ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے محتاط طور پر پُرامید ہے۔ ان کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ایک ہی ماہ میں 2 مرتبہ تہران جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ ان کوششوں میں پیشرفت کے امکانات موجود ہیں۔
رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ثالثی کے عمل میں رکاوٹیں ڈالنے والے عناصر بھی موجود ہیں، جو سمجھتے ہیں کہ تنازع جاری رہنے سے انہیں فائدہ ہوگا۔ انہوں نے تاہم ان عناصر کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی تہران میں ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات بتائیں۔
#WATCH: Pakistan’s military says it is “cautiously optimistic” about its mediation efforts between Iran and the US, following a high-level delegation’s visit to Tehran. https://t.co/jBzPFcRkDD pic.twitter.com/0v3r5rqz8g
— Arab News Pakistan (@arabnewspk) October 31, 2026
احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی شرائط میں نئے ارکان کی شمولیت کی ممانعت نہیں۔ ان کے مطابق جو بھی ملک اجتماعی دفاع، علاقائی امن اور سلامتی کے مشترکہ تصور پر یقین رکھتا ہو، اس کا خیرمقدم کیا جاسکتا ہے۔ تاہم کسی نئے ملک کی شمولیت کا فیصلہ تینوں بنیادی فریقوں کی سیاسی قیادت کرے گی۔ ایران کی ممکنہ شمولیت سے متعلق سوال پر انہوں نے یہ بات کہی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں اچھی حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو ہو جانی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر
سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی مزید تعیناتی کے امکان پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اس کا انحصار صورت حال اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے فیصلے پر ہوگا۔
EXCLUSIVE: Pakistan military 'cautiously optimistic' on Iran-US mediation https://t.co/S4U1mTvMkP
— Reuters (@Reuters) October 30, 2026
خیبرپختونخوا میں انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں سے متعلق سوال پر ترجمان پاک فوج نے کہا کہ فوج کی کارروائیاں بڑے پیمانے کی مہمات کے بجائے انٹیلیجنس کی بنیاد پر کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق صوبے میں ان کارروائیوں کی رفتار مزید بڑھائی جائے گی۔










