گوگل نے خلا سے مصنوعی ذہانت کا پہلا شعری پیغام زمین پر بھیج کر تاریخ رقم کر دی

اتوار 1 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے خلا میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ کمپنی کے تجرباتی منصوبے’پروجیکٹ سن کیچر ‘کے سیٹلائٹ نے پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ ایک مختصر جاپانی طرز کی نظم (ہائیکو) زمین پر بھیجی ہے۔ اس کامیابی کو خلا میں اے آئی کمپیوٹنگ نظام قائم کرنے کے امکانات کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے مصنوعی ذہانت کا کاروبار ڈوبنے سے صارفین کے راز بھی خطرے میں، ذاتی چیٹس اور حساس معلومات فروخت ہوسکتی ہیں

گوگل کے مطابق سیٹلائٹ میں نصب ’ جیما ‘ (Gemma) اوپن ماڈل کو زمینی اسٹیشن سے رابطے کے دوران خلا میں موجودگی کے موضوع پر ہائیکو لکھنے کی ہدایت دی گئی۔ مصنوعی ذہانت نے نظم تیار کی، جسے سیٹلائٹ نے ناروے کے علاقے سوالبارڈ کے زمینی مواصلاتی مرکز کے ذریعے زمین پر منتقل کیا۔ نظم میں زمین کو نیلے سیارے، ڈیٹا کے بہاؤ کو خاموش سلسلے اور ستاروں کی روشنی کو اپنی توانائی کا ذریعہ قرار دیا گیا۔ اس کامیابی کے بعد خلا سے متعلق مختصر مزاحیہ نظمیں اور سیٹلائٹ کی تکنیکی کارکردگی سے متعلق معلومات بھی حاصل کی گئیں۔

گوگل کے چیف ایگزیکٹو سندر پچائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اس پیشرفت کو’پروجیکٹ سن کیچر کے لیے ہیلو ورلڈ‘کا سنگ میل قرار دیا۔ ان کے مطابق سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجے جانے کے بعد کامیابی سے کمانڈ ارسال کی گئی، اس میں نصب ٹی پی یو (TPU) فعال کیا گیا، مصنوعی ذہانت سے نظم تیار کرائی گئی اور مکمل جواب زمین پر موصول ہوا۔ یہ سیٹلائٹ یکم اکتوبر کو خلا میں بھیجا گیا تھا۔ ریفریجریٹر کے حجم کے اس تجرباتی سیٹلائٹ میں چار ٹی پی یو اور شمسی توانائی کا نظام نصب ہے۔

یہ بھی پڑھیے مصنوعی ذہانت نے تعلیم کا انداز بدل دیا، امریکی اساتذہ نے روایتی امتحانات کے بجائے نئے طریقے اپنا لیے

گوگل کا کہنا ہے کہ منصوبے کے اگلے مرحلے میں خلا کے درجہ حرارت میں شدید تبدیلیوں اور تابکاری کے اثرات کے دوران ٹی پی یو کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ کمپنی نے 2027 میں دو باہم منسلک سیٹلائٹس کے ذریعے مزید تجربات کرنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔ اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ جانچنا ہے کہ آیا مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے بڑے کمپیوٹنگ نظام زمین کے بجائے خلا میں قائم کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp