امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے افغان سرزمین سے پاکستان پر ہونے والے دہشتگردانہ حملوں پر اسلام آباد کے شدید تحفظات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا پاکستان میں کسی بھی قسم کی دہشتگردی نہیں دیکھنا چاہتا۔
گزشتہ روز اٹلا نٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین سے ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے موثر اقدامات نہیں کر رہے، جس کے جواب میں پاکستان کو خود کارروائی کرنا پڑی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا ’پاکستان افغان سرزمین سے کیے جانے والے دہشتگردانہ حملوں پر انتہائی فکر مند ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ طالبان ان حملوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہے، اسی لیے پاکستان نے اس کے خلاف جواب میں اقدامات کیے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ہم نے یقینی طور پر اس معاملے پر پاکستان کے تحفظات سنے ہیں اور ہم ظاہر ہے یہ نہیں چاہتے کہ پاکستان کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جائے۔‘
یہ بھی پڑھیے امریکا کو پاکستان سے تعلقات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، مارکو روبیو کا بھارتی میڈیا کو انٹرویو
مارکو روبیو کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلام آباد نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے افغان سرزمین پر موجود دہشتگردوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر اپنے نکتہ نظر کو دوبارہ سختی سے دہرایا ہے۔
ہفتے کے روز پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے بیان کو یکسر مسترد کر دیا۔
وزارت اطلاعات نے طالبان قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکام اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے بجائے ملبہ اسلام آباد پر ڈال رہے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچانے والی بنیادی وجہ یعنی افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشتگردی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات کا کہنا تھا کہ سرحد پار دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور پاکستان کو اپنی قومی سلامتی کے خلاف جنم لینے والے خطرات کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت تمام ضروری اور مناسب اقدامات کا پورا حق حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیے اسحاق ڈار اور مارکو روبیو ملاقات: امریکی وزیر خارجہ کا علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا اعتراف
بیان میں واضح کیا گیا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے مسئلے کو حل کرنے سے مسلسل انکار ہی دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی استواری میں بنیادی رکاوٹ ہے۔ پاکستان کی سلامتی کو طالبان حکومت کی ’عدم کارروائی، لیت و لعل اور غلط ترجیحات‘ کا یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کی جانب سے کابل سے بارہا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت دیگر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے، جن کے بارے میں پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف متحرک ہیں۔










