اٹلی میں سڑکیں طلبہ اور مزدوروں سے بھر گئیں، مہنگائی میں ریلیف اور تعلیمی بجٹ بڑھانے کا مطالبہ

ہفتہ 31 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اٹلی بھر میں لاکھوں طلبہ اور مزدور سڑکوں پر نکل آئے، مظاہرین نے تعلیمی اداروں کی بہتری، بڑھتے کرایوں اور مہنگائی سے نجات اور دفاعی اخراجات میں اضافے کی مخالفت کی۔

اٹلی میں جمعے کے روز طلبہ اور مزدوروں نے ملک بھر میں بڑے احتجاجی مظاہرے کیے۔ یہ مظاہرے حالیہ عرصے میں ہونے والے احتجاجی سلسلے کے سب سے بڑے مظاہرے قرار دیے جا رہے ہیں، جن سے فرانس اور اسپین میں ہونے والی طلبہ تحریکوں نے بھی متاثر کیا ہے۔

اٹلی کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین کی اپیل پر ملک گیر ہڑتال میں ٹرک ڈرائیوروں، ٹیکسی ڈرائیوروں اور کسانوں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ یونین کے مطابق مظاہرین کی مجموعی تعداد تقریباً 15 لاکھ تھی، تاہم حکام نے سرکاری اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔

یہ بھی پڑھیے فرانس: مظاہروں کی نئی لہر کے پیش نظر سیکیورٹی ہائی الرٹ، ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات

مظاہرین نے تعلیمی اداروں کے لیے فنڈز بڑھانے، اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کی مرمت اور طلبہ کے لیے سستی رہائش فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ 16 سالہ طالبہ صوفیہ کاتالدی کا کہنا تھا کہ ان کے اسکول میں عمارت کی حالت غیر محفوظ ہے، جہاں کھڑکیاں گرنے اور چوہوں کی موجودگی جیسے مسائل درپیش ہیں۔ روم کی ایک یونیورسٹی کی 21 سالہ طالبہ بیٹریس چیلیلی نے کہا کہ طلبہ بھاری تعلیمی فیسوں اور رہائشی کرایوں کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق روم میں ایک کمرے کا ماہانہ کرایہ 1200 یورو تک پہنچ چکا ہے۔

روم میں احتجاجی جلوس مرکزی ریلوے اسٹیشن سے شروع ہوا اور کولوسیم سمیت اہم مقامات سے گزرتا ہوا وزارتِ معیشت کی عمارت تک پہنچا۔ مظاہرین نے دفاعی اخراجات میں اضافے کی مخالفت کرتے ہوئے نعرے لگائے کہ ’ ہمیں بم نہیں، مزید گھر چاہییں۔‘ میلان میں طلبہ نے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا کہ ’ اپنا مستقبل واپس حاصل کرو۔‘ تاہم میلان میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی کے خدشے کے پیش نظر جلوس کو شہر کے مرکزی علاقے سے دور رکھا گیا۔ ٹیورن میں پولیس نے لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ روم میں بھی احتجاج کے اختتام پر بعض نوجوانوں کی جانب سے بوتلیں پھینکنے اور کوڑے دانوں کو آگ لگانے کے واقعات پیش آئے۔

یہ بھی پڑھیے فرانس میں توڑ پھوڑ کی کوشش چینی کمپنی کے لیے مفت تشہیر بن گئی، مضبوط شیشہ سوشل میڈیا پر وائرل

یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب وزیراعظم جورجیا میلونی کی دائیں بازو کی حکومت نے گزشتہ ماہ میلان میں نوجوانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد عوامی اجتماعات سے متعلق قوانین سخت کر دیے ہیں۔ دوسری جانب حکومت نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے متاثرہ ٹرک ڈرائیوروں، کسانوں اور ماہی گیروں کے لیے 17 کروڑ 52 لاکھ یورو کے امدادی پیکیج کی منظوری دی ہے۔ مجوزہ بجٹ میں 30 سال سے کم عمر ملازمین کے لیے سالانہ 2500 یورو بونس بھی شامل ہے۔ میلونی کا کہنا ہے کہ حکومت نوجوانوں کے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہتی ہے، تاہم یہ اقدامات توڑ پھوڑ کرنے والوں کے لیے نہیں ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp