سائمن ہارمر کی تباہ کن بولنگ، جنوبی افریقہ نے آسٹریلیا سے ٹیسٹ سیریز جیت کر عالمی نمبر ون پوزیشن بھی چھین لی

ہفتہ 31 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جنوبی افریقہ نے نیولینڈز میں کھیلے گئے 3 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے فیصلہ کن مقابلے میں آسٹریلیا کو 176 رنز سے بڑی شکست دے کر سیریز 1-2 سے اپنے نام کرلی، جبکہ اس کامیابی کے بعد پروٹیز نے ٹیسٹ عالمی رینکنگ میں آسٹریلیا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے پہلی پوزیشن بھی حاصل کرلی۔

جنوبی افریقی اسپنر سائمن ہارمر نے دوسری اننگز میں کیریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے 16 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ فاسٹ بولر کاگیسو ربادا نے ٹیسٹ کرکٹ میں 350 وکٹوں کا سنگ میل عبور کرکے تاریخ رقم کردی۔

آسٹریلیا 288 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 111 پر ڈھیر

آسٹریلیا کو فتح کے لیے 288 رنز کا ہدف ملا تھا، تاہم مہمان ٹیم جنوبی افریقی بولرز کے سامنے زیادہ دیر مزاحمت نہ کرسکی اور پوری ٹیم 111 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔

آسٹریلوی ٹیم نے آخری روز جیت کی امیدوں کے ساتھ میدان میں قدم رکھا، لیکن اننگز کے پہلے ہی اوور میں 2 وکٹیں گرنے سے اس کی مشکلات بڑھ گئیں۔

یہ بھی پڑھیں:ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ: آسٹریلیا نے انگلینڈ کو شکست دے کر 7 ویں بارعالمی چیمپیئن کا تاج اپنے سر سجا لیا

کچھ ہی دیر میں آسٹریلیا کا اسکور 62 رنز پر 8 وکٹیں ہوگیا اور فتح کی امیدیں دم توڑ گئیں۔ اس کے بعد آسٹریلوی بیٹنگ لائن کی کوشش صرف اننگز کو طول دینے اور شکست مؤخر کرنے تک محدود ہوگئی، تاہم جنوبی افریقی بولرز نے چائے کے وقفے سے قبل ہی مقابلہ ختم کردیا۔

ربادا کی تباہ کن بولنگ، 350 ٹیسٹ وکٹیں مکمل

جنوبی افریقی فاسٹ بولر کاگیسو ربادا نے فیصلہ کن دن کے ابتدائی مرحلے میں آسٹریلیا کے ٹاپ آرڈر کو تہس نہس کردیا۔

انہوں نے میٹ رینشا کو بغیر کوئی رن بنائے وکٹ کیپر ریان ریکلٹن کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کرایا، جبکہ مارنس لبوشین کو 4 رنز پر ایل بی ڈبلیو کردیا۔ یہ دونوں وکٹیں اننگز کے پہلے ہی اوور میں حاصل ہوئیں۔

ربادا نے خطرناک بلے باز ٹریوس ہیڈ کو بھی آؤٹ کیا، جن کا کیچ مارکو یانسن نے گلی میں پکڑا۔

اس کارکردگی کے ساتھ ربادا نے ٹیسٹ کرکٹ میں 350 وکٹیں مکمل کرلیں۔ انہوں نے یہ سنگ میل صرف 13,808 گیندیں کرانے کے بعد حاصل کیا، جو گیندوں کی تعداد کے اعتبار سے تیز ترین 350 ٹیسٹ وکٹیں ہیں۔

اس سے قبل جنوبی افریقہ کے ڈیل اسٹین نے 14,719 جبکہ پاکستان کے وقار یونس نے 14,905 گیندیں کرا کر 350 ٹیسٹ وکٹیں مکمل کی تھیں۔

سائمن ہارمر کی اسپن کا جادو، میچ میں 10 وکٹیں حاصل کرلیں

ربادا کے ابتدائی حملے کے بعد سائمن ہارمر نے اپنی اسپن بولنگ کا جادو دکھاتے ہوئے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو مکمل طور پر بکھیر دیا۔

انہوں نے حالات اور وکٹ کا بہترین استعمال کرتے ہوئے درست لائن اور لینتھ پر بولنگ کی اور آسٹریلیا کی آخری 6 وکٹیں حاصل کرلیں۔

ہارمر نے میچ میں مجموعی طور پر 10 وکٹیں 120 رنز کے عوض حاصل کیں، جو ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا پہلا 10 وکٹوں کا کارنامہ ہے۔

آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے 90 گیندوں پر 11 رنز بنا کر نیتھن لائن کے ساتھ نویں وکٹ کے لیے 17.2 اوورز تک مزاحمت کی۔

نیتھن لائن 33 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے اور وہ دوسری اننگز میں آسٹریلیا کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز تھے۔

ہارمر نے پہلے کمنز کو ایل بی ڈبلیو کرکے اس شراکت کا خاتمہ کیا اور پھر جوش ہیزل ووڈ کو بولڈ کرکے آسٹریلیا کی اننگز سمیٹ دی۔

پہلے ہی گھنٹے میں میچ ہاتھ سے نکل گیا تھا، آسٹریلوی کپتان کا اعتراف

شکست کے بعد آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے اعتراف کیا کہ ٹیم فیصلہ کن دن کے ابتدائی ایک گھنٹے میں ہی مقابلے سے باہر ہوگئی تھی۔

مزید پڑھیں:بنگلہ دیش نے دوسرے ون ڈے میں بھی شکست دے کر پہلی بار آسٹریلیا کے خلاف سیریز جیت لی

ان کا کہنا تھا کہ میچ کے مجموعی رجحان سے واضح تھا کہ وکٹ پر جم جانے والے بلے باز رنز بنا سکتے تھے، لیکن پہلے ہی گھنٹے میں کھیل ان کے ہاتھ سے نکل گیا اور ٹیم نے خود کو مقابلے میں واپسی کا موقع نہیں دیا۔

کمنز کے مطابق آسٹریلوی ٹیم ایک مضبوط سائیڈ ہے، تاہم بیرون ملک مضبوط حریفوں کے خلاف کھیلنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔ ٹیم جنوبی افریقہ میں کامیابی کے ارادے سے آئی تھی، لیکن اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکی۔

آسٹریلوی ٹیم کی بیٹنگ اور ٹاس کے فیصلے پر سوالات

اس شکست کے بعد آسٹریلوی ٹیم کی بیٹنگ کارکردگی پر کئی سوالات اٹھنے کا امکان ہے، کیونکہ ایک بار پھر بلے باز اہم موقع پر ناکام رہے۔

اس کے علاوہ پہلے روز صبح کے وقت ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کے فیصلے پر بھی تنقید متوقع ہے، جس کے نتیجے میں آسٹریلیا کو آخری اننگز ایک ایسی وکٹ پر کھیلنی پڑی جو مسلسل استعمال کے باعث اسپن بولرز کے لیے زیادہ سازگار ہوگئی تھی۔

سائمن ہارمر نے کامیابی کا راز بتادیا

میچ کے بعد سائمن ہارمر نے اپنی شاندار کارکردگی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف اپنی حکمت عملی پر توجہ دی، گیند کو زیادہ سے زیادہ مرتبہ درست جگہ پر پچ کرنے کی کوشش کی اور رفتار و گیند کے زاویوں میں تبدیلی کے ذریعے بلے بازوں کو مشکلات سے دوچار کیا۔

ان کے مطابق برسوں کے تجربے سے سیکھی گئی باریکیاں اس میچ میں کارآمد ثابت ہوئیں۔

ہارمر نے مزید کہا کہ آخری روز وکٹ کے اردگرد فیلڈرز کی موجودگی اور ٹیم کو فتح دلانے کی کوشش ان کے لیے انتہائی خوشگوار تجربہ تھا۔ ایک اسپنر کے لیے اس طرح کی صورتحال کسی خواب سے کم نہیں ہوتی۔

جنوبی افریقہ عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں پہلے نمبر پر آگیا

آسٹریلیا کے خلاف اس تاریخی کامیابی کے بعد جنوبی افریقہ نے ٹیسٹ عالمی رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی ہے۔ پروٹیز جنوری 2016 کے بعد پہلی مرتبہ ٹیسٹ کرکٹ میں عالمی نمبر ون بنے ہیں۔

اس کامیابی نے جنوبی افریقہ کی آئندہ سال ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کا ٹائٹل برقرار رکھنے کی امیدوں کو بھی تقویت دی ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی افریقہ نے 2025 کے ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ فائنل میں لارڈز کے تاریخی میدان پر آسٹریلیا کو شکست دے کر عالمی ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔

تازہ سیریز میں 2-1 کی کامیابی کے بعد جنوبی افریقہ نے ایک بار پھر آسٹریلیا کے خلاف اپنی برتری ثابت کردی ہے اور عالمی ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی مضبوط پوزیشن کا اعلان کردیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp