پاکستان، سری لنکا اور انگلینڈ کی درمیان ایک روزہ میچوں کی سیریز میں پاکستان نے لاہور میں کھیلے گئے فائنل میں فخر زمان کی شاندار سینچری، سعد بیگ کی عمدہ اننگز اور عرفات منہاس کی انتہائی جارحانہ اننگز کی بدولت سری لنکا کو 3 وکٹوں سے شکست دے کر 18 سال بعد سیریز جیت لی۔
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں قومی ٹیم نے 326 رنز کا مشکل ہدف 9 گیندیں قبل حاصل کرلیا، فخر زمان کی 127 رنز کی دھواں دار اننگز، سعد بیگ کے 74 رنز کی شاندار اننگز ، عرفات منہاس کے 31 گیندوں پر 61 رنز کی طوفانی بلے بازی کی بدولت پاکستان سری لنکا کو 3 وکٹوں سے شکست دینے میں کامیاب ہوا۔ فخر زمان کو شاندار بیٹنگ پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔
ہفتہ کے روز لاہور میں کھیلے گئے ون ڈے ٹرائی سیریز کے فائنل میں پاکستان ٹاس جیت کر مہمان ٹیم کو پہلے کھیلنے کی دعوت دی، جس میں سری لنکا نے 325 رنز کا بڑا اسکور کیا تاہم قومی ٹیم نے 48.3 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 331 رنز بنا کر ہدف حاصل کرلیا۔
24 سال بعد پاکستان نے فائنل میں سری لنکا کو شکست دے کر سہ ملکی سیریز کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا، قومی ٹیم چیمپئن بن گئی،🇵🇰🏆
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
#PAKvSL #cricke #PakistanCricket https://t.co/lWURODiMP9— Choti Chirya ♡ (@cutehunmee) October 31, 2026
پاکستان کو فتح کے لیے 326 رنز درکار تھے، تاہم ابتدائی وکٹیں جلد گرنے کے باوجود فخر زمان کی شاندار سینچری اور مڈل آرڈر کی ذمہ دارانہ بیٹنگ نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔
سری لنکا کی مضبوط بیٹنگ، پاکستان کو 326 رنز کا ہدف
لاہور میں ڈے اینڈ نائٹ فائنل میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سری لنکا نے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 325 رنز بنائے اور پاکستان کو جیت کے لیے 326 رنز کا ہدف دیا۔
یہ بھی پڑھیں:ون ڈے ٹرائی سیریز: سلمان آغا کی شاندار سینچری، پاکستان نے سری لنکا کو 37 رنز سے شکست دے دی
سری لنکا کی جانب سے اویشکا فرنینڈو 38 رنز بنا کر سلمان آغا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے، جبکہ کامندو مینڈس نے 128 گیندوں پر 131 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس میں 12 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ وہ شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے۔
کپتان کوشل مینڈس 8 رنز بنا کر سلمان آغا کی گیند پر کیچ اینڈ بولڈ ہوئے۔ پون رتھنائیکے نے 65 گیندوں پر 77 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر ٹیم کے اسکور کو آگے بڑھایا تاہم وہ حارث رؤف کی گیند پر بابر اعظم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔
Fakhar Zaman 127(99) vs Sri Lanka | ODI Tri-Series Final 2026 – Lahore | Ball By Ball Highlights https://t.co/dU1oXTw4c6
— Danish (@PctDanish) October 31, 2026
پاکستان کو فتح کے لیے 326 رنز درکار تھے، تاہم ابتدائی وکٹیں جلد گرنے کے باوجود فخر زمان کی شاندار سنچری اور مڈل آرڈر کی ذمہ دارانہ بیٹنگ نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔
سری لنکا کی مضبوط بیٹنگ، پاکستان کو 326 رنز کا ہدف
لاہور میں ڈے اینڈ نائٹ فائنل میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سری لنکا نے مقررہ 50 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 325 رنز بنائے اور پاکستان کو جیت کے لیے 326 رنز کا ہدف دیا۔
سری لنکا کی جانب سے اویشکا فرنینڈو 49 گیندوں پر 38 رنز بنا کر سلمان آغا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے، جبکہ کامندو مینڈس نے 128 گیندوں پر 131 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس میں 12 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ وہ شاہین شاہ آفریدی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے۔
کپتان کوشل مینڈس 12 گیندوں پر 8 رنز بنا کر سلمان آغا کی گیند پر کیچ اینڈ بولڈ ہوئے۔ پون رتھنائیکے نے 65 گیندوں پر 77 رنز اسکور کیے، تاہم وہ حارث رؤف کی گیند پر بابر اعظم کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے۔
داسن شناکا نے 9 گیندوں پر 17 رنز بنائے اور شاہین شاہ آفریدی کا شکار بنے۔ جنتھ لیانگے 6، ساہن آراچیگے 15 اور دنتھ ویلالگے 3 رنز بنا سکے۔
مہیش تھیکشانا 9 اور اسیتھا فرنینڈو 6 رنز کے ساتھ ناٹ آؤٹ رہے، جبکہ دلشان مدوشنکا بیٹنگ کے لیے میدان میں نہ اترے۔ سری لنکا نے اضافی رنز کی مد میں 15 رنز بھی حاصل کیے۔
پاکستانی بولرز کی کارکردگی
پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، سلمان آغا اور حارث رؤف نے 2، 2 وکٹیں حاصل کیں۔
Fakhar Zaman is a big-match player in the truest sense. Whenever Pakistan need him most, he finds a way to step up.
Look at his record in important games:
🏆 Champions Trophy 2017 Final: 114 (106)
🏏 Zimbabwe T20 Tri-Series Final vs Australia: 91 (46)
🏆 2021 T20 World Cup SF vs Australia: 55 (32)
🏆 2023 World Cup vs New Zealand —402 chase: 126* (81)
🏆 Asia Cup T20 Final vs India 2025: 46 (35)
🏆 2026 T20 World Cup vs Sri Lanka: 84 (42)
🏏 2026 Tri-Series Final vs Sri Lanka: 127 (99)
And that’s not all…
He remains the only Pakistani to score an ODI double century — 210 vs Zimbabwe.
He smashed 193 off 155 balls against South Africa at the Wanderers while chasing 342.
In Pakistan’s highest successful ODI run chase, he provided the rapid start with 41 off 28 balls
He scored 138 (106) in a chase of 374 vs England in 2019 series.
What’s even more remarkable is that many of these performances came when he was horribly out of form, had been dropped, or was batting out of position.
Yet, when Pakistan needed him most, he delivered.
CLUTCH! 🔥🥶
https://t.co/N8NRp3x5M8
— Pavilion Post (@CricinsightsX) October 31, 2026
شاہین شاہ آفریدی نے 10 اوورز میں 50 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ نسیم شاہ نے 10 اوورز میں 80 رنز کے عوض 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
حارث رؤف نے 10 اوورز میں 60 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ سلمان آغا نے 7 اوورز میں 44 رنز کے عوض 2 وکٹیں حاصل کیں۔ عرفات منہاس نے 10 اوورز میں 64 رنز اور فہیم اشرف نے 3 اوورز میں 23 رنز دیے، تاہم وہ کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے۔
پاکستان کا ہدف کے تعاقب میں مایوس کن آغاز
326 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا اور محض 14 رنز پر 2 اہم وکٹیں گر گئیں۔
معاذ صداقت 5 رنز بنا کر دلشان مدوشنکا کی گیند پر پون رتھنائیکے کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے، جبکہ بابر اعظم بغیر کوئی رن بنائے اسی بولر کا شکار بن گئے۔
ابتدائی نقصان کے بعد فخر زمان اور سعد بیگ نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے اننگز کو سنبھالا اور تیسری وکٹ کے لیے 149 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔
فخر زمان کی شاندار سینچری، 127 رنز کی دھواں دار اننگز
فخر زمان نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 99 گیندوں پر 127 رنز بنائے، ان کی اننگز میں 11چوکے اور 6 چھکے شامل تھے۔
