بنگلہ دیش نے میرپور کے شیرِ بنگلہ نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے سیریز کے دوسرے ایک روزہ میچ میں آسٹریلیا کو ڈی ایل ایس میتھڈ کے تحت 5 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کر لی ہے۔
بارش سے متاثرہ اس میچ میں میزبان ٹیم نے نپی تلی باؤلنگ اور مڈل آرڈر کی ذمہ دارانہ بیٹنگ کی بدولت 192 رنز کا ہدف 36 گیندیں قبل ہی باآسانی حاصل کر لیا۔
آسٹریلیا کی بیٹنگ لائن کا مایوس کن آغاز
میچ کو مقررہ 42 اوورز تک محدود کیے جانے کے بعد آسٹریلیا کا پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ اس وقت انتہائی غلط ثابت ہوا جب بنگلہ دیشی باؤلرز تسکین احمد اور مستفیض الرحمٰن نے تباہ کن اوپننگ اسپیل کا آغاز کیا۔
یہ بھی پڑھیں:آسٹریلیا کے شان ٹیٹ بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولنگ کوچ مقرر
مہمان ٹیم کو میچ کی شروعات میں ہی ایسا دھچکا لگا کہ محض پہلے 2 اوورز کے اندر ہی اس کے 3 اہم بلے باز بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔
میتھیو شارٹ میچ کی چوتھی ہی گیند پر تسکین احمد کا شکار بنے، جس کے فوراً بعد کوپر کونولی اور میٹ رینشا کو مستفیض الرحمٰن نے لگاتار صفر پر آؤٹ کر کے آسٹریلوی کیمپ میں کھلبلی مچا دی۔
ایلکس کیری نے 13 رنز بنا کر کچھ مزاحمت کی کوشش کی لیکن وہ بھی مستفیض کا تیسرا شکار بن گئے، جس سے آسٹریلیا کا اسکور 25 رنز پر 4 وکٹ ہو گیا۔
کپتان جوش انگلس نے 38 گیندوں پر 34 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی اور کیمرون گرین نے 25 رنز کی پارٹنر شپ قائم کی، لیکن جب یہ دونوں لیفٹ آرم اسپنر تنویر اسلام کا شکار ہوئے تو آسٹریلوی ٹیم 81 رنز پر 6 وکٹیں گنوا کر شدید مشکلات کا شکار نظر آنے لگی۔
لبوشین اور بارٹلیٹ کی ریکارڈ بچاؤ مہم
آسٹریلیا کو ایک انتہائی کم اسکور پر ڈھیر ہونے سے مارنس لبوشین اور زویئر بارٹلیٹ کی جوڑی نے بچایا۔ لبوشین نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور 85 گیندوں پر 55 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔
دوسری جانب بارٹلیٹ نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے محض 48 گیندوں پر 52 رنز داغ دیے، جس میں 5 چوکے اور 4 فلک شگاف چھکے شامل تھے۔
دونوں کے درمیان 103 رنز کی شراکت داری نے آسٹریلوی اننگز میں نئی جان پھونک دی۔ اننگز کے آخری لمحات میں تسکین احمد نے دوبارہ شاندار واپسی کی اور بارٹلیٹ اور ایڈم زیمپا کو لگاتار گیندوں پر بولڈ کر کے مجموعی طور پر 33 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں۔
مستفیض الرحمٰن نے بھی بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 27 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور یوں آسٹریلیا مقررہ 42 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 187 رنز بنانے میں کامیاب رہا۔
بنگلہ دیش کا مضبوط اور نپا تلا مضبوط جوابی کھیل
بارش کے باعث بنگلہ دیش کو ڈی ایل ایس قانون کے تحت 41 اوورز میں 192 رنز کا نظرثانی شدہ ہدف ملا۔ ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیش کا آغاز بھی اچھا نہ رہا اور اوپنر تنزید حسن اننگز کی دوسری ہی گیند پر زویئر بارٹلیٹ کا شکار ہو کر بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہو گئے۔
تاہم، اس کے بعد سومیا سرکار اور کپتان نجم الحسین شانتو کے درمیان 86 رنز کی مضبوط اور بہترین شراکت داری نے میچ کا رخ بنگلہ دیش کی طرف موڑ دیا۔ دونوں بلے باز اپنی نصف سینچریاں مکمل کرنے میں ناکام رہے اور بالترتیب 42، 42 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
مزید پڑھیں:بنگلہ دیشی کلین سوئپ، پاکستان کی ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ رینکنگ بری طرح متاثر
آسٹریلیا نے ریلی میریڈتھ، کیمرون گرین اور ایڈم زیمپا کی وکٹوں کی بدولت میچ میں واپسی کی کوشش کی اور بنگلہ دیش کا اسکور 144 رنز پر 5 وکٹ کر دیا، لیکن میزبان ٹیم کے مڈل آرڈر نے اعصاب پر قابو رکھا۔
توحید ہردوئے اور مہدی حسن معراج کی فتح گر اننگز
آسٹریلیا کی میچ میں واپسی کی تمام امیدوں پر توحید ہردوئے اور مہدی حسن معراج نے پانی پھیر دیا۔ ہردوئے نے انتہائی سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 55 گیندوں پر 40 رنز کی ناقابلِ شکست اننگز کھیلی۔
دوسرے اینڈ سے مہدی حسن معراج نے تیز رفتاری سے رنز بنائے اور 22 گیندوں پر 22 رنز کی اننگز کھیل کر دباؤ کو پوری طرح ختم کر دیا۔
دونوں بلے بازوں نے چھٹی وکٹ کے لیے 51 رنز کی ناقابلِ شکست شراکت داری قائم کی اور 35ویں اوور میں ہی بنگلہ دیش کو 5 وکٹوں سے ایک شاندار جیت دلا دی، جس کے ساتھ ہی میرپور کا اسٹیڈیم جشن کے ماحول میں ڈوب گیا۔













