سابق وفاقی وزیر اطلاعات اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی ذمہ داری پوری نہیں کر سکیں اور یہ آج بھی ان پر بوجھ ہے۔
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گورننس کے مسائل ہیں اور اگر کراچی کا موازنہ لاہور سے کیا جائے تو کراچی کے حالات درست کرنے کی ضرورت ہے اور ان کی جماعت (پیپلز پارٹی) کو اس پر غور کرنا چاہیے۔
مزید پڑھیں: متوقع نئے صوبے: کیا نوجوانوں کو سیاست، سول سروس اور روزگار کے نئے مواقع مل سکیں گے؟
تاہم انہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ گورننس کی خرابی کا زمہ دار صرف صوبائی حکومتوں کو ٹھہرایا جا رہا ہے اور اس ضمن میں وفاق کا نام نہیں لیا جا رہا حالانکہ ریلوے، اسٹیل ملز اور بجلی جیسے کئی وفاقی اداروں میں مسائل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں گورننس کے مسائل حل کرنے کے لیے صرف صوبوں کی تقسیم کو علاج سمجھنا درست نہیں، بلکہ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کی کارکردگی، اختیارات کی تقسیم اور انتظامی ڈھانچے کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام جہاں ضروری ہو، وہاں آئین میں طے شدہ طریقۂ کار کے مطابق اور زیادہ سے زیادہ اتفاقِ رائے کے ساتھ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب اور ہزارہ جیسے علاقوں میں نئے صوبوں کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ سندھ میں صوبے کی تقسیم کی مخالفت بھی ایک اہم سیاسی حقیقت ہے۔
گورننس کا مسئلہ صرف صوبائی سطح تک محدود نہیں
قمر زمان کائرہ نے سوال اٹھایا کہ اگر گورننس کی بہتری ہی بنیادی مقصد ہے تو بحث صرف پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان جیسے بڑے صوبوں کو تقسیم کرنے تک کیوں محدود ہے؟ وفاقی حکومت کی کارکردگی اور مقامی حکومتوں کے مؤثر نظام پر بھی اسی سنجیدگی سے بات ہونی چاہیے۔
ان کے مطابق پاکستان میں حکومت کے تین درجے، یعنی وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح موجود ہیں، لیکن اختیارات کی مؤثر تقسیم اور بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام پر طویل عرصے تک خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے اپنے وعدے پورے کریں۔
انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا ایک نمایاں نظام متعارف کرایا گیا اور مقامی حکومتوں کو اہمیت دی گئی، تاہم ان کے خیال میں اس نظام کے ساتھ جمہوری اور سیاسی عمل کو محدود بھی کیا گیا۔
ان کے مطابق پاکستان میں ایک بنیادی مسئلہ یہ رہا ہے کہ فوجی حکومتوں نے بعض اوقات اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی کوشش کی، لیکن سیاسی جماعتیں اقتدار میں آنے کے بعد ایسا مؤثر اور پائیدار نظام قائم نہیں کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے سامنے اب بھی یہ ذمہ داری موجود ہے کہ وہ حقیقی جمہوری نظام کے ساتھ مؤثر مقامی حکومتوں کو یقینی بنائیں۔
نئے صوبوں کے قیام کے لیے بھارت کی مثال کا محتاط جائزہ ضروری
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ چھوٹے صوبوں کے معاملے پر بھارت کے ساتھ موازنے میں حقائق کو پرکھنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق بھارت میں مختلف ریاستیں لسانی، سماجی، سیاسی اور شناخت سے متعلق ضروریات کے تحت قائم کی گئیں۔ وہاں سکم جیسی چھوٹی ریاست اور اتر پردیش جیسی بڑی ریاست موجود ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستوں کی تشکیل کے لیے آبادی کا حجم واحد معیار نہیں ہوتا۔
جنوبی پنجاب اور ہزارہ صوبے کے مطالبات کا حوالہ
انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں نئے صوبے کا مطالبہ موجود ہے اور اس حوالے سے اسمبلی کی قرارداد بھی سامنے آچکی ہے۔ اسی طرح ہزارہ صوبے کے مطالبے پر بھی متعلقہ اسمبلی میں قرارداد پیش کی گئی تھی۔
ان کے مطابق ان مطالبات کو نظرانداز کرنے کے بجائے ان کی وجوہات، عوامی حمایت اور متعلقہ علاقوں کے سیاسی اتفاقِ رائے کا جائزہ لینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے میں تمام علاقوں پر ایک ہی فارمولا مسلط کرنے کے بجائے ہر علاقے کی تاریخی، سیاسی اور سماجی صورتِ حال کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
کراچی کو الگ صوبہ بنانے کے متعلق بات کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کو کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے اور اس مطالبے کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔ تاہم، اس کے لیے آئینی طریقۂ کار اختیار کرنا اور سندھ کے عوام سمیت متعلقہ فریقوں کو قائل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کی گورننس کے مسائل اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان مسائل کے حل کے لیے اختیار کردہ طریقہ کار بھی مناسب ہونا چاہیے۔ کسی ایک مسئلے کے علاج کے لیے ایسا حل تجویز نہیں کیا جانا چاہیے جو مزید پیچیدگیاں پیدا کردے۔
ایم کیو ایم کا کراچی کی نمائندگی کا دعویٰ درست نہیں
قمر زمان کائرہ نے ایم کیو ایم کی نمائندگی کے دعوے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کراچی ایک کثیرالقومی اور کثیرلسانی شہر ہے، جہاں اردو بولنے والوں کے علاوہ پشتون، بلوچ، پنجابی اور سندھی آبادی بھی موجود ہے۔ اردو بولنے والی آبادی بھی مختلف سیاسی جماعتوں میں تقسیم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کو اپنے مطالبے کے حق میں دلائل دینے اور دوسری جماعتوں کو قائل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، لیکن پورے کراچی کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے کے لیے دیگر آبادیوں اور سیاسی قوتوں کی حمایت بھی اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں نئے صوبے کے قیام کی مخالفت محض پیپلز پارٹی تک محدود نہیں رہی، بلکہ دیگر سیاسی جماعتیں بھی اس معاملے پر تحفظات رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق سندھ کی تقسیم کے حوالے سے عوامی جذبات کو سمجھنا اور ان کا احترام کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ بعض سیاسی رہنما اس معاملے پر جذباتی انداز میں بات کرتے ہیں، تاہم سیاسی اختلافات کا جواب دلیل، مکالمے اور عوامی حمایت سے دیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کسی بھی جماعت کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ دوسرے فریق کو اپنا مؤقف پیش کرنے سے روکے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ دلائل کے ذریعے عوام کو قائل کریں اور اختلافات کو جمہوری انداز میں حل کریں۔
تقریباً 8 دہائیوں بعد بھی گورننس کے مسائل برقرار
قمرزمان کائرہ نے کہا کہ پاکستان کے قیام کو تقریباً 8 دہائیاں گزرنے کے باوجود ملک کو گورننس، معیشت، بدعنوانی، مہنگائی اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
ان کے مطابق ان مسائل کی ذمہ داری صرف فوجی حکمرانوں یا صرف سیاسی جماعتوں پر نہیں ڈالی جاسکتی، بلکہ مختلف ادوار میں اقتدار میں رہنے والی قوتوں کو اپنی ذمہ داریوں کا جائزہ لینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ون یونٹ، مارشل لا اور صدارتی نظام سمیت ماضی کے مختلف تجربات کو گورننس بہتر بنانے کے لیے اختیار کیا گیا، لیکن ان سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اصلاحات کی کوششیں ترک کردی جائیں، بلکہ ماضی کے تجربات سے سیکھ کر بہتر راستہ اختیار کیا جائے۔
سیاسی خاندانوں کی بالادستی اور جماعتوں کے اندر جمہوریت کا فقدان
قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی خاندانوں کی بالادستی جمہوری نظام کی ایک بڑی رکاوٹ ہے، تاہم یہ مسئلہ صرف قانون سازی سے فوری طور پر ختم نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوری عمل، مضبوط تنظیمی ڈھانچے اور قیادت کے انتخاب کے مؤثر نظام کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق جب تک جماعتوں کے اندر اختلافِ رائے اور قیادت کو چیلنج کرنے کی گنجائش پیدا نہیں ہوگی، حقیقی جمہوری کلچر مضبوط نہیں ہوسکے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی خاندانوں کے علاوہ بعض علاقوں میں جاگیردارانہ اثرورسوخ، مذہبی شخصیات اور مقامی بااثر طبقات بھی سیاست پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں عام اور اہل افراد کے لیے سیاسی میدان میں آگے بڑھنا مشکل ہوجاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی قیادت اور ان کے تنظیمی ڈھانچے میں جمہوری رویوں کو فروغ دینا ضروری ہے۔ عوام کو بھی شخصیات اور خاندانوں کے بجائے اصولوں، کارکردگی اور پالیسیوں کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہییں۔
سیاسی تحریک کے ساتھ سماجی تحریک کی بھی ضرورت
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی تبدیلی کے لیے صرف سیاسی تحریکیں کافی نہیں، بلکہ ایک وسیع سماجی تحریک کی بھی ضرورت ہے جو عوام میں شہری ذمہ داری، قومی اخلاق اور بہتر فیصلہ سازی کا شعور پیدا کرے۔
ان کے مطابق تعلیم، سائنس اور سماجی تبدیلی نے یورپ میں روایتی طرزِ حکمرانی اور معاشرتی رویوں کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان میں بھی عوامی شعور اور سماجی رویوں میں تبدیلی کے بغیر بہتر نظامِ حکومت قائم کرنا مشکل ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی حکمران یا عوامی نمائندہ غلط قدم اٹھاتا ہے تو شہریوں کو اس کے خلاف اصولی مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے بقول ایسا جمہوری رویہ صرف قانون بنانے سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ مسلسل سماجی تربیت اور عوامی شعور سے فروغ پاتا ہے۔
28 ویں آئینی ترمیم اور نئے صوبوں کے معاملے پر حتمی مؤقف
28 ویں ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق امکانات پر بات کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا کہ یہ ایک وسیع معاملہ ہے جسے مختصر گفتگو میں مکمل طور پر واضح نہیں کیا جاسکتا۔
مزید پڑھیں: ملکی مسائل کے حل کے لیے نئے صوبے بنانا ناگزیر ہے، چین میں موجود پاکستانیوں کی رائے
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا مؤقف آئین میں دیے گئے طریقۂ کار کے مطابق آگے بڑھنے کا ہے۔ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کے اختلافات اور متعلقہ علاقوں کے عوامی جذبات کو سامنے رکھنا ہوگا۔
انہوں نے اس تاثر سے بھی اختلاف کیا کہ آئینی ترمیم کے بارے میں ابتدائی اندازوں کو حتمی سمجھ لیا جائے، کیونکہ ماضی میں بھی آئینی ترامیم کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں اور بعد میں سیاسی مذاکرات کے نتیجے میں معاملات آگے بڑھے۔









