معروف لگژری کار ساز کمپنی بگاٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میٹ ریماک کی کروڑوں روپے مالیت کی شیرون گاڑی کروشیا میں کمپنی کے ہیڈکوارٹر سے چوری ہوگئی تاہم انہوں نے اپنی گاڑی کے جدید ٹریکنگ سسٹم کی مدد سے اس کا سراغ لگایا اور خود پورشے میں چور کا تعاقب کرتے ہوئے آسٹریا پہنچ گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق تقریباً 24 لاکھ یورو (27 لاکھ امریکی ڈالر) ابتدائی قیمت رکھنے والی بگاٹی شیرون کروشیا کے دارالحکومت زغرب کے قریب کمپنی کے پروڈکشن اور ٹیکنالوجی کیمپس سے چوری ہوئی تھی۔
View this post on Instagram
واقعے کا علم اس وقت ہوا جب ایک شخص نے کمپنی کے ملازمین کو اطلاع دی کہ کوئی نامعلوم فرد شیرون گاڑی لے کر فرار ہوگیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی میٹ ریماک نے پولیس سے رابطہ کیا اور گاڑی میں نصب ٹیلی میٹری سسٹم کے ذریعے اس کی نقل و حرکت اور لوکیشن کا سراغ لگانا شروع کردیا۔
گاڑی سلووینیا کی جانب بڑھ رہی تھی جس پر ریماک اپنی پورشے 911 میں سوار ہوکر چور کے تعاقب میں نکل پڑے۔ انہوں نے ایک گروپ چیٹ کے ذریعے گاڑی کی تازہ ترین لوکیشن پولیس حکام کے ساتھ شیئر کی جس سے آسٹریا کی پولیس کو ملزم کا سراغ لگانے اور اسے گرفتار کرنے میں مدد ملی۔
یہ بھی پڑھیں: چینی کارساز کمپنی گیلی بذریعہ بیسٹ وے گروپ پاکستان میں داخل، 3 نئی انرجی گاڑیاں متعارف
گاڑی واپس ملنے کے بعد میٹ ریماک نے انسٹاگرام پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے تصدیق کی کہ شیرون برآمد کرلی گئی ہے۔ انہوں نے اس واقعے کے بعد گاڑیوں میں چابیاں چھوڑنے کی اپنی عادت ترک کرنے کا اعلان بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ کروشیا کو محفوظ ملک سمجھتے ہوئے ہمیشہ اپنی گاڑیوں حتیٰ کہ بگاٹی شیرون اور نیویرا کی چابیاں بھی اندر چھوڑ دیتے تھے۔ کئی سال تک ایسا کرنے کے باوجود کبھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا تاہم اب وہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بی ایم ڈبلیو کی نئی 2027 ایکس 5 اور آئی ایکس 5: پیٹرول یا بجلی، انتخاب صارف کا
ریماک کے مطابق انہوں نے آسٹریا کے پولیس اسٹیشن میں گرفتار ملزم سے ملاقات بھی کی۔ ملزم کروشیا کا رہائشی ہے اور اس کی عمر 30 کی دہائی کے وسط میں بتائی گئی ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ کمپنی میں ملازمت کے حصول کے لیے آیا تھا تاہم گاڑی میں چابیاں دیکھ کر اسے چوری کرکے لے جانے کا فیصلہ کیا۔
میٹ ریماک نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرانے کا ارادہ نہیں رکھتے تاہم گاڑی کی غیر معمولی مالیت کے باعث اسے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کے بقول کسی شخص کا بگاٹی، خصوصاً شیرون جیسی گاڑی چوری کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسے کچھ مسائل درپیش ہیں۔ واقعے کے دوران گاڑی کو کچھ نقصان بھی پہنچا تاہم کمپنی کے مطابق اس کی مرمت کرلی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: عمر ایوب کا اسلام آباد پولیس پر گاڑی چوری کرنے کا الزام
واضح رہے کہ بگاٹی، ’بگاٹی ریماک‘ نامی مشترکہ منصوبے کا حصہ ہے جس میں کروشیا کے ریماک گروپ کے پاس 55 فیصد حصص ہیں جبکہ باقی 45 فیصد حصص امریکی سرمایہ کاری کمپنی ’ایچ او ایف کیپیٹل‘ کی قیادت میں قائم کنسورشیم کے پاس ہیں۔ یہ حصص ستمبر میں پورشے کے منصوبے سے علیحدگی کے بعد حاصل کیے گئے تھے۔ میٹ ریماک اس مشترکہ منصوبے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔
بگاٹی شیرون کو پہلی مرتبہ 2016 میں جنیوا انٹرنیشنل موٹر شو میں متعارف کرایا گیا تھا۔ 1500 ہارس پاور کی حامل اس سپر کار کی زیادہ سے زیادہ رفتار کمپنی نے 420 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود کر رکھی ہے۔











