وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند نہیں بلکہ ان سے صرف رہنمائی لے سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کی قانونی نظیر اسی صورت اختیار کی جاسکتی ہے جب وہ آئین اور قانون سے مطابقت رکھتی ہو۔
مزید پڑھیں:وفاقی آئینی عدالت نے ہمدرد لیبارٹری کو ایوریج بل بھیجنے کی لیسکو کی اپیل خارج کردی
وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواستوں کے دائرہ کار سے متعلق اہم اصول وضع کردیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ نظرثانی کا مقصد مقدمے کی دوبارہ سماعت یا پہلے سے طے شدہ نکات پر بحث کا ایک اور موقع فراہم کرنا نہیں، بلکہ ریکارڈ پر موجود واضح غلطی یا ایسی کوتاہی کی نشاندہی ہے جس سے انصاف متاثر ہوا ہو۔
عدالت نے واضح کیا کہ بلاجواز اور بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ ایسی درخواست دائر کرنے پر کم از کم 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے، جبکہ متعلقہ وکیل کے خلاف تادیبی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔
نظرثانی درخواست کے ساتھ وجوہات پر مبنی سرٹیفکیٹ اور سماعت کے لیے 50 ہزار روپے بطور سیکیورٹی جمع کرانا بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ لیو ٹو اپیل بذاتِ خود اپیل کا حق نہیں، بلکہ عدالت کی اجازت ملنے کے بعد ہی درخواست اپیل کی حیثیت اختیار کرتی ہے۔ لیو ٹو اپیل مسترد ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ لازماً ہائیکورٹ کے فیصلے کی توثیق کردی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:جعلی ڈگری کیس: وفاقی آئینی عدالت نے مبینہ جعلی ڈگری رکھنے والے ٹیچر کو نوٹس جاری کردیا
وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان ٹریڈنگ کمپنی کی نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے جمع کرائی گئی سیکیورٹی ضبط کرنے کا حکم بھی دیا۔ عدالت کے مطابق کمپنی نے ریکارڈ پر موجود کسی واضح غلطی کی نشاندہی نہیں کی، بلکہ پہلے سے اٹھائے گئے نکات ہی دوبارہ پیش کیے تھے۔