Saad Baig 74(75) vs Sri Lanka | ODI Tri-Series Final 2026 – Lahore | Ball By Ball Highlights https://t.co/RqAf76k2iu
— PctMedia (@PctMediaa) October 31, 2026
فخر زمان نے جارحانہ انداز میں سری لنکن بولرز کا مقابلہ کیا اور قومی ٹیم کو ہدف کے قریب پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ 220 کے مجموعی اسکور پر 33.4 اوورز میں دلشان مدوشنکا کی گیند پر بولڈ ہوئے۔
سعد بیگ نے بھی عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 75 گیندوں پر 74 رنز بنائے، ان کی اننگز میں 11 چوکے شامل ہیں۔ وہ 163 کے مجموعی اسکور پر مہیش تھیکشانا کی گیند پر کیچ اینڈ بولڈ ہوئے۔
سلمان آغا اور حسن نواز کی اننگز
فخر زمان کے آؤٹ ہونے کے بعد سلمان آغا نے 25 گیندوں پر 17 رنز بنائے، تاہم وہ دنتھ ویلالگے کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ اس وقت پاکستان کا مجموعی اسکور 230 رنز تھا۔
حسن نواز نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 45 گیندوں پر ناقابلِ شکست 37 رنز بنائے، ان کی اننگز میں 2 چوکے بھی شامل ہیں۔
سب سے عمدہ اور جارحانہ اننگز عرفات منہاس نے کھیلی جنہوں نے 31 گیندوں پر 3 چوکوں اور 4 بلند و بالا چھکوں کی مدد سے 61 رنز بنائے اور اسیتھا فرنینڈو کی گیند پر کیچ اینڈ بولڈ ہوئے، جبکہ فہیم اشرف بغیر کوئی رن بنائے اسی بولر کا شکار بنے۔
Arafat Minhas 61(31) vs Sri Lanka | ODI Tri-Series Final 2026 – Lahore | Ball By Ball Highlights https://t.co/EvuZtuF91o
— Danish (@PctDanish) October 31, 2026
کپتان شاہین شاہ آفریدی نے 3 گیندوں پر ناقابلِ شکست 6 رنز بنا کر حسن نواز کا ساتھ دیا اور قومی ٹیم کو 48.3 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 331 رنز تک پہنچا کر فتح دلا دی۔
سری لنکن بولرز کی کارکردگی
سری لنکا کی جانب سے دلشان مدوشنکا نے 9.3 اوورز میں 63 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان کے ابتدائی بلے بازوں کو بھی پویلین بھیجا۔
اسیتھا فرنینڈو نے 9 اوورز میں 72 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ مہیش تھیکشانا اور دنتھ ویلالگے نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
جنتھ لیانگے نے 2 اوورز میں 15 رنز، ساہن آراچیگے نے ایک اوور میں 9 رنز اور داسن شناکا نے 7 اوورز میں 57 رنز دیے، تاہم وہ کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے۔
فائنل میں پاکستان کی یادگار کامیابی
پاکستان نے سری لنکا کے 325 رنز کے بڑے مجموعے کا کامیابی سے تعاقب کرتے ہوئے 3 وکٹوں سے فائنل جیت لیا۔ قومی ٹیم نے 50 اوورز مکمل ہونے سے 9 گیندیں قبل ہی ہدف حاصل کرلیا۔
مزید پڑھیں:ٹرائی سیریز ٹرافی کی رونمائی، ورلڈ کپ تیاریوں پر فوکس، ٹیم 400 رنز بھی بنا سکتی ہے،شاہین آفریدی
قومی ٹیم میں ایک تبدیلی، شاداب خان فائنل سے باہر
ٹاس کے موقع پر پاکستانی کپتان شاہین شاہ آفریدی نے بتایا کہ آل راؤنڈر شاداب خان طبیعت ناساز ہونے کے باعث فائنل میچ کے لیے دستیاب نہیں ہیں، جس کے پیش نظر ان کی جگہ فہیم اشرف کو قومی ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔
پاکستان نے 2008 کے بعد پہلی بار کوئی سہ فریقی سیریز اپنے نام کی ہے
قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے اس اہم مقابلے میں پاکستان نے اپنی سرزمین پر پہلی ایک روزہ بین الاقوامی سہ فریقی سیریز کا ٹائٹل جیتنے میں کامیابی حاصل کی۔
پاکستان نے آخری مرتبہ 2008 میں ایک روزہ سہ فریقی سیریز کی ٹرافی جیتی تھی۔ اس وقت بنگلہ دیش میں ہونے والے ٹورنامنٹ کے فائنل میں قومی ٹیم نے بھارت کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔










