعمال کررہے ہیں۔ اس کی مدد سے متعلقہ موضوعات پر مضامین تلاش کیے جاتے ہیں، کلاس روم کے لیے معلوماتی مواد تیار کیا جاتا ہے اور پریزنٹیشنز کے لیے تصاویر بنائی جاتی ہیں۔
نیویارک کے نواحی علاقے میں سماجی علوم پڑھانے والے مائیکل زگاری مصنوعی ذہانت کی مدد سے تاریخی دستاویزات کی زبان طلبہ کی مختلف تعلیمی سطحوں کے مطابق آسان بناتے اور مضامین کو مختصر کرتے ہیں تاکہ انہیں کلاس میں پڑھایا جاسکے۔
وہ طلبہ کو تحقیقی منصوبوں کی ابتدا کے لیے بھی مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کی ترغیب دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے مؤثر سوالات کرنے کا طریقہ سیکھ کر طلبہ اپنی تنقیدی سوچ کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت ختم ہونے والی نہیں، اس لیے طلبہ کو اس کا ذمہ دارانہ استعمال سکھانا ضروری ہے، بالکل اسی طرح جیسے انہیں انٹرنیٹ کے ذمہ دارانہ استعمال کی تعلیم دی گئی تھی۔










