آن لائن دوستیاں: نجی پیغامات کے ذریعے بچوں کو کیسے پھنسایا جاتا ہے؟ برطانیہ میں تحقیق شروع

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بچوں کو آن لائن جنسی استحصال اور اسی نوعیت کے نامناسب رویوں سے محفوظ رکھنے کے لیے برطانیہ میں ایک اہم تحقیقی منصوبے کا آغاز کیا جارہا ہے جس میں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ بالغ افراد نجی پیغام رسانی کی ایپس اور پلیٹ فارمز کے ذریعے بچوں سے کس نوعیت کی نازیبا گفتگو کرتے ہیں اور یہ رابطے کس طرح انہیں استحصال کا نشانہ بنانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: بچوں کے نازیبا مواد کا انٹرنیشنل نیٹ ورک تباہ، اپنے بچوں کی غیرمناسب ویڈیوز بناکر بیچنے والا باپ بھی گرفتار

یہ تحقیق بچوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے کام کرنے والے برطانوی ادارے ’نیشنل سوسائٹی فار دی پریوینشن آف کرولٹی ٹو چلڈرن‘ (این ایس پی سی سی) کی جانب سے شروع کرائی گئی ہے جس کی ذمہ داری اینگلیا رسکن یونیورسٹی کو سونپی گئی ہے۔

تحقیق کے تحت برطانیہ کے مختلف سیکنڈری اسکولوں میں زیرِ تعلیم 12 سے 18 سال کی عمر کے تقریباً 1500 نوجوانوں سے ایک آن لائن سروے کیا جائے گا۔ اس سروے میں شریک نوجوانوں کی شناخت خفیہ رکھی جائے گی تاکہ وہ اپنے تجربات اور مشاہدات بلاجھجک بیان کرسکیں۔

تحقیق کا بنیادی مقصد یہ جاننا ہے کہ بچوں اور بالغ افراد کے درمیان نجی پیغام رسانی کے ذریعے جنسی نوعیت کی گفتگو کتنی عام ہے، یہ کن حالات میں ہوتی ہے اور اس کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔

اینگلیا رسکن یونیورسٹی کے انٹرنیشنل پولیسنگ اینڈ پبلک پروٹیکشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر پروفیسر سمانتھا لنڈریگن نے اس تحقیق کو بچوں کے خلاف نقصان دہ رویوں کی روک تھام کے لیے انتہائی اہم قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نجی پیغام رسانی کے پلیٹ فارمز بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بنانے کے عمل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے جرائم پیشہ افراد کو بچوں اور نوجوانوں تک براہِ راست رسائی حاصل ہوجاتی ہے۔ اس رابطے سے انہیں بچوں کو اپنے جال میں پھنسانے اور دیگر نقصان دہ رویوں کے مواقع ملتے ہیں۔

پروفیسر سمانتھا کے مطابق تحقیق کے ذریعے قابلِ اعتماد شواہد جمع کرکے یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے گی کہ بچوں کو کس طرح نقصان پہنچایا جاتا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

بچوں کے تجربات کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟

این ایس پی سی سی کی آن لائن سیفٹی کی سربراہ رانی گووندَر نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ادارہ اینگلیا رسکن یونیورسٹی کے ساتھ اس اہم تحقیق میں شراکت پر خوش ہے۔

مزید پڑھیے: مصنوعی ذہانت کے ذریعے فراڈ کے نت نئے طریقے: خود کو کیسے محفوظ رکھیں؟

ان کے مطابق یہ بات سامنے آچکی ہے کہ جرائم پیشہ افراد نجی پیغام رسانی کی سہولتوں کو بڑے پیمانے پر بچوں سے رابطے اور انہیں اپنے جال میں پھنسانے کے لیے استعمال کررہے ہیں، جس کے بچوں کی حفاظت اور ذہنی و جسمانی بہبود پر طویل المدتی اور تباہ کن اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کے خلاف ایسے جرائم کی مؤثر روک تھام کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نجی پیغامات کے ذریعے انہیں کس طرح نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے خود نوجوانوں کی بات سننا اور ان کے تجربات کو سمجھنا انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: آن لائن کاروبار کے فروغ میں خواتین کیسے اہم کردار ادا کر رہی ہیں؟

رانی گووندَر کے مطابق نوجوانوں کے تجربات ہی ایسے حل تیار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں جن کے ذریعے بچوں کو آن لائن محفوظ بنایا جاسکے۔ تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج نجی پیغام رسانی کے پلیٹ فارمز کے لیے زیادہ محفوظ معیارات متعارف کرانے کی کوششوں میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔

آن لائن تحفظ کے قوانین اور حکومتی اقدامات میں مدد

اس تحقیقی منصوبے کا ایک اہم مقصد برطانیہ میں آن لائن تحفظ کے حوالے سے جاری پالیسی سازی اور قانون سازی کی کوششوں کو شواہد فراہم کرنا بھی ہے۔

تحقیق کے نتائج این ایس پی سی سی کی جانب سے برطانوی میڈیا ریگولیٹری ادارے آف کام اور حکومت کے ساتھ جاری رابطوں اور مطالبات میں استعمال کیے جائیں گے تاکہ بچوں کے لیے آن لائن تحفظ کے اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں 15 لاکھ بچوں کو آن لائن جنسی استحصال کا سامنا، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں انکشاف

اس تحقیق کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ نجی پیغام رسانی کی سہولتیں بچوں کے استحصال کے لیے کس طرح استعمال ہورہی ہیں اور ان پلیٹ فارمز پر بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کن عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر نہ برسائیں، مسلم لیگ (ق) کا مریم نواز کے بیان پر ردعمل

مفتی محمود مرکز کی تعمیر اور زمین سے متعلق دستاویزات سامنے آگئیں، ثمر ہارون بلور

ڈیڑھ صدی پہلے انسانوں کا جسم آج کے مقابلے میں زیادہ گرم تھا، سائنسدانوں نے حیران کن تبدیلی کی وجہ جان لی؟

پشاور میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ڈبل شفٹ میں کرنے کا فیصلہ، رنگ روڈ رواں ہفتے کلیئر کرنے کی ہدایت

17 سال بعد بھی بچوں کا ٹرسٹ خالی کیوں؟ پیرس جیکسن عدالت پہنچ گئیں

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا